پابندی کے باجود گندم اور آٹے کی برآمد معما بن گئی

اپ ڈیٹ 06 فروری 2020

ای میل

ای سی سی نے جون 2019 میں ملک میں آٹے اور گندم کی فراہمی میں کمی کی نشاندہی کی تھی —تصویر: شٹر اسٹاک
ای سی سی نے جون 2019 میں ملک میں آٹے اور گندم کی فراہمی میں کمی کی نشاندہی کی تھی —تصویر: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: جولائی میں عائد کردہ پابندی کے باجود اکتوبر کے اختتام تک آٹے اور گندم کی برآمدات ایک معما بنی ہوئی ہے اور متعلقہ وزارتیں اس بارے میں کوئی وضاحت دینے سے گریزاں ہیں۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گزشتہ برس جون میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ملک میں آٹے اور گندم کی فراہمی میں کمی ہوجائے گی لیکن اس مسئلے کو پس پشت ڈالتے ہوئے نہ تو اس کی برآمد رکی اور نہ ہی آٹے سے دیگر اشیا مثلاً سوجی اور میدہ تیار کرنے کا سلسلہ رکا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جولائی کے اواخر سے نومبر کے پہلے ہفتے تک وزارت تحفظ خوراک اور وزارت تجارت کی جانب سے ان اشیا کی برآمدات روکنے کے متعدد نوٹیفکیشن جاری کیے گئے لیکن کسی حد تک انہیں پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے مرتب کردہ اعداد و شمار میں رپورٹ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں گندم کا بحران: معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم

مقامی منڈیوں میں آٹے اور گندم کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ای سی سی نے 17 جولائی 2019 کو گندم اور آٹے کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے عمل میں مزید 13 دن لگ گئے اور 30 جولائی کو نوٹیفکیشن جاری ہوا۔

اس کے ایک ہفتے بعد وزارت تحفظ خوراک نے ایک وضاحت جاری کی کہ گندم سے تیار کی جانے والی دیگر اشیا مثلاً فائن آٹا، میدہ اور سوجی اس پابندی سے مستثنٰی ہیں، پابندی سے اس استثنٰی اور نرمی نے ان اشیا کی برآمد کی راہ ہموار کردی۔

پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2019 میں 2 ہزار 60 ٹن گندم جبکہ اکتوبر میں ایک ہزار 887 ٹن گندم برآمد کی گئی تاہم اگست میں گندم کی کوئی برآمد نہیں ہوئی۔

دوسری جانب پاکستان سے جون اور جولائی میں میں 89 ہزار 237 ٹن گندم برآمد کی گئی تاہم پی بی ایس کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار میں آٹے اور گندم کی برآمد کو علیحدہ علیحدہ ظاہر نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: 'گندم کی افغانستان اسمگلنگ میں ملوث دو سرکاری افسران کو معطل کیا گیا'

ڈان کی نظر سے گزرے سرکاری دستاویزات کے مطابق جولائی میں 53 ہزار 393 ٹن، اگست میں ایک ہزار 179 ٹن، ستمبر میں ایک ہزار 36 ٹن اور اکتوبر میں 23 ہزار 991 ٹن آٹا برآمد کیا گیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محکمہ کسٹم نے اس بات کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے کہ پابندی کے باوجود یہ اشیا کس طرح برآمد کی گئیں۔

اس ضمن میں سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزارت تجارت نے یہ معاملہ ایف بی آر کے ساتھ اٹھایا تھا لیکن ادارہ وزارت کو برآمدات کے اعداد و شمار فراہم کرنے سے گریزاں تھا جس میں کچھ ’خصوصی کمپنیاں‘ ملوث ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کسٹم پابندی کے باوجود گندم برآمد کرنے والی کمپنیوں کی تفصیلات دینے کے لیے تیار نہیں تاہم شاید یہ معلومات وزیراعظم سیکریٹریٹ کو فراہم کردی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں آٹے کا شدید بحران، ارباب اختیار ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے لگے

جولائی سے اکتوبر تک جاری رہنے والی یہ برآمدات انڈونیشیا، سری لنکا اور افغانستان کو کی گئیں۔

محکمہ کسٹم کے پاس گندم کی دیگر اشیا مثلاً فائن آٹا، میدہ اور سوجی کی برآمدات کے اعداد و شمار موجود ہیں تاہم وہ کسی کو فراہم نہیں کیے گئے جبکہ پی بی ایس کے اعداد و شمار میں ان اشیا کی برآمدات کو علیحدہ علیحدہ نہیں درج کیا گیا۔

دوسری جانب محکمہ تحفظ نباتات (ڈی پی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2019 سے 19 اکتوبر 2019 تک جب وزارت تحفظ خوراک نے برآمد کرنے کی اجازت دی تو 5 ہزار 928 ٹن میدہ برآمد کیا گیا جبکہ ستمبر سے اکتوبر کے درمیان سوجی کی برآمدات 92 ٹن ریکارڈ کی گئی۔

ڈی پی پی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے گندم کی ڈالیاں، پراٹھے اور سویاں بھی برآمد کیں۔

مزید پڑھیں: گندم کی قلت کی پیشگی اطلاعات کے باوجود حکومت نے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے

جنوری 2019 سے جنوری 2020 تک 2 لاکھ 47 ہزار 366 ٹن گندم کی ڈالیاں، ایک ہزار 571 ٹن پراٹھے اور 4 ہزار 233 ٹن سویاں برآمد کی گئیں، واضح رہے کہ ان اشیا کی براؔٓمدات پر پابندی نہیں ہے۔