انسانی حقوق کے عالمی دن پر مقبوضہ کشمیر میں یومِ سیاہ

اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2019

ای میل

بھارت نے 1989 سے لے کر اب  تک مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں  معصوم کشمیریوں کو قتل کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
بھارت نے 1989 سے لے کر اب تک مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں معصوم کشمیریوں کو قتل کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

دنیا بھر میں مقیم کشمیری انسانی حقوق کے عالمی دن پر یوم سیاہ منارہے ہیں جس کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کروانا ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے انسانی حقوق کے عالمی دن پر یومِ سیاہ منانے کی کال دی تھی۔

یومِ سیاہ کے موقع پر بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کے لیے مقبوضہ وادی میں مکمل شٹ ڈاؤن ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی تقسیم پر عملدرآمد، سڑکیں صحرا کا منظر پیش کرنے لگیں

اس حوالے سے جاری بیان میں سید علی گیلانی نے کہا کہ ’بھارتی حکمرانوں کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل میں موثر اور فعال کردارد ادا کرنے سے متعلق عالمی برادری کی ذمہ داری میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے'۔

’بھارت نے 95 ہزار 471 کشمیریوں کو قتل کیا‘

علاوہ ازیں سرکاری خبررساں ادارے ’اے پی پی ‘ کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی دن پر کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت نے 1989 سے لے کر اب تک مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 95 ہزار 4 سو 71 معصوم کشمیریوں کو قتل کیا جن میں 7 ہزار ایک سو 35 کشمیری دورانِ حراست جاں بحق ہوئے۔

اے پی پی کے مطابق کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے قتل کے مذکورہ واقعات کے نتیجے میں 22 ہزار 9 سو 10 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 7 ہزار 7 سو 80 بچے یتیم ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران بھارتی فورسز نے 11 ہزار ایک سو 75 خواتین کی بے حرمتی اور ایک لاکھ 94 ہزار 4 سو 51 املاک کو تباہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی 'غیر قانونی' تقسیم مسترد کردی

اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ عرصے کے دوران بھارتی فوجیوں اور پولیس نے 8 ہزار افراد کو دورانِ تحویل لاپتہ کیا۔

اے پی پی کے مطابق حریت رہنما محمد یسین ملک، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان سمیت کئی رہنما نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں جبکہ دیگر حریت رہنما پبلک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کے تحت بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں نظر بند ہیں۔

علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ، فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، انجینئر رشید احمد سمیت سیکڑوں دیگر پارٹی رہنماؤں کو بھی 4 اگست کے بعد سے غیر قانونی طور پر نظربند کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی قابض انتظامیہ نے کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور میر واعظ عمرفاروق کو بھی طویل عرصے سے گھر میں نظر بند کیا ہوا ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں، یہاں تک کہ انہیں نمازِ جمعہ ادا کرنے اور عوامی اجتماعات سے خطاب کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ

واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور اس اقدام سے ایک روز قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ وہاں تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کردیے گئے تھے۔

بھارتی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 128 روز سے کرفیو جاری ہے اور دیگر پابندیاں برقرار ہیں جبکہ بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد نے وادی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔

31 اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت کے 5 اگست کے احکامات پر عمل درآمد کا آغاز ہوا تھا جس کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل ہوگیا تھا جس میں ایک جموں و کشمیر اور دوسرا بدھ مت اکثریتی لداخ کا علاقہ شامل ہے۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر نے کے بعد سخت سیکیورٹی کی موجودگی اور عوامی غم و غصے کے باوجود وادی پر براہِ راست وفاقی حکومت کی حکمرانی کے آغاز کے بعد مقبوضہ کشمیر اپنے پرچم اور آئین سے بھی محروم ہوگیا ہے۔