جسٹس عیسیٰ کیس میں حکومت کو کُل وقتی وکیل مقرر کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 25 فروری 2020

ای میل

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ—فائل فوٹو: عدالت عظمیٰ ویب سائٹ
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ—فائل فوٹو: عدالت عظمیٰ ویب سائٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں ایک نئے کل وقتی وکیل کو مقرر کرے کیونکہ نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور وزیر قانون فروغ نسیم کی جانب سے اس مقدمے کی پیروی نہیں کی جائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران نئے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون دونوں پیش ہوئے۔

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ نہ ہی اٹارنی جنرل اور نہ ہی وزیر قانون اس کیس میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کریں گے، ساتھ ہی یہ ہدایت کی کہ 30 مارچ کو جب کیس کی سماعت دوبارہ ہوگی تو حکومت کو کل وقتی وکیل مقرر کرنا چاہیے یا دوسری صورت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمٰن حکومت کی طرف سے اس کیس کی پیروی کریں گے۔

تاہم وزیر قانون صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کرنے والے بینچ کے سامنے پیش ہوں گے کیونکہ فروغ نسیم کا نام اس کیس میں شامل کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں جب وفاقی وزیر نے اس کیس میں اپنی ذاتی حیثیت پر اپنے دفاع اور وفاقی حکومت کی جانب سے دلائل دینے کے لیے عدالت سے اجازت مانگی تو جسٹس قاضی محمد امید احمد نے حیرت کا اظہار کیا کہ آیا اپنا عہدے سے دستبردار ہوئے بغیر وزیر، وفاقی حکومت کے لیے دلائل دے سکتا ہے، جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ 'اسی وجہ سے میں نے اجازت طلب کی' ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انہیں ہمیشہ عدالت سے رہنمائی حاصل ہوئی ہے۔

اسی دوران عدالت میں موجود سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے صدر سید قلب حسن نے اعتراض کیا اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح وزیر، وفاقی کابینہ کا دوبارہ حصہ بننے کے بعد کیس میں دلائل اور استدعا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب سے وہ دوبارہ کابینہ میں شامل ہوئے ہیں ان کا پریکٹسنگ سرٹیفکیٹ پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اور بار کونسلز رولز 1976 کے رول 108-0 کے تناظر میں معطل تصور ہوگا۔

نئے اٹارنی جنرل کی معذرت

حکومت نے خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل بنایا تھا — فائل فوٹو: اے پی پی
حکومت نے خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل بنایا تھا — فائل فوٹو: اے پی پی

قبل ازیں کیس کی سماعت کے دوران نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق کیس میں حکومت کی جانب سے پیروی کرنے سے معذرت کی۔

خیال رہے کہ وزارت قانون و انصاف نے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے استعفے کے بعد 22 فروری کو خالد جاوید کو نیا اٹارنی جنرل برائے پاکستان تعینات کردیا تھا۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کیس لڑنے سے معذرت کی اور کہا کہ اس کیس میں مفادات کا ٹکراؤ ہے۔

مزید پڑھیں: جسٹس عیسیٰ کا وزیراعظم سمیت نامور ملکی شخصیات پر آف شور کمپنیز بنانے کا الزام

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مقدمے میں وکیل مقرر کرنے کی درخواست دی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ اس درخواست کو قبول کیا جائے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن کی اس کیس کے حوالے سے تیاری ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ اگر ایڈیشنل اٹارنی جنرل دلائل دے سکتے ہیں تو آپ کو مزید تیاری کے لیے وقت دیتے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ نے 3 ہفتوں کا وقت مانگا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں ملکی مفاد کی خاطر ملک سے باہر جانا ہے لہٰذا 20 مارچ تک مزید وقت دیں کیونکہ وہ کسی ذاتی کام سے بیرون ملک نہیں جا رہے، اس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ مارچ میں ہم میں سے ایک جج کو بیرون ملک جانا ہے۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی میرے لیے مقدم ہے، عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے کوئی گمان ہوا تو آپ مجھے یہاں نہیں دیکھیں گے۔

