کیا گرم موسم نئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک دے گا؟

28 فروری 2020

ای میل

— اے ایف پی فائل فوٹو
— اے ایف پی فائل فوٹو

جیسے جیسے نیا نوول کورونا وائرس دنیا میں پھیل رہا ہے، کچھ حلقوں کی جانب سے ایک سادہ حل بیان کیا جارہا ہے کہ گرم موسم اس وبا کو روک دے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیال 10 فروری کو ایک جلسے سے خطاب کے دوران سب سے پہلے پیش کرتے ہوئے کہا 'آپ جانتے ہیں، جب موسم تھوڑا گرم ہوگا، یہ وائرس کرشماتی طور پر غائب ہوجائے گا، یہ سچ ہے'۔

انڈونیشیا میں بھی حکام کے خیال میں گرم موسم ہی وہ وجہ ہے جس کے باعث اس ملک میں کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

انڈونیشین وزارت صحت کے اعلیٰ عہدیدار احمد یورانتو نے ممکنہ طور پر انڈونیشیا میں اب تک تشخیص نہ ہونے والے کیسز کے حوالے سے ایک تحقیق پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا 'انڈونیشیا کی آب و ہوا چین کی جیسی نہیں جو کہ نیم حاری (subtropical) ہے'۔

تو کیا گرم موسم واقعی کورونا وائرس کی روک تھام کرسکتا ہے؟

مگر وبائی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس عناصر موجود ہیں جو دیگر وائرسز کو گرم موسم میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتے ہیں مگر ایسا نئے کورونا وائرس کووڈ 19 کے ساتھ ہوگا یا نہیں، ابھی کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا، یہاں تک کہ درجہ حرارت میں اضافے سے وائرس کے پھیلاﺅ کی رفتار سست ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ ہمیشہ کے لیے غائب ہوگیا۔

موسمی نزلہ زکام اور فلو کیسز گرمیوں میں کم کیوں ہوجاتے ہیں؟

ایسے تناظر موجود ہیں جو اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ کووڈ 19 کا پھیلاﺅ موسم گرم میں تھم جائے۔

موسمی نزلہ زکام سردیوں اور بہار میں زیادہ ہوتا ہے جبکہ فلو یا انفلوائنزا خزاں اور سردیوں میں عام ہوتا ہے، اب تک ایسا معلوم ہوا ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس فلو اور موسمی نزلہ زکام کی طرح ہی منتقل ہوتا ہے یعنی متاثرہ افراد سے قریبی تعلق اور کھانسی یا چھینک کے دوران خارج ہونے والے ذرات سے۔

ویسے تو انفلوائنزا اور موسمی نزلہ زکام کی شرح میں گرم موسم میں کمی کی متعدد وجوہات ہیں، مگر ایک اہم ترین وجہ یہ ہے کہ گرم اور مرطوب موسم میں چھینک یا کھانسی کے دوران خارج ہونے والے ذرات سے وائرسز کا پھیلاﺅ مشکل ترین ہوتا ہے۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے وبائی امراض کے مرکز کی ڈائریکٹر ایلزبتھ میکگرا کے مطابق 'وائرس والے ذرات مرطوب ہوا میں زیادہ دیر تک نہیں رہ پاتے اور گرم موسم بہت تیزی سے وائرس کو ختم کرتا ہے'۔

گلوبل ہیلتھ پروگرام کے ڈائریکٹر تھامس بولیکی نے بتایا کہ گرم مہینوں میں انسانی سرگرمیاں بھی تبدیل ہوجاتی ہیں اور وہ کم وقت چار دیواری میں گزارتے ہیں، جس سے قریبی تعلق کا امکان کم ہوتا ہے جو وائرس کے پھیلاﺅ میں آسانی کا باعث بنتا ہے۔

تو کیا گرم موسم کووڈ19 کو روک سکے گا؟

طبی ماہرین اس حوالے سے پریقین نہیں کہ کورونا وائرس گرمیوں میں رک سکے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان اور چین سمیت دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں 83 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 2867 ہلاکتیں ہوئی ہیں، مگر 36 ہزار سے زائد افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

