امریکا کے طالبان سے مذاکرات بحال، قطر میں مذاکرات کا پہلا دور

07 دسمبر 2019

ای میل

رپورٹ کے مطابق طالبان کے ساتھ مذاکرات قطر میں ہوئے—فائل/فوٹو:اے پی
رپورٹ کے مطابق طالبان کے ساتھ مذاکرات قطر میں ہوئے—فائل/فوٹو:اے پی

افغانستان کے لیے امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے طالبان کے ساتھ رواں برس ستمبر میں تعطل کا شکار ہونے والے مذاکرات کو باقاعدہ طور پر بحال کردیے۔

خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات میں ابتدائی طور پر تشدد میں کمی اور مستقل جنگ بندی کے لیے طالبان کو قائل کرنے پر توجہ دی جائے گی اور زلمے خلیل زاد افغانستان کے اندر فریقین میں مذاکرات کی کوشش بھی کررہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے ساتھ ملاقات قطر میں ہوئی جہاں طالبان کا سیاسی دفتر بھی قائم ہے جبکہ اس سے قبل بھی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی سمیت دیگر سے مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں:امریکی صدر کا اچانک دورۂ افغانستان،طالبان سے جنگ بندی کی اُمید

زلمے خلیل زاد کی جانب سے افغان طالبان اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان کے اچانک دورے کے بعد شروع کیے گئے ہیں جہاں ٹرمپ نے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بحال ہوں گے۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات میں امریکی نمائندہ خصوصی تشدد میں کمی پر زور دے رہے ہیں دوسری جانب امریکی فوج نے اپنی معمول کی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی فضائی کارروائی میں 37 طالبان جنگجووں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کی نے انتہاپسندوں کے خلاف کارروائی میں دیگر 22 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

طالبان بھی افغانستان بھر میں قائم فوجی پوسٹس پر مسلسل حملے کررہے ہیں اور رپورٹس کے مطابق افغانستان کے آدھے حصے پر ان کا قبضہ ہے۔

افغانستان میں تشدد کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے 12ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں تاہم انہوں نے افغانستان کی پولیس اور فوج کو مضبوط کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:’امریکا، طالبان سے مذاکرات کا دوبارہ آغاز جلد کرے گا‘

افغان حکومت داخلی طور پر بھی اختلافات کا شکار ہے جہاں 2014 میں انتخابات کے بعد امریکا کی مداخلت سے اشرف غنی اور عبداللہ اور دیگر کے درمیان حکومتی عہدے تقسیم کیے گئے تھے لیکن رواں برس منعقدہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ان کے آپس میں اختلافات سامنے آچکے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی اپنے طور پر کامیابی کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ انتخابی نتائج کا اعلان تین مہینوں کے بعد بھی نہیں ہوسکا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس ستمبر میں افغانستان میں طالبان کی کارروائی میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد اچانک طے شدہ مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا تھا حالانکہ زلمے خلیل اور طالبان کے درمیان مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے تھے۔

زلمے خلیل زاد نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کی کوشش بھی کی تھی اور ایک دور منعقدہ ہوا تھا جس کے بعد طالبان نے اشرف غنی کی حکومت کو امریکی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