کورونا وائرس: پاکستان میں ایک دن میں 5 اموات، مجموعی تعداد 17 ہوگئی

ای میل

ملک میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
ملک میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

دنیا بھر کو اپنی دہشت سے خوف زدہ کرنے والے کورونا وائرس کا پاکستان میں بھی تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے اور ایک دن میں 5 متاثرین دم توڑ گئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 17 جبکہ متاثرین کی تعداد 1593 ہوگئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کورونا وائرس کے باعث مزید ایک ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ صوبے میں متاثرین کی تعداد 593 تک پہنچنے کی بھی تصدیق کی۔

کورونا وائرس سے ایک ہی دن میں سندھ میں 2، خیبر پختونخوا اور پنجاب اور گلگت بلتستان میں ایک،ایک متاثرہ مریض دم توڑ گیا جس کے بعد پاکستان میں وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 17 ہوگئی۔

سندھ کی وزیر صحت کی میڈیا کوآر ڈینیٹر میران یوسف کے مطابق کراچی میں سامنے آنے والے 33 نئے کیسز مقامی طور پر منتقلی کے ہیں جبکہ پورے صوبے کے 502 میں سے مقامی سطح پر سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 177 ہے۔

ملک کا پہلا کیس سندھ میں سامنے آنے کے بعد اسی صوبے کے متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ تھی تاہم گزشتہ 2 روز میں پنجاب میں تیزی سے بڑھنے والے کیسز کے بعد اب وہاں سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔

اس عالمی وبا کے پاکستان میں کیسز سامنے آنے کے ساتھ ہی مختلف صوبوں اور علاقوں نے اقدامات اٹھاتے ہوئے لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیاں لگادی تھیں جبکہ لوگوں کی نقل و حمل کو محدود کردیا تھا۔

تاہم اس کے بعد بھی نئے کیسز کے آنے کا سلسلہ جاری ہے اور اتوار کو بھی ملک میں نئے افراد اس وائرس کا شکار بنتے نظر آئے تاہم اب تک 28 متاثرہ افراد مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں۔

سندھ

سندھ میں کورونا وائرس سے مزید 2 افراد کی اموات کی تصدیق کردی گئی جس کے بعد صوبے میں انتقال کرنے والے افراد کی تعداد 3 ہوگئی جبکہ متاثرین 502 ہوچکے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق کراچی میں مقامی طور پر منتقلی کے مزید 33 کیسز سامنے آگئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد بڑھ کر 502 ہوگئی ہے۔

صوبائی وزیر صحت کی میڈیا کوآرر ڈی نیٹر میران یوسف کے مطابق اب تک کراچی میں 222 کیسز، دادو میں ایک، حیدر آباد میں 7، سکھر میں موجود 265 زائرین اور لاڑکانہ میں ایران سے آئے 7 زائرین میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

اس کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 1593ہوگئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کورونا وائرس سے 3 اموات ہوئی ہیں جبکہ 14 افراد صحت یاب ہوگئے ہیں، کراچی میں 13 اور حیدرآباد میں ایک مریض صحت یاب ہوچکا ہے اور 213 زیر علاج ہیں۔

میران یوسف کے مطابق صوبے میں اب تک مقامی سطح پر منتقلی کے کیسز کی تعداد 171 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اب تک 5 ہزار 945 افراد کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

قبل ازیں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں افراد کورونا وائرس سے انتقال کرگئے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں دونوں مریضوں کے انتقال کے بعد ان کی لیب رپورٹس موصول ہوئی، جس میں ان کی موت کی وجہ نمونیا کے ساتھ کورونا وائرس تھی۔

صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ ایک مریض کی عمر 83 جبکہ ایک 70 سال تھی۔

علاوہ ازیں محکمہ صحت سندھ نے بتایا کہ دونوں افراد کا تعلق کراچی سے تھا۔

پنجاب

پنجاب میں مزید ایک ہلاکت سے جہاں صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا وہی مزید متاثرین کی بھی تصدیق کی گئی جو بڑھ کر 593 ہوگئی جن میں سے 6 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ 'کورونا وائرس سے ایک اور جان چلی گئی، 68 سالہ خاتون سعودی عرب سے واپس رحیم یار خان پہنچی تھی جہاں وہ زیر علاج تھی'۔

