سوشل میڈیا کو ’کنٹرول‘ کرنے کا حکومتی اقدام عدالت میں چیلنج

اپ ڈیٹ 22 فروری 2020

ای میل

وفاقی حکومت نے 28 جنوری کو سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد کی منظوری دی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی
وفاقی حکومت نے 28 جنوری کو سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد کی منظوری دی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی

حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے اقدام کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 28 جنوری کو سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد کی منظوری دی تھی۔

جس کے خلاف عدالت میں ایڈووکیٹ احسن ستی نے اپنی وکیل بیرسٹر جہانگیر خان جدون کے ذریعے درخواست دائر کی۔

درخواست میں کہا گیا کہ 1948 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منظور شدہ یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس کے مطابق آزادی اظہار رائے ہر ایک کا حق ہے، اس حق میں بغیر کسی مداخلت کے رائے رکھنے اور سرحدوں سے قطع نظر کسی بھی میڈیا کے ذریعے غیر جانبدار معلومات وصول کرنا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی سوشل میڈیا قواعد پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کی ہدایت

درخواست میں کہا گیا کہ معاشرے میں آزادانہ روابط رکھنے کی آزادی کا معیار معاشرے کی ترقی کے ساتھ جمہوریت اور معاشرے کی مضبوطی پر گہرا اثر رکھتا ہے۔

مذکورہ درخواست کے مطابق سیاسی تناظر میں آزادی رائے ہر قسم کے سیاسی مسائل پر بات کرنے کے لیے شہریوں کا قابلِ تنسیخ حق ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ’آئین پاکستان کے شہریوں کو دفعہ 19 کے تحت بنیادی اؔزادی رائے کی ضمانت دیتا ہے اور صرف ’قانون کے تحت نافذ‘ پابندیوں کی اجازت دیتا ہے۔

درخواست میں دیگر ممالک کے سوشل میڈیا قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی قابل ذکر جمہوری ملک میں سخت میڈیا پالیسی نافذ نہیں۔

مزید یہ کہ کسی ملک میں شاید ہی کوئی ایسا جامع قانون موجود ہے جو سوشل میڈیا کے تمام پہلوؤں کو ریگولیٹ کرتا ہو تاہم صنعت میں سرکاری عناصر کے حوالے سے قواعد و ضوابط موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: وکلا تنظیموں کا سوشل میڈیا ریگولیشن پر اظہار تشویش

درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کی غرض سے 28 جنوری 2020 کو وفاقی کابینہ نے سیٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 کی منظوری دی۔

مذکورہ درخواست میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے منظور کردہ قواعد معلومات حاصل کرنے کے بنیادی حق کے خلاف ہیں اور آئین میں شہریوں کی بنیادی حقوق کی دی گئی ضمانت سے بھی متصادم ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس قواعد میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنا دفتر بالخصوص ڈیٹا بیس سرورز پاکستان میں قائم کرنے اور رجسٹر کروانے کی شرط رکھی گئی ہے، ان قواعد کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا کو حکومت کے بلاواسطہ کنٹرول کے ذریعے قابو کرنا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ یہ قواعد آئین پاکستان، برقی جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سے سوشل میڈیا پر 'قد غن' نہ لگانے کا مطالبہ

جس کے بعد عدالت سے درخواست کی گئی کہ یہ قواعد چونکہ آئین کی دفعہ 19،اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے منظور کردہ انٹرنیشنل کنوینشن برائے سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس اور یورپی کنویشن برائے انسانی حقوق کی دفعہ 10 اور اس کے 5 پروٹوکول کے خلاف ہیں اس لیے انہیں کالعدم قرا دیا جائے۔

درخواست گزار نے کابینہ ڈویژن، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت قانون و انصاف کے سیکریٹریز اور پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کے چیئرمین کو فریق بنایا ہے۔


یہ خبر 22 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