اٹلی میں کورونا وائرس کی علامات چھپانے پر شخص کو 12 سال قید

اپ ڈیٹ 18 مارچ 2020

ای میل

— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کسی شخص کو اپنی بیماری چھپانے پر کئی برس قید کی سزا کا سامنا ہو؟ مگر دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے نوول کورونا وائرس کے باعث ایسا ہونے والا ہے۔

درحقیقیت اٹلی میں ایک شخص کو 12 سال قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اس نے ناک کی سرجری کے لیے کورونا وائرس کی علامات کو چھپایا جس کے نتیجے میں متعدد ڈاکٹر اور نرسز بھی کووڈ 19 کا شکار ہوگئے۔

امریکی جریدے نیوز ویک نے اطالوی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ایک پروفیسر کی جانب سے اس شخص کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا جس نے تیزی سے پھیلنے والی وبا کو چھپایا۔

یہ واقعہ شمال مغر بی اٹلی کے علاقے اوستا کے پیرانی ہاسپٹل میں پیش آیا جہاں ایک شخص ناک کے عام آپریشن کے لیے آیا، مگر جب اسے آپریشن روم میں لے جایا گیا تو مریضوں کو بے ہونے کرنے کے ماہر نے جسمانی درجہ حرارت میں اضافے پر توجہ دی۔

اس کے بعد جب اس شخص کا ٹیسٹ کرایا یا تو اس میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوگئی جو اس وقت اٹلی میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جبکہ وہاں اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی شرح بھی دنیا کے دیگر ممالک سے بہت زیادہ ہے۔

تشخیص کے بعد اس شخص کو ہسپتال سے فارغٖ کرتے ہوئے گھر میں قرنطینہ کا مشورہ دیا یا مگر اس دوران نرس، ڈاکٹر اور ماہر میں یہ وائرس منتقل ہوچکا تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ وہ شخص ایک ریزورٹ میں کام کرتا تھا جہاں وہ شمالی اٹلی کے علاقے لمبارڈی سے تعلق رکھنے والے متعدد سیاحوں سے رابطے میں رہا۔

لمبارڈی وہ خطہ ہے جو اٹلی میں اس وبا کا مرکز مانا جارہا ہے اور ریزورٹ میں کام کے دوران ہی اس شخص میں کورونا وائرس کی علامات جیسے کھانسی ظاہر ہوچکی تھیں، مگر اسے ڈر تھا کہ اگر اس نے علامات کو رپورٹ کیا تو طبی حکام اس کی ناک کی سرجری کو التوا میں ڈال دیں گے۔

مقامی ہسپتال کے ریجنل سیکریٹر ریکارڈو بریچت نے وضاحت کی کہ آخر طبی ماہرین کے لیے کورونا وائرس سے بچنا اتنا ضروری کیوں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم طبی عملے کی صحت کو مانیٹر کریں، اس مقصد کے لیے ہمیں تمام تر حفاظی اقدامات کرنے چاہیے، جن کا اطلاق کرکے مستقبل میں اوستا ہاسپٹل میں اس طرح کے واقعے سے بچنا یقینی بنایا جائے گا۔

اٹلی میں اب تک 31 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ ڈھائی ہزار سے زائد ہلاکتیں اور 3 ہزار کے قریب صحت یاب ہوچکے ہیں۔