انہوں نے کہا کہ 'پنجاب میں اب تک6 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور متاثرین کی تعداد 593 ہے جو زیر علاج ہیں'۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ 'ہماری ٹیمیں مریضوں کا مسلسل کھوج لگارہی ہیں اور ٹیسٹ بھی کیے جارہے ہیں'۔

عثمان بزدار نے متاثرین کی تعداد کے حوالے سے تفصیلات بتائے جس کے مطابق 'قرنطینہ مراکز ڈی جی خان،ملتان، لاہور اور فیصل آباد میں 318، لاہور میں 116، گجرات میں 55، گوجرانوالا میں 11، جہلم میں 28، راولپنڈی میں 30، ملتان میں 2، فیصل آباد میں 9، منڈی بہاوالدین میں 4، نارووال میں ایک، رحیم یار خان میں 2، وہاڑی میں 2، سرگودھا میں 2، اٹک میں ایک، بہاولنگر میں ایک، میانوالی میں 2، ننکانہ صاحب میں 2، خوشاب میں ایک، بہاولپور میں ایک اور ڈی جی خان میں 5 متاثرین ہیں'۔

اس سے قبل پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 13 کیسز سامنے آگئے تھے۔

محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان قیصر آصف نے بتایا کہ پنجاب میں مصدقہ کیسز کی تعداد 570 تک پہنچ چکی ہے۔

مزید برآں ان کا کہنا تھا کہ اب تک صوبے میں 5 اموات ہوئی ہیں اور 5 مریض صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

متاثرہ افراد کے اعداد و شمار کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان سے 207 اور ملتان سے 79 زائرین میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ رائے ونڈ کے قرنطینہ میں 23 اور لاہور میں 119 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گجرات میں 52، گوجرانوالہ میں 11، جہلم میں 21 اور راولپنڈی میں 19 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ملتان میں 3، فیصل آباد میں 9، منڈی بہاالدین میں 4 کیسز سامنے آئے جبکہ باقی کیسز پنجاب کے دیگر حصوں سے ہیں۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا میں مزید 4 کیسز کی تصدیق کی گئی جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 192 ہوگئی جبکہ ایک ہلاکت بھی سامنے آئی۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 78 سالہ شخص کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگیا۔

انتظامیہ کا کہناتھا کہ پورے علاقے کو لاک ڈاؤن کیا گیا ہے اور ان سے ملنے والے افراد کو بھی تلاش کیا جارہا ہے۔

بلوچستان

بلوچستان کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق کورونا وائرس کے مزید 3 کیسز سامنے آگئے ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 141 ہوگئی ہے۔

محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق صوبے میں مشتبہ مریضوں کی تعداد 1710 ہے جبکہ 1275 ٹیسٹ کے نتائج منفی آگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے صحت یاب مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 2 ہوگئی ہے۔

بلوچستان میں کوروناوائرس سے ایک ہلاکت بھی ہوئی تھی۔

اسلام آباد

سرکاری اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اسلام آباد میں مزید 4 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ان 4 نئے کیسز کے بعد وفاقی دارالحکومت میں متاثرین کی تعداد 39 سے بڑھ کر 43 تک پہنچ گئی۔

اسی طرح گلگت بلتستان میں بھی 9 نئے افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے۔

گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں ان نئے کیسز کے سامنے آنے سے متاثرین 107 سے بڑھ کر 116 ہوگئے۔

بعد ازاں ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سرکاری حکام نے بتایا گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے ایک میڈیکل اسٹافر انتقال کرگیا۔

انہوں نے بتایا کہ ریڈیولوجسٹ نگر کے گاؤں سمیر میں سرکاری صحت یونٹ میں کام کرتا تھا اور موت سے قبل اسے مناپن کے قرنطینہ مرکز منتقل کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ متوفی کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں ہے۔

آزاد کشمیر

آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے4 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس سے آزاد کشمیر میں اس وبا سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 6 ہوگئی۔

مجموعی طور پر ملک کے کیسز پر نظر ڈالیں تو پنجاب میں سب سے زیادہ 593 افراد متاثر ہیں، اس کے بعد سندھ میں 502، خیبرپختونخوا میں 192، بلوچستان میں 141، گلگت بلتستان مین 116، اسلام آباد میں 43 اور آزاد کشمیر میں 6 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اموات پر اگر نظر ڈالیں تو اس وائرس سے سب سے زیادہ لوگ بھی پنجاب میں جان سے گئے ہیں اور وہاں تعداد 6 ہے۔

