بھارت: ملازم خواتین کو برہنہ کرکے ’میڈیکل ٹیسٹ‘ کیے جانے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020

ای میل

خواتین ملازمین کا فنگر ٹیسٹ بھی کیا گیا — فائل فوٹو: آئی اسٹاک
خواتین ملازمین کا فنگر ٹیسٹ بھی کیا گیا — فائل فوٹو: آئی اسٹاک

چند روز قبل بھارت کی ریاست گجرات کے ضلع کچھ کے ایک گرلز کالج میں 68 لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کی ماہواری کی جانچ کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

لڑکیوں کی ماہواری کی جانچ کرنے کا واقعہ میڈیا پر آنے کے بعد حکام نے کارروائی کرتے ہوئے گرلز کالج کی پرنسپل سمیت دیگر ملازمین کو گرفتار کرلیا تھا۔

اور اب گجرات سے ہی خواتین کے ساتھ مزید انتہائی شرمناک عمل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

گجرات کے شہر سورت کے ایک سرکاری ہسپتال میں ٹرینی ملازم خواتین کو گروپ کی شکل میں برہنہ کرکے ان کا میڈیکل ٹیسٹ لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق سورت میونسپل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (ایس ایم آئی ایم ای آر) میں کم سے کم 100 ٹرینی خواتین ملازمین کو گروپس کی شکل میں برہنہ کرکے ان کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جن 100 خواتین کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا وہ تمام سرکاری ٹرینی ملازمین تھیں جنہوں نے تین سال تک تربیت حاصل کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری قواعد و ضوابط کے تحت تمام سرکاری مرد و خواتین ملازمین کا میڈیکل فٹنیس ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور اسی سلسلے میں مذکورہ خواتین کو سورت کے سرکاری ہسپتال میں ٹیسٹ کے لیے بلایا گیا تھا۔

متاثرہ خواتین نے دعویٰ کیا کہ ہسپتال کے جن کمروں میں برہنہ کرکے ٹیسٹ کیا گیا ان کے دروازے بھی ٹوٹے ہوئے تھے— فوٹو: دکن کیرونیکل
متاثرہ خواتین نے دعویٰ کیا کہ ہسپتال کے جن کمروں میں برہنہ کرکے ٹیسٹ کیا گیا ان کے دروازے بھی ٹوٹے ہوئے تھے— فوٹو: دکن کیرونیکل

جن خواتین کو برہنہ کرکے میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا ان میں کئی خواتین غیر شادی شدہ بھی تھیں تاہم میڈیکل چیک اپ کرنے والی لیڈی ڈاکٹرز نے تمام خواتین سے ایک جیسے ہی نامناسب سوالات بھی پوچھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ خواتین ملازمین کے کئی گروپس بنائے گئے اور ہر گروپ میں 10 خواتین کو شامل کیا گیا اور انہیں ایک کمرے میں برہنہ کرکے ان کا ٹیسٹ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: ماہواری کی جانچ کیلئے طالبات کو زیر جامہ اتارنے پر مجبور کردیا گیا

خواتین ملازمین کا ’فنگر ٹیسٹ‘ بھی کیا گیا اور مذکورہ ٹیسٹ کئی سال سے تمام خواتین ملازمین کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔

جن خواتین کا ٹیسٹ کیا گیا انہوں نے نامناسب انداز میں ٹیسٹ کرنے کی شکایت ملازمین کی یونین کو دی اور تنظیم کے سربراہ نے ضلعی حکومتی افسران سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

تنظیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ خواتین نے بتایا کہ لیڈی ڈاکٹرز نے انہیں گروپس کی شکل میں برہنہ کرکے، جہاں ان کا فنگر ٹیسٹ کیا، وہیں ان سے حمل سمیت دیگر طرح کے ذاتی سوالات بھی پوچھے۔

یونین کے سربراہ کے مطابق لیڈی ڈاکٹرز نے غیر شادی شدہ خواتین سے بھی حمل سے متعلق پوچھا اور ان سے سوالات کیے گئے کہ کیا وہ کبھی حاملہ ہوئی ہیں۔

یونین سربراہ اور خواتین کی جانب سے شکایت موصول ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تفتیش کے لیے تین رکنی اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی تاہم دوسری جانب خواتین ملازمین کا میڈیکل ٹیسٹ کرنے والی لیڈی ڈاکٹرز نے الزامات کو مسترد کردیا۔

ٹیسٹ کرنے والی لیڈی ڈاکٹرز کے مطابق وہ کئی سال سے اسی انداز میں ملازمین کے ٹیسٹ کرتی آئی ہیں اور انہوں نے اس بار بھی کوئی نامناسب عمل نہیں کیا، ان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