امریکی محکمہ صحت سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی ڈاکٹر نینسی میسیونیر نے اس تصور پر انتباہ کیا ہے کہ گرم موسم میں کیسز کی تعداد میں کمی آسکے گی 'میرے خیال میں یہ تصور کرنا قبل از وقت ہے، ابھی تو ہم اس وائرس کے پہلے سال سے بھی نہیں گزرے ہیں'۔

دیگر طبی ماہرین نے بھی اتفاق کیا کہ یہ قبل از وقت ہوگا اگر یہ کہا جائے گرم موسم وائرس کے پھیلاﺅ پر اثرانداز ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے متعدد عناصر ہوسکتے ہیں جو تعین کریں گے کہ کب اور کیسے یہ وبا تھم سکتی ہے، درحقیقت انفیکشن کنٹرول کے اقدامات، موسم، وائرس کے پھیلاﺅ کی شرح اور انسانی مدافعت مستقل میں اس حوالے سے کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ہانگ کانگ کے ماہر نکولس کا کہنا تھا کہ یہ کورونا وائرس ابھی نیا ہے اور لوگوں میں اس کے حوالے سے قدرتی مدافعتی موجود نہیں تو اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ماضی میں کورونا وائرسز کی دیگر 2 جان لیوا اسام یعنی سارز اور مرس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کووڈ 19 گرم موسم میں کس حد تک اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

گلوبل ہیلتھ پروگرام کے ڈائریکٹر تھامس بولیکیکا کہنا تھا 'ماضی میں کورونا وائرسز کی وبائیں میں کسی خاص موسم یا سیزن کے واضح شواہد نہیں ملے، سارز کی وبا جولائی میں ختم ہوئی مگر یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ موسم تھی، مرز میں بھی موسم کے اثرات کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہوئے'۔

دنیا میں ہر جگہ موسم گرما ایک ساتھ نہیں ہوتا

کورونا وائرسز کے زیادہ مریض چین، جنوبی کوریا، اٹلی، جاپان اور ایران میں نظر آئے ہیں جو خط استوا کے اوپری حصوں میں واقع ممالک ہیں، مگر یہ وائرس تمام براعظموں تک پھیل چکا ہے (بس انٹارکٹیکا اس میں شامل نہیں)، اس میں برازیل اور آسٹریلیا جیسے جنوبی کرہ زمین کے ممالک بھی شامل ہیں۔

ماہرین نے اتنباہ کیا ہے کہ اگر موسمی تبدیلی سے شمالی نصف کرہ میں کیسز کی تعداد میں کمی آتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دیگر مقامات میں اس کے پھیلاﺅ کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

ساﺅتھ کیرولائنا یونیورسٹی کی پروفیسر میلیسا نولان نے کہا 'جنوبی نصف کرہ میں سردیوں کا آغاز آئندہ چند ماہ میں ہوگا اور وہ ممکنہ طور پر اس وائرس کے پھیلاﺅ کے نئے ہاٹ اسپاٹ بن جائیں گے'۔

اگر گرم موسم میں وائرس سست ہوا تو بھی پلٹ سکتا ہے

ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر گرمیوں میں یہ وائرس کم متحرک ہوا تو بھی اس صورت میں پلٹ سکتا ہے جب پہلی بار وبا پھیلنے کے موقع پر اس پر کنٹرول نہیں کیا گیا۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر چارلس چیو نے کہا 'اگر مختلف ممالک میں اس کے پھیلاﺅ میں تیزی رہی تو اس وائرس کا خاتمہ بہت مشکل ہوجائے گا، ایسا بھی خطرہ ہے کہ یہ بعد میں سیزنل وائرس کی شکل اختیار کرلے'۔

انہوں نے 2009 میں سوائن فلو کی وبا کی جانب اشارہ کیا جو اس سال اپریل میں پھیلنا شروع ہوا اور انسانی آبادی میں مطابقت اختیار کرلی اور اب اکثر سر مہینوں میں واپس لوٹتا ہے۔

طبی ماہرین اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں حکام کو گرم موسم کے خیال پر مطمئن نہیں ہوجانا چاہیے، درحقیقت اس کی تشخیص اور علاج کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور ایسی پالیسیوں کا اطلاق کرنا چاہے جو اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی لاسکے۔