اس کے بعد خیبرپختونخوا میں 5 افراد اس وائرس سے انتقال کرچکے ہیں جبکہ سندھ میں 3، گلگت بلتستان میں 2 اور بلوچستان میں یہ تعداد ایک،ایک ہے۔


پاکستان میں 17 اموات

پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاک 18 مارچ کو سامنے آئی جبکہ اسی روز دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی۔

18 مارچ کو خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے مردان میں پہلے شخص کے کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرجانے کے بارے میں آگاہ کیا۔

بعد ازاں کچھ ہی دیر میں انہوں نے ہنگو میں دوسرے فرد کی موت کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ، بلوچستان میں نماز کے اجتماعات پر پابندی

20 مارچ کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وائرس سے ایک مریض کا انتقال ہوا تو اس طرح تعداد 3 تک جا پہنچی۔

22 مارچ کو خیبرپختونخوا میں ہی ایک اور مریض کے انتقال کی خبر سامنے آئی تو کچھ ہی دیر بعد گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والا ڈاکٹر اسی عالمی وبا کا شکار ہوکر جان کی بازی ہار گیا۔

اگلے ہی دن یعنی 23 مارچ کو بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے میں کورونا وائرس کا پہلا مریض دم توڑ گیا۔

جہاں ایک طرف متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ سامنے آرہا تھا وہیں 24 مارچ کو پنجاب میں بھی پہلی ہلاکت سامنے آگئی۔

پنجاب میں ہونے والی یہ موت ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والے کیس سے پہلا انتقال تھا۔

علاوہ ازیں 25 مارچ کو بھی ملک میں ایک اور موت کی تصدیق ہوئی اور راولپنڈی میں 50 سالہ خاتون دم توڑ گئیں۔

26 مارچ کو لاہور کے نجی ہسپتال میں ایک مریض جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد صوبے میں کورونا وائرس سے 3 اور ملک میں مجموعی طور پر 9 اموات ہوگئیں۔

27 مارچ کو لاہور میں ایک اور مریض کورونا وائرس کے باعث دم توڑ گیا جس کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 4 ہوگئی۔

اسی روز فیصل آباد میں بھی 22 سالہ نوجوان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی جس کے بعد صوبے میں 5 اور ملک بھر میں اس وبا سے اموات 11 ہوگئیں۔

28 مارچ کو صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے ایک خاتون کی موت کی تصدیق کی جس کے بعد ملک میں اموات کی تعداد 12 ہوگئی۔

29 مارچ کو ملک میں سب سے زیادہ 5 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی، وزیرصحت سندھ نے بتایا کہ صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

خیبر پختونخوا میں 29 مارچ کو ایک اور ہلاکت ہوئی، محکمہ صحت کے عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 78 سالہ شخص کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے ہیں۔

علاوہ ازیں پنجاب میں بھی ایک اور موت ہوئی جو اس روز کی چوتھی جبکہ مجموعی طور پر پنجاب کی چھٹی ہلاکت تھی۔

بعد ازاں گلگت بلتستان سے بھی ایک اور فرد کی موت کی تصدیق ہوئی جو اس روز کی پانچویں موت تھی، اس بارے میں بتای گیا کہ ایک میڈیکل اسٹافر کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کرگیا۔

پاکستان میں کورونا کیسز پر ایک نظر

پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔

  • 26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔

  • 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی، 3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔

  • 6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔

  • 8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔

  • 9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی تھی۔

  • 10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 جبکہ سندھ میں تعداد 15 ہوگئی تھی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے یہ تصحیح کی گئی تھی 'غلط فہمی' کے باعث ایک مریض کا 2 مرتبہ اندراج ہونے کے باعث غلطی سے تعداد 15 بتائی گئی تھی تاہم اصل تعداد 14 ہے، اس تصحیح کے بعد ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 10 مارچ تک 18 ریکارڈ کی گئی۔

  • 11 مارچ کو اسکردو میں ایک 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد مجموعی تعداد 19 تک پہنچی تھی۔