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر جو کچھ ہوا ہم اسے قبول نہیں کرسکتے تھے، اس سماعت کے بعد کا نتیجہ آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ التوا دینے میں مسئلہ نہیں ہے لیکن اگلی سماعت پر کوئی التوا نہیں دیں گے، اگلی سماعت پر حکومتی وکیل عدالت کے سامنے پیش ہوں۔

سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے قرآن پاک کی سورۃ الحجرات اور سورۃ آل عمران کا بھی حوالہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: منیر ملک کا جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر توہین عدالت کے مقدمے کا مطالبہ

انہوں نے ریمارکس دیے کہ قرآن مجید وہ کتاب ہے جس سے رہنمائی لی جاتی ہے، ساتھ ہی انہوں نے قرآن پاک کی آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ سورۃ میں ہے کہ گمان نہ کرو یہ گناہ ہے، یہ بھی ہے کہ جاسوسی نہ کرو یہ بھی گناہ ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اخباروں میں خبر پڑھ کر دکھ ہوا، میں نے کچھ غلط نہیں کہا تھا بس میری آواز اونچی تھی۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو تنقید برداشت کرنی پڑتی ہے، ہم اپنے فیصلوں سے بولتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے مذکورہ معاملے پر التوا کو منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 30 مارچ تک ملتوی کردی۔

اس موقع پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کی جانب سے وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کا معاملہ بھی سامنے آیا جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے نائب صدر عابد ساقی کو کہا کہ ابھی آپ کی درخواست پر نمبر نہیں لگا۔

اس پر عابد ساقی نے کہا کہ ہمارا اس معاملے میں کوئی ذاتی مفاد نہیں۔

جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی 30 مارچ کو سنیں گے۔

کیس میں تنازع کب شروع ہوا؟

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر سماعت میں حکومت کی نمائندگی سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کر رہے تھے تاہم 18 فروری کو معاملے پر ان کے ایک بیان نے تنازع کھڑا کردیا تھا۔

18 فروری کو اپنے دلائل کے پہلے روز ہی صورتحال اس وقت ناخوشگوار ہوگئی تھی جب اٹارنی جنرل نے فل کورٹ کے سامنے ایک بیان دیا تھا، جس پر ججز نے انہیں استثنیٰ دیتے ہوئے بیان سے دستبردار ہونے کا کہا تھا، ساتھ ہی مذکورہ بیان کو ’بلا جواز‘ اور ’ انتہائی سنگین‘ قرار دیا تھا۔

ساتھ ہی اس بیان سے متعلق عدالت نے میڈیا کو رپورٹنگ سے روک دیا تھا۔

بعد ازاں 19 فروری کو جسٹس عیسیٰ کے معاملے پر عدالت عظمیٰ میں دوبارہ سماعت ہوئی تھی۔

اس سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ آپ نے اتنی بڑی بات کردی ہے، یہ دلائل کا طریقہ کار نہیں، تحریری طور پر اپنے دلائل دیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ تحریری دلائل نہیں دے سکتا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اٹارنی جنرل نے بینچ کے حوالے سے 18 فروری کو جو بیان دیا، اس حوالے سے مواد عدالت میں پیش کریں، اگر اٹارنی جنرل کو مواد میسر نہیں آتا تو تحریری معافی مانگیں۔

ساتھ ہی پاکستان بار کونسل نے ایک بیان میں اٹارنی جنرل سے غیر مشروط تحریری معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے 'غیر معمولی طرز عمل' پر استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

جس کے بعد 20 فروری کو انور منصور خان نے اٹارنی جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر مستعفی ہوئے جبکہ حکومت نے کہا تھا کہ ان سے استعفیٰ مانگا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس

واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: اٹارنی جنرل کے عہدہ سنبھالنے سے قبل حکومت، لا آفیسرز کے تقرر کیلئے کوشاں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ کی جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔

ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردار کشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔

بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ سماعت کررہا ہے۔