کورونا سے ہلاکتیں 31 ہزار تک جا پہنچیں، مریض 6 لاکھ 65 ہزار سے متجاوز

اپ ڈیٹ 29 مارچ 2020

ای میل

ہلاکتوں کے حوالے سے اٹلی اور متاثرہ افراد کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پر ہے—فوٹو: اے پی
ہلاکتوں کے حوالے سے اٹلی اور متاثرہ افراد کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پر ہے—فوٹو: اے پی

کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے اور دنیا بھر میں 29 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 6 لاکھ 65 ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔

جہاں دنیا بھر میں تیزی سے کورونا کے مریض سامنے آ رہے ہیں، وہیں ہلاکتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور مرنے والے افرد کی تعداد 31 ہزار کے قریب پہنچ چکی تھی۔

کورونا وائرس کے براہ راست اعداد و شمار دینے والے آن لائن میپ کے مطابق 29 مارچ کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا سے مجموعی ہلاکتیں 30 ہزار 852 ہوچکی تھیں، جن میں سے صرف 2 ممالک اٹلی اور اسپین میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہزار تھی۔

اٹلی میں 10 ہزار ہلاکتیں

یورپی ملک اٹلی میں گزشتہ ایک ہفتے سے کورونا کی وجہ سے ہلاکتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور وہاں پر مجموعی طور ایک ہفتے سے یومیہ 500 سے 800 کے درمیان ہلاکتیں ہوئیں تاہم 28 مارچ کو وہاں ریکارڈ 900 ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

اٹلی میں اگرچہ اب نئے کورونا وائرس کے مریضوں کی رفتار کچھ سست ہوچکی ہے تاہم اب بھی وہاں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس وجہ سے اٹلی بھر میں خوف پھیلا ہوا ہے۔

اٹلی میں حیران کن طور پر دیگر ممالک سے زیادہ ہلاکتیں ہونے پر ماہرین صحت بھی پریشان ہیں جب کہ اٹلی کے حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک سامنے آنے والے کورونا کے مریض وہ ہیں جن کے شک کے بنیاد پر ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

حکام کے مطابق تاحال اٹلی میں عام افراد کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے بلکہ ان علاقوں میں لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، جہاں سے پہلے ہی کیس سامنے آ چکے ہیں۔

29 مارچ کی صبح تک اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار 23 اور مریضوں کی تعداد بڑھ کر 92 ہزار 472 تک جا پہنچی تھی۔

اسپین میں 6 ہزار تک ہلاکتیں

اٹلی کی طرح یورپی ملک اسپین میں بھی تیزی سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور 29 مارچ کی صبح تک اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 5 ہزار 992 تک جا پہنچی تھی۔

اسپین میں 29 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد 72 ہزار 335 تک جا پہنچی تھی تاہم وہاں ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 28 سے 29 مارچ کے درمیان وہاں ریکارڈ 832 ہلاکتیں ہوئیں۔

کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث اٹلی کی طرح اسپین میں بھی معمولات زندگی مفلوج ہیں اور وہاں پر سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

امریکا میں 2 ہزار ہلاکتیں

اس وقت اگرچہ امریکا کورونا وائرس کا نیا مرکز بن چکا ہے تاہم وہاں ہلاکتوں کی تعداد اٹلی اور اسپین سمیت ایران اور چین سے بھی کم ہیں۔

29 مارچ کی صبح تک امریکا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 24 ہزار 665 تک جا پہنچی تھی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار تک ہو چکی تھی۔

امریکا کی 50 ہی ریاستیں کورونا سے متاثر ہیں، تاہم سب سے زیادہ کیسز ریاست نیویارک میں سامنے آئے ہیں، جہاں مریضوں کی تعداد مجموعی مریضوں کا تقریبا نصف حصہ ہے۔

صرف نیویارک میں ہی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 55 ہزار کے قریب ہے جب کہ ہلاکتیں بھی وہیں سب سے زیادہ 700 سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

