کورونا وائرس: ملک میں فوجی دستوں کی تعیناتی مکمل ہوگئی، آئی ایس پی آر

اپ ڈیٹ 29 مارچ 2020

ای میل

چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان میں فوج تعینات کردی گئی—فائل فوٹو:ڈان
چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان میں فوج تعینات کردی گئی—فائل فوٹو:ڈان

اسلام آباد: پاک فوج نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر سول انتظامیہ کی مدد کے لیے ملک بھر میں فوج کی تعیناتی مکمل ہوچکی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ آرئیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پورے ملک میں پاک فوج کے دستے تعینات کیے گئے۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس: آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں میں فوج طلب

بیان کے مطابق سول انتظامیہ کی مدد کے دوران ملک میں قائم182 قرنطینہ مرکز پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا ہے۔

خیال رہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 23 مارچ کو وزارت داخلہ کی درخواست پر فوج کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔

قبل ازیں حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 (مسلح افواج کے فرائض) اور سئی آر پی سی کے سیکشن 131 اے (عوامی فلاح اور امن و امان کی بحالی کے لیے فوجی طاقت کا استعمال) کے تحت چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر کتنے فوجی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعینات کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج طلب کرنے کی درخواست

تاہم پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ ’تمام فوجی‘ اور تمام طبی عملہ ضرورت کے مطابق تعینات کیے جائیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق تمام انٹری پوائنٹس (داخلی مقامات) کی منظم نگرانی کی جارہی ہے، مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی گئیں ہیں اور قانون نافذ کرنے والی دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مشترکہ گشت بھی جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آزادکشمیر میں کوٹلی، بھمبر، میرپور، برنالہ، مظفرآباد، باغ، کیل اور راولاکوٹ کے مختلف علاقوں میں تعیناتی کی گئی ہیں۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بلوچستان میں آواران، دُکی، چاغی، لسبیلہ، قلات، نوشکی، خضدار، سبی اور گوادر سمیت بلوچستان کے 9اضلاع میں فوجی دستے تعینات کردیئے گئے ہیں۔

شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایران کے ساتھ تفتان بارڈر کراسنگ اور افغانستان کے ساتھ چمن بارڈر کراسنگ پر قرنطینہ سینٹرز پر فوجیوں کی تعیناتی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

مزیدپڑھیں: ہم لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے، عوام خود کو قرنطینہ کرلیں، عمران خان

آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کے دستے، ڈاکٹر اور پیرا میڈیکس تفتان قرنطینہ مرکز میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ تفتان سرحد پر قرنطینہ مرکز میں 600 افراد کے لیے ایک اضافی مرکز قائم کیا جارہا ہے۔

مزید برآں اعلامیے میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کے تمام 10 اضلاع میں فوج تعینات کردی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے 27 مارچ کو چین سے موصول ہونے والے طبی سامان کی نقل و حمل اور تقسیم کے لیے خنجراب پاس سے خصوصی پروازیں کیں، جن میں 5 وینٹی لیٹرز، 2ہزار ٹیسٹنگ کٹس، 2 ہزار میڈیکل سوٹ، 2ہزار این 95 ماسک اور 2 لاکھ ماسک شامل ہیں۔

فوجی دستوں کی تعیناتی سے متعلق مزید بتایا گیا کہ اسلام آباد کے علاوہ خیبرپختونخوا کے 26 اضلاع میں بھی فوج تعینات کردی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی دستے درہ زندا پر4 بارڈر ٹرمینلز اور بین الصوبائی حدود سنبھال رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: آرمی چیف کا پاک فوج کو سول انتظامیہ کی امداد تیز کرنے کا حکم

مزید برآں بیان میں بتایا گیا کہ فوجی دستے، درہ زندا ، گومل یونیورسٹی ، ڈی آئی خان، پوسٹ گریجویٹ پیرامیڈک انسٹی ٹیوٹ پشاور میں قائم قرنطینہ مراکز کے انتظام کے لیے سول انتظامیہ کی معاونت کررہے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ لنڈی کوتل اور جمرود میں ایک ہزار 500 افراد کے لیے قرنطینہ سینٹر کی سہولت قائم کی جارہی ہے۔

علاوہ ازیں پاک فوج پشاور، مردان چارسدہ اور بونیر کے 10 ان علاقوں میں آئیسولیشن کر رہی ہے جہاں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے۔

شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پنجاب کے 34 اضلاع میں فوج کے دستے تعینات کردیے گئے ہیں جہاں وہ داخلے / خارجی راستوں پر قائم مشترکہ چیک پوسٹوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق سندھ کے 29 اضلاع میں فوجی دستے تعینات کردیے ہیں جبکہ پاکستان رینجرز کو سندھ پولیس کے ساتھ تمام داخلی / خارجی راستوں پر تعینات کیا گیا ہے۔