سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ، منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا، وزیرخارجہ

اپ ڈیٹ 13 دسمبر 2019

ای میل

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایلس ویلز نے افغانستان میں حالیہ صدراتی انتخاب سے متعلق بھی بات کی—فوٹو: ڈان نیوز
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایلس ویلز نے افغانستان میں حالیہ صدراتی انتخاب سے متعلق بھی بات کی—فوٹو: ڈان نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ سے معلومات کے تبادلے کا معاہدہ مثبت قدم ہوگا جس کے تحت منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مختلف امور پر بات کی اور کہا کہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ سے معلومات کے تبادلے کا معاہدہ مثبت اقدام ہوگا جس کے تحت منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ معاہدے سے قومی خزانے سے لوٹی گئی رقم کی واپسی میں معاونت ملےگی جبکہ پاکستان میں احتساب کا عمل بہتر ہوگا اور ملک میں کرپشن ختم ہوگی۔

'دنیا افغان امن عمل میں پاکستان کے تعمیری کردار کو تسلیم کرچکی ہے'

اپنی گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا افغان امن عمل میں پاکستان کے تعمیری کردار اور اس موقف کو تسلیم کرچکی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ابتدا ہی سے افغانستان میں مکمل امن کا خواہش مند رہا اور ہمیشہ تجویز دی کہ سیاسی مفاہمت سے افغان مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ترکی میں امریکی نائب سیکریٹری سے ملاقات ہوئی اور ایلس ویلز نے پاک-افغان تجارتی حجم بڑھانے پر زور دیا۔

مزیدپڑھیں: امریکا کے طالبان سے مذاکرات بحال، قطر میں مذاکرات کا پہلا دور

انہوں نے بتایا کہ میں نے ایلس ویلز سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں ایپکس کا اجلاس متوقع ہے، لہٰذا تجارت اور اقتصادیات، رابطہ کاری کا ایک ورکنگ گروپ ایسے ایجنڈے میں لے کر آئیں تاکہ اس پر بات چیت شروع ہو سکے۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایلس ویلز نے افغانستان میں حالیہ صدراتی انتخاب سے متعلق بھی بات کی۔

دوران گفتگو شاہ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'پاکستان نے ان صدارتی انتخاب میں کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ ہر ممکن سہولت پہنچائی'۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ 'افغان حکام کی درخواست پر طورخم پر کارگو کی نقل و حرکت کو بہتر اور آسان بنانے کے لیے سرحد 24 گھنٹے کھلی ہے'۔

افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور طالبان سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد انٹرا افغان مذاکرات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابل کی طرف سے بعض مسائل پر سخت موقف آتا ہے اور ہم بھی ترکی بہ ترکی جواب دے سکتے ہیں لیکن سازگار ماحول قائم رکھنے کے لیے جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔

'امراض قلب ہسپتال پر حملے سے صدمہ ہوا'

پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور میں امراض قلب ہسپتال (پی آئی سی) پر وکلا کے حملے سے ہر پاکستانی کو صدمہ ہوا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وکلا اور ڈاکٹرز دونوں پڑھے لکھے طبقے میں شامل ہوتے ہیں، لہٰذا اگر غلط فہمی ہوگئی تو اس کا قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔

مزیدپڑھیں: 'وزیراعظم نے ہسپتال پر حملے میں بھانجے کے شامل ہونے کی مذمت کی ہے'

انہوں نے کہا کہ دونوں طبقات کی کشیدگی سے سائلین اور مریض متاثر ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'دونوں طرف ذمہ دار افراد موجود ہیں جو فریقین کے مابین معاملہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں'۔

وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کسی کارروائی میں رکاوٹ نہیں ڈالی، انہوں نے قانونی اداروں اور انتظامیہ پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور تمام ادارے میرٹ پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

'مولانا فضل الرحمٰن کی پیشگوئی سے متفق نہیں'

ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ماضی میں بھی متعدد پیشگوئی کرچکے ہیں جو حقائق سے دور ثابت ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن جو کہنا چاہیں کہیں لیکن میں بصد احترام اختلاف رائے کرسکتا ہوں جبکہ ماضی میں بھی ان کی پیش گوئی درست ثابت نہیں ہوئی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'امید ہے کہ اب بھی ان کے اندازے درست ثابت نہیں ہوں گے'۔

بھارت میں شہریت ترمیمی بل پر تنقید

اپنی گفتگو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے ذریعے مسلمانوں پر ضرب لگائی گئی اور اب بھارت نے شہریت ترمیمی بل پاس کر کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ قانون بنیادی انسانی حقوق کی حق تلفی ہے اور پاکستان شہریت ترمیمی قانون کا بل مسترد کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے متنازع بل پر احتجاجاً اپنا دورہ بھارت منسوخ کیا۔

مزیدپڑھیں: بھارت: متنازع شہریت بل پر احتجاج جاری، بین الاقوامی سطح پر تنقید

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسی حکمت عملی پر کار فرما ہے جو خطے سمیت مسلم امہ کے مابین دوطرفہ تعلقات قائم کرے اور مسائل کی نشاندہی کے بعد اس کا سدبات ہوسکے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کا ایران، سعودی عرب، افغانستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مثبت کردار رہا ہے۔