  • 12 مارچ کو گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ہی ایک اور کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد 20 تک جاپہنچی تھی۔

  • 13 مارچ کو اسلام آباد سے کراچی آنے والے 52 سالہ شخص میں کورونا کی تصدیق کے بعد تعداد 21 ہوئی تھی، بعدازاں اسی روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران تفتان میں مزید 7 کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 28 ہوگئی۔

  • 14 مارچ کو سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی۔

  • 15 مارچ کو اسلام آباد اور لاہور میں ایک ایک، کراچی میں 5، سکھر میں 13 کیسز سامنے آئے جس کے بعد ملک بھر میں مجموعی تعداد کیسز کی تعداد 53 ہوگئی تھی۔

  • 16 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اچانک بہت تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور سندھ میں تعداد 35 سے بڑھ کر 150 جبکہ خیبرپختونخوا میں نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 184 تک جا پہنچی تھی۔

  • 17مارچ کو ملک کے چاروں صوبوں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک میں مجموعی تعداد 237 تک پہنچ گئی تھی۔

  • 18 مارچ کو پاکستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت خیبرپختونخوا میں سامنے آئی جبکہ کچھ ہی دیر بعد ہی عالمی وبا سے دوسری موت کی بھی تصدیق کردی گئی، اس کے علاوہ اسی روز صوبے میں مزید 64 کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 301 تک ہوگئی تھی۔

  • 19 مارچ کو بھی کورونا وائرس کے مزید کیسز آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مجموعی طور پر 152 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد اس روز تعداد 448 تک جاپہنچی۔

  • مارچ کی 20 تاریخ کو اس عالمی وبا سے کراچی میں پہلی ہلاکت سامنے آئی، جس کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتیں 3 ہوگئی جبکہ اسی روز نئے مریضوں کے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 495 تک ہوگئی۔

  • 21 مارچ کو پاکستان میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل تھے، جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی تھی۔

  • 22 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز میں اضافے کے ساتھ مجموعی تعداد 799 تک پہنچ چکی تھی، جس میں پنجاب میں مزید 73، سندھ میں مزید 60، بلوچستان میں 4 کیسز جبکہ گلگت بلتستان میں مزید 16 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس کے ساتھ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک ڈاکٹر جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک وائرس سے متاثرہ خاتون کی موت کے بعد مجموعی اموات 5 ہوگئی تھیں، سندھ میں ایک شخص کے صحتیاب ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی تھی۔

  • 23 مارچ کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے اور بلوچستان سے پہلی ہلاکت بھی سامنے آئی اسی روز ملک بھر میں فوج تعینات کرنے کی منظوری بھی دی گئی، تاہم اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس روز یہ تعداد 878 تک پہنچ گئی تھی۔

  • مارچ کی 24 تاریخ کو پنجاب میں پہلی ہلاکت سامنے آئی جو ملک میں مقامی سطح پر منتقل ہونے والا کیس تھا، اس کے علاوہ مختلف صوبوں اور علاقوں میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اس روز تک متاثرین 990 ہوگئے تھے۔

  • 25 مارچ کو پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ اس روز بھی ملک میں ایک اور موت سامنے آئی جس کے بعد ملک میں اموات 8 ہوگئیں۔

  • 26 مارچ کو ملک میں کورونا کیسز کو ایک ماہ کا عرصہ مکمل ہوا اور اس روز پورے ملک میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد تعداد 1193 تک پہنچی جبکہ اس روز بھی ایک اور فرد انتقال کرگیا۔

  • 27 مارچ ملک کو کورونا وائرس سے پنجاب میں 2 اموات سامنے آئیں جبکہ اس روز پنجاب میں مزید نئے کیسز آنے سے وہ سب سے زیادہ متاثر صوبہ بن گیا، علاوہ ازیں ملک کی مجموعی تعداد 1363 تک پہنچ گئی

  • 28 مارچ کو بھی ملک میں کورونا وائرس کے مزید کیسز رپورٹ ہوئے اور تعداد 1500 تک پہنچ گئی جبکہ خیبرپختونخوا میں ایک موت کی بھی تصدیق کی گئی۔

کورونا وائرس سے متعلق اپ ڈیٹ کے لیے یہاں کلک کریں اور تفصیلی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

خبر میں مزید تفصیل شامل کی جارہی ہے