نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر بولی وڈ شخصیات کا اظہار افسوس

اپ ڈیٹ 26 فروری 2020

ای میل

متعدد اداکاروں نے حکومت سے امن بحال کرنے کا مطالبہ کیا — فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام
متعدد اداکاروں نے حکومت سے امن بحال کرنے کا مطالبہ کیا — فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون پر جاری احتجاج میں 24 فروری سے اس وقت شدت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے دورہ بھارت پر پہنچے اور پھر یہ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔

مذکورہ مظاہروں کے دوران 24 سے 26 فروری کی دوپہر تک ہونے والی کشیدگی میں کم سے کم 20 افراد ہلاک جب کہ 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔

مظاہروں نے دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی فسادات کی صورت اختیار کرلی اور ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر جان لیوا حملوں سمیت عبادت گاہوں پر بھی حملے کیے گئے۔

نئی دہلی میں ہونے والے فسادات پر جہاں پاکستانی سیاستدانوں نے مذمت کی وہیں دیگر ممالک کے اعلیٰ حکام اور امریکی سیاستدانوں نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مودی سرکار سے مطالبہ کیا کہ جلد سے جلد دارالحکومت میں امن بحال کیا جائے۔

عالمی سیاستدانوں کی طرح بھارت کی شوبز و میڈیا انڈسٹری کی شخصیات کی جانب سے بھی نئی دہلی میں ہونے والے فسادات کی آڑ میں مسلمانوں کے قتل عام پر اظہار افسوس کرتے ہوئے حکومت سے جلد سے جلد امن بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

فلم ساز مہیش بھٹ نے نئی دہلی میں ہجوم کی جانب سے ایک شخص پر بیہمانہ تشدد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’انہیں لگتا ہے کہ ہم اندھے نہیں ہونے جا رہے بلکہ ہم اندھے ہیں، ایسے اندھے ہیں جو سب کچھ دیکھ سکتے ہیں، ہم ایسے اندھے ہیں جو دیکھ تو سکتے ہیں مگر انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا ‘۔

اداکارہ ریچا چڈا نے نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر لکھا کہ ’ایک سچے ہندو ہونے کے ناطے انہیں دوسرے جنم پر یقین ہے اور انہیں یہ بھی یقین ہے کہ جلد ہی مظالم ڈھانے والوں پر عذاب اور بیماریوں کی صورت میں قہر نازل ہوگا اور ان کے ہاتھوں میں اپنا ہی خون ہے۔

فلم ساز، شاعر اور لکھاری جاید اختر نے بھی نئی دہلی میں مسلمانوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’منصوبہ بندی کے تحت دہلی میں فسادات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور سب لوگ ’تنگ نظر سیاستدان‘ کپل مشرا جیسے بن رہے ہیں، یہ فضا تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دہلی میں تشدد متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے ہوا اور پولیس جلد اس پر قابو پا لے گی۔

ماضی کی مست گرل روینہ ٹنڈن نے بھی دہلی فسادات پر ٹوئٹ کی اور تشدد کو کچھ شرپسند عناصر کی مرضی قرار دیا اور ساتھ ہی لکھا کہ اگر ہم میں تھوڑی سی بھی ہمدردی ہے تو ہم فسادات میں مرنے والے افراد کے لیے تعزیت کا اظہار کر سکتے ہیں کیوں کہ وہ لوگ کافی عرصے سے انتہائی دباؤ میں ہیں۔

فلم ساز ہنسل مہتا نے مختصر مگر انتہائی معنیٰ خیز ٹوئٹ کی کہ ’کوئی بھی احتجاج کرنے والا شخص فساد نہیں چاہتا اور کوئی بھی فسادی احتجاج نہیں کرتا'۔

اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی نئی دہلی میں ہونے والے فسادات پر ٹوئٹ کرتے ہوئے دہلی میں حال میں حکومت بنانے والی عام آدمی پارٹی سے وہاں قیام امن کا مطالبہ کیا۔

معروف خاتون صحافی عارفہ خانم شیروانی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے متعلق کی جانے والی ایک ٹوئٹ کو شیئر کرتے ہوئے تاریخی واقعے کو بیان کیا۔

عارفہ خانم شیروانی نے لکھا کہ ’جب روم جل رہا تھا تب نیرو بانسری بجا رہا تھا‘۔

معروف صحافی رانا ایوب نے بھی دہلی فسادات پر متعدد ٹوئٹس کیں اور بتایا کہ وہاں کی صورتحال کس قدر خراب ہے اور انتظامیہ کس قدر بے بس بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے ایک واقعے کی ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے تصدیق کے بعد مذکورہ ویڈیو لگائی ہے جس میں دہلی کے ہی ایک فرقے کے افراد کو مسجد کے مینار پر چڑھ کر وہاں توڑ پھوڑ کرنے کے بعد ہندو ازم کا جھنڈا لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