سونے کی فی تولہ قیمت 93 ہزار 650 روپے کی نئی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی

اپ ڈیٹ 22 فروری 2020

ای میل

عالمی مارکیٹ میں یہ قیمت 23 ڈالر فی اونس اضافے کے بعد ایک ہزار 635 ڈالر ہوگئی—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
عالمی مارکیٹ میں یہ قیمت 23 ڈالر فی اونس اضافے کے بعد ایک ہزار 635 ڈالر ہوگئی—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

کراچی: جنوبی کوریا میں نئے کورونا وائرس کے باعث عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر پڑتے ہوئے بھی نظر آئے اور سونے کی فی تولہ قیمت 93 ہزار 650 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ 10 گرام سونا 80 ہزار 290 تک کا ہوگیا۔

دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں یہ قیمت 23 ڈالر فی اونس اضافے کے بعد ایک ہزار 635 ڈالر ہوگئی۔

اس سے قبل جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کے باعث فی تولہ قیمت 93 ہزار 400 روپے اور 10 گرام سونے کی قیمت 80 ہزار 75 روپے ہوگئی تھی۔

خیال رہے کہ سونے کی قیمتوں میں ایک سال سے زائد عرصے سے اضافہ ہورہا ہے اور یکم جنوری 2019 سے فی تولہ قیمت میں 25 ہزار 850 روپے جبکہ سونے کی 10 گرام قیمت میں 22 ہزار 162 روپے اضافہ دیکھا گیا جبکہ عالمی سطح پر فی اونس سونے کی قیمت میں 352 ڈالر کا اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سونے کی قیمت میں 2600 روپے فی تولہ اضافہ

خیال رہے کہ اس اضافے سے قبل فی تولہ سونے کی قیمت 67 ہزار 800، فی 10 گرام قیمت 58 ہزار 128 روپے اور ایک ہزار 283 ڈالر تھی۔

بی آئی پی ایل سیکیورٹیز کے مطابق جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے محفوظ اثاثوں کی طلب بڑھنے کی وجہ سے جمعے کو سونے کی قیمت 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔

واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں کورنا وائرس کے 52 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی تعداد 156 ہوگئی تھی جبکہ جاپان نے چین سے جانے والے متاثرہ بحری جہاز میں پہلی ہلاکت رپورٹ کی۔

دوسری جانب سونے کی قیمت میں اضافے سے متعلق آل سندھ صرافہ ایسوسی ایشن (اے ایس ایس جے اے) کے صدر حاجی ہارون رشید چند نے کہا کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے نے پہلے ہی خریداروں کو بازار سے دور کردیا ہے کیوں کہ بڑھتی ہوئی قیمت کے باعث وہ ان کے لیے قابِل خرید نہیں۔

مزید پڑھیں: سونے کی قیمت 90 ہزار 8 سو روپے فی تولہ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کار بھی کنارے لگتے جارہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ دبئی کے مقابلے میں سونا 2000 ہزار روپے فی تولہ کم قیمت میں فروخت کیا جارہا ہے۔

ادھر آل پاکستان جیولری ایسوسی ایشن (اے پی جے اے) کے چیئرمین محمد ارشد کا کہنا تھا شادیوں کے سیزن کے عروج میں بھی دکانیں خالی ہیں کیوں کہ خریدار بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پریشان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ برس قبل تک دولت مند خاندان عموماً 50 سے 80 گرام کا دلہن کا سیٹ بنواتے تھے اور اب انہیں 20 سے 30 گرام سونا خریدنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

محمد ارشد کا کہنا تھا کہ جن افراد کی قوت خرید کم ہے وہ پرانے زیورات کے ڈیزائن تبدیل کروانے آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں سونے کی قیمت 88 ہزار روپے تولہ کی ریکارڈ سطح عبور کر گئی

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 2020 کے دوران سونے کی درآمدات گزشتہ برس کے 248 کلوگرام(97 لاکھ ڈالر) کے مقابلے کم ہو کر 240 کلو گرام (ایک کروڑ ڈالر) ہوگئی۔

علاوہ ازیں ملک میں زیورات کی درآمدات بھی گزشتہ برس کے 34 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 17 فیصد کم ہو کر 28 لاکھ ڈالر ہوگئی۔


یہ خبر 22 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