’امیر لوگ غریبوں سے شادی کریں تو غربت ختم ہوجائے گی‘

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020

ای میل

انڈونیشیا میں عام طور پر دلہا اور دلہن کا ایک ہی طبقے سے تعلق ہوتا ہے — فوٹو: نیشنل کلاتھنگ
انڈونیشیا میں عام طور پر دلہا اور دلہن کا ایک ہی طبقے سے تعلق ہوتا ہے — فوٹو: نیشنل کلاتھنگ

آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا کے ثقافتی و انسانی ترقی کے وفاقی وزیر 63 سالہ مہادجیر آفندی نے اپنے عوام کو تجویز دی ہے کہ اگر انڈونیشیا کے امیر لوگ غریبوں سے شادی کریں تو ملک سے غربت ختم ہو سکتی ہے۔

انڈونیشیا کی آبادی 27 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق وہاں کی 45 فیصد آبادی متوسط طبقے کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔

ملک سے غربت ختم کرنے یا ملک میں متوسط افراد اور امیروں کی تعداد بڑھانے کے لیے انڈونیشیا گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے کوشاں ہیں تاہم 15 سال میں حکومتی منصوبوں کی وجہ سے محض 13 فیصد افراد ہی متوسط طبقے میں شامل ہوئے ہیں۔

حکومتی کوششوں کی وجہ سے گزشتہ 15 سال میں صرف 5 فیصد آبادی ہی غربت کی سطح سے اوپر آئی ہے تاہم اب بھی انڈونیشیا کی بہت بڑی آبادی امیر اور خوشحال بننے سے کافی دور ہے۔

لیکن حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں صرف 50 لاکھ افراد ہی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ملک سے غربت کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں تاہم حکومت کو متوقع کامیابیاں نہیں ملیں اور اب حکومت نے ایک منفرد تجویز پیش کرتے ہوئے امیر افراد کو تجویز دی ہے کہ وہ غریبوں سے شادی کریں۔

انڈونیشیا کے اخبار ’جکارتا پوسٹ‘ نے اپنی خبر میں ایک اور نیوز ویب سائٹ کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ثقافتی و انسانی ترقی کے وزیر مہادجیر آفندی نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران ملک سے غربت ختم کرنے کا دلچسپ فارمولہ پیش کیا۔

وفاقی وزیر کے مطابق امیروں اور غریبوں کی شادی میں کوئی برائی نہیں —فوٹو: جکارتا پوسٹ
وفاقی وزیر کے مطابق امیروں اور غریبوں کی شادی میں کوئی برائی نہیں —فوٹو: جکارتا پوسٹ

وفاقی وزیر مہادجیر آفندی نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر انڈونیشیا کے تمام امیر لوگ غریب افراد سے شادی کرلیں تو وہ نہ صرف معاشی طور پر مستحکم ہوں گے بلکہ ملک سے غربت بھی ختم ہوگی۔

انہوں نے علما پر مبہم تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات مذہبی لوگ شادی کے حوالے سے غلط کہتے ہیں کہ دلہا اور دلہن ہم عمر ہونے سمیت ایک ہی طبقے سے ہوں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی برائی نہیں کہ امیر لوگ غریبوں سے شادی کریں۔

انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ اس حوالے سے انڈونیشیا کی مذہبی امور کی وزارت کو اس حوالے سے ایک شرعی فرمان بھی جاری کرنا چاہیے جس میں واضح کیا جائے کہ امیر لوگ غریبوں سے ہی شادی کریں۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی امور کی وزارت بیان میں لوگوں پر واضح کرے کہ غریب لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر امیروں سے شادی کریں اور امیر غریبوں کو اپنا جیون ساتھی بنائیں۔

مہادجیر آفندی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بعض بے روزگار افراد کو شادی سے قبل حکومت کی مہم سے فائدہ اٹھاکر اسے شادی سے قبل والا روزگار کارڈ حاصل کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر کے مطابق شادی سے قبل روزگار کارڈ حاصل کرنے سے شادی کے بعد جوڑے کو مالی مشکلات پیش نہیں آئیں گی اور وہ مستقبل میں غربت سے دور ہو سکیں گے۔

انہوں کہا کہ شادی سے قبل روزگار یا الاؤنس کے منصوبے انڈونیشیا سے قبل جنوبی کوریا، ملائیشیا اور سنگاپور جیسے ممالک میں بھی شروع کیے گئے اور ان سے وہاں غربت کم ہوئی۔