کورونا وائرس کے مریضوں اور اموات کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ریاست نیوجرسی ہے، جہاں مریضوں کی تعداد 12 ہزار سے زائد اور ہلاکتوں کی تعداد بھی 150 تک ہے، تیسرے نمبر پر ریاست مشی گن ہے جہاں تقریبا 5 ہزار افراد وبا سے متاثر ہوئے۔

امریکا میں سب سے کم کورونا وائرس کے مریض ریاست جنوبی ڈکوٹا میں ہیں، جہاں مریضوں کی تعداد 70 تک ہے، تاہم ریاستوں کے علاوہ امریکا کے وفاقی حکومت کے ماتحت جزائر میں بھی کورونا کے کم کیسز سامنے آئے ہیں اور 28 مارچ تک امریکا کی وفاقی حکومت کے ماتحت صرف ایک ہی جزیرے امریکن ساموا میں کوئی بھی کیس ریکارڈ نہیں ہو سکا تھا۔

چین میں معمولات زندگی بحال

ابتدائی طور پر کورونا وائرس کا مرکز رہنے والے ملک چین میں 29 مارچ کو 45 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد وہاں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 82 ہزار 57 تک جا پہنچی تاہم وہاں سامنے آنے والے تمام مریض بیرون ممالک سے آنے والے تھے۔

چین میں رواں ماہ مارچ سے کورونا کا زور ٹوٹ گیا تھا اور وہاں پر جزوی طور پر معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے تھے، 27 مارچ کو کورونا وائرس کے مرکز سمجھے جانے والے شہر ووہان کو بھی جزوی طور پر کھول دیا گیا تھا۔

چین میں متاثر ہونے والے 95 فیصد افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں جب کہ وہاں پر مجموعی ہلاکتیں 3200 سے بھی کم تھیں۔

جرمنی میں مرض میں اضافہ، ہلاکتیں کم

یورپی ملک جرمنی میں بھی کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور وہاں پر 29 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 58 ہزار کے قریب جا پہنچی تھیں۔

جہاں جرمنی میں کورونا کے مریض تیزی سے سامنے آ رہے ہیں، وہیں وہاں ہلاکتوں کی تعداد دیگر ممالک سے انتہائی کم ہے اور وہاں پر 29 مارچ کی صبح تک ہلاک افراد کی تعداد امریکی ریاست نیویارک کی مجموعی ہلاکتوں کا نصف بھی نہیں تھی۔

جرمنی میں 29 مارچ کی صبح تک ہلاکتوں کی تعداد 433 ہو چکی تھی۔

فرانس میں ہلاکتوں میں تیزی

یورپی ملک فرانس میں جہاں کورونا کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں وہاں پر ہلاکتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 29 مارچ کی صبح تک وہاں ہلاکتوں کی تعداد 2300 سے بڑھ چکی تھی۔

فرانس میں 29 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 38 ہزار سے زائد ہوچکی تھی اور وہ مریضوں کے حوالے سے امریکا، اٹلی، چین، اسپین اور جرمنی کے بعد چھٹے نمبر پر تھا۔

برطانیہ میں حالات مزید بگڑنے کا امکان

برطانیہ میں بھی کورونا کے کیسز تیزی سے سامنے آ رہے ہیں اور وہاں 29 مارچ کی صبح تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہزار سے زائد ہوچکی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر ایک ہزار سے زائد ہوچکی تھی۔

کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے برطانوی وزیر اعظم نے 29 مارچ کو اپنے ویڈیو پیغام میں عوام کو خبردار کیا کہ ملک میں کورونا کے حوالے سے حالات مزید خراب ہونے والے ہیں۔

وزیر اعظم بورس جانسن تین دن قبل کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے جس کے بعد وہ قرنطینہ میں چلے گئے تھے اور وہ وہیں سے حکومی امور دیکھ رہے ہیں۔