کوروناوائرس: یو اے ای میں کرفیو میں توسیع، جدہ میں جزوی لاک ڈاؤن

اپ ڈیٹ 05 اپريل 2020

ای میل

متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ہفتے کرفیوں میں توسیع کا اعلان کیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ہفتے کرفیوں میں توسیع کا اعلان کیا تھا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

کورونا وائرس کے خلاف دنیا بھر کی طرح مشرق وسطیٰ میں بھی لاک ڈاؤن سمیت دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں اور متحدہ عرب امارات میں کرفیو میں توسیع اور سعودی عرب نے جدہ کے مختلف حصوں کو لاک ڈاؤن کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حفاظتی اقدامات کے طور پر عوامی مقامات پر رات کے کرفیو میں غیر معینہ مدت تک کے لیے توسیع کر دی ہے۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس: سعودی حکومت کا مسلمانوں کو حج کی تیاریاں مؤخر کرنے کا مشورہ

متحدہ عرب امارات میں اس کے علاوہ حفاظی اقدامات کرتے ہوئے سڑکوں، گلیوں، پارکس اور عوامی ٹرانسپورٹ سمیت دیگر علاقوں میں اسپرے بھی کیا جارہا ہے۔

حکومت کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس دوران گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے 26 مارچ کو کرفیو نافذ کردیا تھا اور گزشتہ ہفتے ہی 5 اپریل تک توسیع کردی تھی۔

سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق 'وزارت صحت اور وزارت داخلہ نے نیشنل ڈس انفیکشن پروگرام کا اعلان کردیا ہے' تاہم یہ عمل کب ختم ہوگا اس حوالے سے وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 241 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور ایک ہلاکت کی بھی تصدیق کردی گئی ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات میں کیسز کی مجموعی تعداد ایک ہزار 505 اور ہلاکتیں 10 ہوئی ہیں۔

دوسری جانب پڑوسی ملک سعودی عرب میں بھی مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:متحدہ عرب امارات میں مساجد میں نماز، سماجی تقریبات معطل

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے جدہ کے 7 مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن اور جزوی کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

سعودی عرب، مشرق وسطیٰ میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اب تک 2 ہزار 179 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 29 افراد اس وبا سے دم توڑ چکے ہیں۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ جدہ کے 7 ہمسایہ علاقوں میں شہری صرف اشیائے ضروریہ اور ادویات کی خریداری کے لیے صبح 6 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک باہر جا سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ علاقوں میں شہریوں کے آنے جانے پر مکمل پابندی رہے گی۔

سعودی عرب کی حکومت نے اس طرح کے اقدامات دیگر شہروں میں بھی کیے تھے جس میں دمام بھی شامل ہے جو سعودی عرب کی تیل کی صنعت کا مرکزی شہر ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے رواں ہفتے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی کو دیکھتے ہوئے حج کی تیاریوں کو عارضی طور پر مؤخر کردیں۔

سعودی وزیر حج محمد بینتن نے سعودی عرب کے ریاستی ٹیلی ویژن الاخباریہ کو بتایا تھا کہ 'سعودی عرب زائرین کی خدمت کے لیے مکمل تیار ہے'۔

مزید پڑھیں:کورونا وائرس کے دو ہفتے: فلسطینیوں پر اسرائیلیوں کے حملے میں 78 فیصد اضافہ

تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ موجودہ صورتحال میں چونکہ ہم عالمی وبا کی بات کر رہے ہیں تو ریاست مسلمانوں اور شہریوں کی صحت کے تحفظ کی خواہاں ہے، لہٰذا ہم نے تمام ممالک میں اپنے مسلمان بھائیوں کو کہا ہے کہ جب تک صورتحال واضح نہیں ہوتی حج معاہدوں کے لیے انتظار کریں۔

سعودی عرب نے کورونا وائرس کے باعث گزشتہ ماہ کے اوائل میں عمرے کو عارضی معطل کردیا تھا اور خانہ کعبہ کے صحن (مطاف) کو خالی کروادیا گیا تھا۔

عمرے کی عارضی معطلی کے حوالے سے سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ فیصلے کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور حالات تبدیل ہوتے ہی فیصلے کو واپس لے لیا جائے گا۔

سعودی عرب کی حکومت نے گزشتہ ہفتے محدود تعداد میں لوگوں کو مطاف میں طواف کی اجازت دی تھی۔