کورونا وائرس کے پیشِ نظر طبی آلات کی درآمدات ٹیکس سے مستثنیٰ

اپ ڈیٹ 21 مارچ 2020

ای میل

ان اشیا پر کسٹم ڈیوٹی پہلے  سے ہی معمولی تھی — تصویر: پی پی ایچ
ان اشیا پر کسٹم ڈیوٹی پہلے سے ہی معمولی تھی — تصویر: پی پی ایچ

اسلام آباد: حکومت نے تشخیص کرنے والے 61 اور پرسنل پروٹیکٹو ایکویپمنٹ (پی پی پیز) یا ذاتی تحفظ کے آلات کی درآمد کو 3 ماہ کے لیے تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز سے مستثنٰی قرار دے دیا تا کہ مقامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کیا جاسکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے حکومت نے عالمی بینک کے منصوبے میں تاحال استعمال نہ ہونے والے 4 کروڑ ڈالر کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے آلات کی خریداری کے لیے خرچ کرنے کی بھی اجازت دے دی۔

ڈیوٹی سے استثنیٰ کا فیصلہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جاری کردہ 3 مختلف نوٹیفکیشنز ایس آر او 235، ایس آر او 236 اور ایس آر او 237 کے ذریعے سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں: افواہوں کے بعد کلوروکوئن دوا بھی پاکستانی میڈیکل اسٹورز سے غائب

پاکستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے ان اشیا بالخصوص پی پی ایز کی مقامی مارکیٹ میں کمی کے باعث اس فیصلے کا انتظار تھا.

وائرس کی روک تھام کے لیے وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ وفاقی حکومت نے 4 کروڑ ڈالر کے غیر استعمال شدہ فنڈز کو عالمی بینک کے منصوبوں سے نکال کر کورونا وائرس کے لیے آلات کی خریداری کے لیے منظور کرلیا، اس میں 75 لاکھ ڈالر پنجاب، ایک کروڑ ڈالر سندھ، 70 لاکھ ڈالر خیبرپختونخوا، 20 لاکھ ڈالر بلوچستان اور ایک کروڑ 35 لاکھ ڈالر مرکز سے شامل ہیں۔

انہوں نے یہ واضح کیا کہ ان فنڈز کو صوبوں کے درمیان مختص وفاقی حکومت نے نہیں کیا بلکہ یہ صوبوں میں غیر استعمال شدہ فنڈز کا دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ہے جو وہی صوبے استعمال کریں۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: متاثرہ مریضوں سے رابطہ کرنیوالے 3 ڈاکٹرز قرنطینہ منتقل

جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے مطابق حکومت نے پی پی ایز مثلاً لباس، ماسکس، دستانوں، عینک اور سر ڈھانکنے کی ٹوپیوں کی درآمدات کو کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ کردیا۔

واضح رہے کہ ان اشیا پر کسٹم ڈیوٹی پہلے سے ہی معمولی تھی لیکن اس پر درآمدات کا 17 فیصد اسٹینڈرڈ سیلز ٹیکس لاگو ہوتا تھا جبکہ 4.5 سے 5 فیصد تک انکم ٹیکس کا نفاذ بھی ہوتا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے پاؤڈرڈ پیوریفائنگ ریسپائریٹرز، نائٹرائل گلوز، لیٹیکس گلوز، گاگلز، فیس شیلڈ، گن بوٹس، میکینٹوش بیڈ شیٹس، سرجیکل ماسکس، یئر کمپریسر کے ساتھ ملٹی موڈ وینٹیلیٹر، 21 بی پی کے ساتھ وائٹل سائن مانیٹر، آئی سی یو موٹرائزڈ بیڈ بمع کیبنٹ اور اوپری ٹیبل، سرنج انفیوژن پمپ، انفیوژن پمپ اور الیکٹرک سکشن مشین کی درآمدات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز ختم کردیے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں مزید کیسز سے ملک میں 495 افراد متاثر

اس کے علاوہ حکومت میڈیکل آلات کی برآمدات پر بھی پابندی لگائے گی اور وزارت تجارت کی جانب سے اب تک ماسکس کی برآمدات کا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا۔

نوٹیفکیشن کا ڈرافٹ اب تک محکمہ قانون کے پاس ہے جبکہ کسٹم حکام ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ایک مراسلے پر ماسکس کی برآمد روک چکے ہیں۔

اس کے ساتھ وزارت تجارت کو ایک لاکھ لیٹر فی ماہ 99۔9 فیصد خالص ایتھانول کی دستیابی بھی یقینی بنانی ہے اور اس مقصد کے لیے ایتھانول سے بنے ہینڈ سینیٹائزرز کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے مقامی مینوفیکچررز سے مشاورت کی جائے گی۔