سابق امریکی فوجیوں نے افغانستان سے انخلا کا مطالبہ کردیا

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2020

ای میل

قدامت پسند سابق فوجیوں کے گروہ کی جانب سے چلائی گئی اربوں ڈالر پر مبنی اس اشتہاری مہم میں جارحانہ انداز اپنایا گیا ہے — رائٹرز: فائل فوٹو
قدامت پسند سابق فوجیوں کے گروہ کی جانب سے چلائی گئی اربوں ڈالر پر مبنی اس اشتہاری مہم میں جارحانہ انداز اپنایا گیا ہے — رائٹرز: فائل فوٹو

امریکی دارالحکومت اور دیگر 3 ریاستوں میں نئی جنگ مخالف مہم نے واشنگٹن سے اپنی فوج گھر واپس بلانے کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قدامت پسند سابق فوجیوں کے گروہ کی جانب سے چلائی گئی اربوں ڈالر پر بنی اس اشتہاری مہم میں جارحانہ انداز اپنایا گیا ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو 2020 میں ووٹ کرنے والے افراد سمیت کئی حامی ہیں۔

تاہم اس مرتبہ 'کنسرنڈ ویٹرنز فور امریکا' (فکر مند سابق امریکی فوجی) نامی گروہ کی توجہ واشنگٹن میں پالیسی سازوں اور مشیگن، وسکونسن اور پینسلوانیا ریاستوں کے ووٹرز ہیں۔

ان ریاستوں کو سوئنگ ریاستیں کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں ریپبلکنز اور ڈیموکریٹز میں سے کسی کا بھی زیادہ اثر نہیں اور یہ ریاستیں صدارتی انتخابات میں فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ان علاقوں میں چلنے والے اشتہارات میں لکھا تھا کہ 'اب غیر ضروری تنازعات اور بد انتظامی پر مبنی جھگڑوں سے اپنی فوج کو واپس بلانے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا وقت ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے جلد 4 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا امکان

یہ بھی کہا گیا کہ 'امریکی فوج کو علیحدہ فوجی اڈوں میں رکھنا ہماری سلامتی کے لیے اب ناگزیر نہیں ہے'۔

مہم میں نشاندہی کی گئی کہ امریکا کے اب بھی تقریباً 14 ہزار کے قریب فوجی خطرناک راستے (افغانستان) پر ہیں جہاں 2001 سے اب تک 2 ہزار 400 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

سابق فوجیوں کا مہم میں مزید کہنا تھا کہ افغان جنگ میں جیت کا کوئی واضح راستہ نہیں اور اس پر 10 کھرب ڈالر سے زائد کی رقم خرچ ہوچکی ہے جو امریکی ٹیکس دہندگان نے ادا کی ہے۔

اشتہار کے مقاصد واضح ہیں جن میں 18 سال پرانی جنگ کا فوری خارتمہ اور افغانستان سے جلد از جلد امریکی فوجیوں کا مکمل انخلا شامل ہے۔

یہ تحریک موثر ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ٹرمپ کے دوبارہ انتخابات کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ امریکی صدر پہلے ہی فوجی انخلا کی حمایت کرتے آئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 کی اپنی انتخابی مہم میں افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کے انخلا کا وعدہ کیا تھا اور انتخابات میں دوبارہ جیتنے کے بعد اس کے لیے اقدامات بھی کیے۔

سابق فوجیوں کے مطابق طالبان امن معاہدے کے قریب ہیں اور انہوں نے بھی معاہدے میں فوجی انخلا کا مطالبہ کررکھا ہے اور ان کے مطابق امریکی ہونے کے ناطے یہی صحیح وقت ہے دباؤ ڈالنے کا۔

مزید پڑھیں:امریکا ماضی کی طرح افغانستان کو نظر انداز نہ کرے، وزیر خارجہ

تاہم گزشتہ ہفتے واشنگٹن کے دورے کے دوران پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا تھا کہ فوری انخلا کے خطے پر 'خطرناک نتائج' سامنے آسکتے ہیں۔

انہوں نے واشنگٹن میں سینٹر فور اسٹریٹجک انٹرنیشنل اسٹڈیز سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'آپ نے ایسا 1980 میں بھی کیا تھا، آپ وہاں تھے اور پھر آپ چلے گئے تھے، 80 کی دہائی کو دوہرائیں مت'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ اگر کامیاب معاہدہ ہو بھی گیا تو چیلنجز برقرار رہیں گے جس کی وجہ سے امریکا اور اس سکے شراکت داروں کو ذمہ داری کے ساتھ فوجی انخلا کرنا ہوگا'۔

کابل میں پالیسی بنانے والوں کا کہنا تھا کہ فوری اور منصوبہ بندی کے بغیر انخلا سے افغانستان واپس بحران کا شکار ہوجائے گا، پاکستان اور افغانستان دونوں کی حکومتیں چاہتی ہیں کہ امریکا یہاں رہے، لڑنے کے لیے نہیں بلکہ دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے'۔