کانز فلم فیسٹیول کی جگہ بے گھر افراد کے عارضی مسکن میں تبدیل

ای میل

جہاں ریڈ کارپٹ سجتا تھا وہاں بے گھر افراد کے لیے عارضی رہائش گاہ کا انتطام کیا گیا ہے—فوٹو: رائٹرز
جہاں ریڈ کارپٹ سجتا تھا وہاں بے گھر افراد کے لیے عارضی رہائش گاہ کا انتطام کیا گیا ہے—فوٹو: رائٹرز

دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کا اعزاز رکھنے والے معروف کانز فلم فیسٹیول کی انتظامیہ نے کچھ دن قبل 20 مارچ کو کورونا وائرس کی وجہ سے فلم کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تقریبا تین ہفتوں تک جاری رہنے والے کانز فلم فیسٹیول کا انعقاد رواں برس مئی میں 12 سے 23 مئی تک ہونا تھا تاہم کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے اسے ملتوی کردیا گیا تھا۔

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے نہ صرف کانز فلم فیسٹیول کو ملتوی کردیا گیا تھا بلکہ فرانس میں دیگر شوبز و فیشن کے پروگرامات کو بھی مؤخر یا منسوخ کردیا گیا تھا۔

کانز فلم فیسٹیول کو مؤخر کیے جانے کے بعد فلم انتظامیہ نے فیسٹیول کی جگہ کو عارضی طور پر فرانس کے بے گھر افراد کے عارضی مسکن میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اب انتظامیہ نے معروف فلم فیسٹیول کی جگہ کو عارضی رہائش گاہ میں تبدیل کردیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کانز فلم فیسٹیول کی جس جگہ ریڈ کارپٹ سجایا جاتا تھا اور دنیا بھر کے شوبز ستارے وہاں فلم فیسٹیول کے دوران اپنے جلوے بکھیرتے تھے وہاں اب بے گھر افراد کے لیے عارضی رہائش گاہیں قائم کی گئی ہیں۔

کانز فلم فیسٹیول انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ فوری طور پر بے گھر افراد کے لیے عارضی ٹھکانے کے بندوبست کرنے سمیت ان کے لیے کھانے پینے کا بندوبست بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے باعث کانز فلم فیسٹیول ملتوی

عہدیدار کے مطابق کانز فلم فیسٹیول کی جگہ بنائے گئے بے گھر افراد کے لیے عارضی مسکن میں ہر رات 50 سے 70 افراد آتے ہیں اور ہر ایک شخص کو الگ ٹینٹ یا الگ بسترا دیا جاتا ہے، ساتھ ہی انہیں مناسب خوراک بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

فرانسیسی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں تقریبا 12 ہزار بے گھر افراد موجود ہیں جو وائرس کے پھیلنے کے ان دنوں میں سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔

حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے احتیاط کے پیش نظر لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کا حکم دیا ہے جب کہ وہاں بھی عوامی مقامات، پبلک ٹرانسپورٹ اور مذہبی مقامات کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے عوام کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات کے بعد فرانس کی کئی تنظیموں اور اداروں نے بے گھر افراد کو عارضی رہائش دینے کے اعلانات کیے جب کہ بے گھر افراد کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے بھی ایسے افراد کے عارضی مسکن کے لیے کوششیں تیز کردیں۔

اگرچہ کانز فلم فیسٹیول انتظامیہ نے بے گھر افراد کے لیے عارضی مسکن بناکر انہیں رہائش دینے سمیت انہیں کھانا بھی فراہم کرنا شروع کردیا ہے تاہم بے گھر افراد کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے پولیس پر بے گھر افراد کو تنگ کرنے اور ان پر تشدد کرنے جیسے الزامات لگائے ہیں، تاہم پولیس ایسے الزامات کو مسترد کر چکی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: پیرس کا معروف ’لوور‘ میوزیم بند

فرانس میں 25 مارچ کی صبح تک کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہزار کے قریب تک پہنچ گئی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد 1100 تک جا پہنچی تھی۔

دنیا بھر میں 25 مارچ کی صبح تک کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 4 لاکھ 23 ہزار سے زائد ہو چکی تھی جب کہ دنیا میں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 18 ہزار 919 تک جا پہنچی تھی۔

اگرچہ چین سے کورونا کے نئے مریضوں کے آنے کی رفتار میں انتہائی کم ہوئی ہے تاہم اٹلی، امریکا، اسپین، جرمنی اور فرانس جیسے ممالک میں کورونا کے نئے کیسز میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

کورونا کے باعث ’لوور‘ میوزیم سمیت دیگر مقامات بھی بند کردیے گئے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
کورونا کے باعث ’لوور‘ میوزیم سمیت دیگر مقامات بھی بند کردیے گئے ہیں—فوٹو: اے ایف پی