معاہدہ طے پانے کے امکانات روشن، طالبان کا عارضی جنگ بندی پر اتفاق

اپ ڈیٹ 14 فروری 2020

ای میل

اشرف غنی نے عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت میں قابل ذکر پیش رفت ہونے کا اشارہ دیا تھا —فائل فوٹو: اے پی
اشرف غنی نے عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت میں قابل ذکر پیش رفت ہونے کا اشارہ دیا تھا —فائل فوٹو: اے پی

برسلز: طالبان نے افغانستان میں 7 دن کے لیے پرتشدد کارروائیوں میں کمی کرنے پر اتفاق کیا ہے جس سے امریکا کو امید ہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔

جنگ بندی پر رضامندی کا حالیہ اعلان ایک امریکی عہدیدار نے کیا، جس سے ایک روز قبل ہی افغان صدر اشرف غنی نے عسکریت پسندوں کے ساتھ بات چیت میں ’قابل ذکر پیش رفت‘ ہونے کا اشارہ دیا تھا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق برسلز میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس کے بعد امریکی سیکریٹری دفاع مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ ’امریکا اور طالبان نے 7 روز کے لیے پرتشدد کارروائیوں میں کمی پر بات چیت کی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سب کا یہی کہنا ہے کہ افغانستان کا حل سیاسی سمجھوتہ ہے، جو اگر واحد حل نہیں تو سب سے بہترین ضرور ہے، اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے اور ہم جلد اس حوالے سے مزید بتائیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: افغان امن عمل: امریکا، طالبان رواں ماہ معاہدے پر دستخط کرسکتے ہیں، رپورٹس

تاہم امریکی سیکریٹری دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ عارضی جنگ بندی کا آغاز کب ہوگا جبکہ ایک طالبان عہدیدار نے اس سے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ جمعے سے ’پرتشدد کارروائیوں میں کمی‘ کردیں گے۔

مارک ایسپر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری نظر میں ابھی 7 روز کافی ہیں لیکن ان تمام باتوں پر عمل کے حوالے سے ہمارا نقطہ نظر حالات پر منحصر ہے، میں ایک بار پھر کہوں گا کہ حالات پر منحصر ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس لیے اگر ہم آگے بڑھے تو جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے یہ ایک مسلسل جانچنے کا عمل ہوگا‘۔

دوسری جانب امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’گزشتہ کچھ دنوں کے دوران بات چیت میں حقیقی پیش رفت ہوئی ہے‘۔

مزید پڑھیں: امریکا کا افغان امن عمل میں مدد سے متعلق پاکستان کی یقین دہانی کا خیرمقدم

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ ہم اس سطح پر پہنچ سکتے ہیں کہ جہاں ہم نہ صرف کاغذوں پر بلکہ عملی طور پر پرتشدد کارروائیوں میں واضح کمی دیکھ سکیں‘۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ’اگر ہم وہاں تک پہنچ گئے اور کچھ عرصے تک یہ صورتحال برقرار رکھ سکے تو ہم ایک حقیقی اور سنجیدہ بات چیت کا آغاز کرسکیں گے جس میں آگے بڑھنے کا راستہ اور ایک حقیقی مفاہمت کی تلاش میں تمام افغان (فریقین) ایک میز پر ہوں گے‘۔

ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی اور طالبان عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ معاہدے کی مشروط منظوری دے دی ہے تا کہ وہ امریکی افواج کا انخلا شروع کرسکیں۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ’یہ بات چیت کا پیچیدہ دور ہوگا جو طویل عرصے سے زیر التوا تھا جس سے ہمیں نہ صرف امریکی بلکہ تمام افواج کے قدموں کے نشان کم کرنے کا موقع ملے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’افغان اور طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات ہونے تک کابل میں امن نہیں ہوسکتا‘

یاد رہے کہ ستمبر 2001 میں نیویارک کے ٹوئن ٹاور پر حملے کے بعد امریکا کی جانب سے افغانستان پر چڑھائی کردی گئی تھی جس کے 18 برس گزر جانے کے بعد اب بھی جنگ زدہ ملک میں 12 سے 13 ہزار امریکی فوجی اہلکار موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منصب سنبھالنے سے قبل انتخابی مہم میں اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا کریں گے۔

لہٰذا افواج کے انخلا کی راہ ہموار کرنے اور افغانستان میں 18 برس سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان ستمبر 2018 میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔

ان مذاکرات میں گزشتہ برس طالبان کے حملے میں امریکی فوجیوں کے ہلاکت سے تعطل آگیا تھا تاہم دسمبر میں بات چیت کا سلسلہ بحال ہوا تھا جس کے بعد اب دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ طے پانے کے امکانات روشن ہیں۔