طورخم سرحد سے 4 دن میں 20 ہزار افغان باشندوں کی وطن واپسی

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2020

ای میل

انہوں نے بتایا کہ 8 اپریل بروز بدھ کی درمیانی رات تک سرحد کھلی رہی —فائل فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے بتایا کہ 8 اپریل بروز بدھ کی درمیانی رات تک سرحد کھلی رہی —فائل فوٹو: اے ایف پی

لنڈی کوتل: پاک افغان سرحد کھلنے کے بعد گزشتہ 4 روز میں 20 ہزار سے زیادہ پھنسے ہوئے افغانی طورخم کے راستے وطن واپس چلے گئے۔

عہدیداروں نے ڈان کو بتایا کہ آخری دن نسبتاً پرسکون رہا کیونکہ بارڈر کی بندش سے قبل صرف 11 سو افغان باشندوں نے سرحد عبور کی جن میں زیادہ تر مرد تھے۔

مزید پڑھیں: پاک-افغان تجارت بڑھانے کیلئے 24 گھنٹے طورخم سرحد کھولنے کے انتظامات مکمل

انہوں نے بتایا کہ 4 دن کے دوران واپس ہونے والے افغانیوں کی مجموعی تعداد 20 ہزار 666 تھی۔

عہدیداروں نے بتایا کہ دوسرے اور تیسرے دن (7 اور 8 اپریل) ان کے لیے بہت مشکل صورت حال تھی کیونکہ پھنسے ہوئے افغان باشندوں کی ’تعداد‘ توقعات سے غیرمعمولی زیادہ تھی۔

ایک اہلکار نے بتایا کہ ان دو دنوں میں مجموعی طور پر تقریبا 18 ہزار افغان مرد، خواتین اور بچے وطن واپس چلے گئے کیونکہ حکومت نے اپنی امیگریشن پالیسی میں نرمی کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ 8 اپریل بروز بدھ کی درمیانی رات تک سرحد کھلی رہی۔

عہدیدار نے بتایا کہ پہلے دن ہم نے صرف ایک ہزار افغان باشندوں کو جاننے کی اجازت دی جن کے پاس تمام سفری دستاویزات تھے۔

یہ بھی پڑھیں: طورخم بارڈر پر اسمگلنگ میں ملوث 2افسران سمیت 7افراد معطل

انہوں نے مزید کہا کہ بڑی تعداد میں واپس جانے والے افغان باشندوں کی وجہ سے وہ امیگریشن کے عمل میں تیزی برقرار نہیں رکھ سکے۔

سرکاری اعدادوشمار سے معلوم ہوا کہ جمعرات کو 485 افغان باشندوں کے پاسپورٹ پر درست ویزا، 461 اپنے افغانی شناختی کارڈ اور 57 پروف رجسٹریشن کارڈز (پی او آر) کے ساتھ وطن واپس جانے کی اجازت دی گئی۔

عہدیداروں نے بتایا کہ انہوں نے (آج) جمعہ سے طورخم کے راستے پاکستان اور افغانستان کے مابین دوطرفہ تجارت کی بحالی کے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے دونوں طرف کے ڈرائیورز کی اسکریننگ پر زیادہ زور دیتے ہوئے محدود بنیاد پر افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا آغاز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خیبر کی ضلعی انتظامیہ نے مقامی محکمہ صحت کے حکام کی مدد سے لنڈی کوتل میں 4 علیحدہ علیحدہ سینٹر قائم کیے جہاں وائرس کے مشتبہ مریضوں کی افغانستان سے آمد کے بعد انہیں رکھا جائے گا۔

مزیدپڑھیں: افغانستان سے پاکستانی حدود میں 2 مارٹر گولے فائر

ایک عہدیدار شمس الاسلام نے بتایا کہ پھنسے ہوئے پاکستانیوں اور ٹرانسپورٹرز کو قرنطینہ مراکز میں 14 دن کے لیے رکھا جائے گا جہاں انہیں مفت کھانے کے ساتھ صحت کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور طبی عملہ ان مراکز کی باقاعدہ نگرانی کرے گا۔


یہ خبر 10 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی