افغانستان سے پاکستانی حدود میں 2 مارٹر گولے فائر

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

مارٹر گولوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا—فوٹو: نوید صدیقی
مارٹر گولوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا—فوٹو: نوید صدیقی

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروق نے کہا ہے کہ افغانستان سے 2 مارٹر گولے فائر کیے گئے تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس واقعے سے متعلق ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ طورخم سرحد کا دروازہ (طورخم بارڈر گیٹ) کو سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے بند کردیا گیا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 'اس معاملے کو افغان حکام کے ساتھ اٹھایا گیا ہے' اور مذکورہ گیٹ کو جلد ہی کھولے جانے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: افغان فورسز کی سرحد پار فائرنگ، پاک فوج کے اہلکاروں سمیت 11 افراد زخمی

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس طورخم سرحد کو 24 گھنٹے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ افغانستان سے سرحد پار حملہ کیا گیا ہو بلکہ گزشتہ برس اکتوبر میں سرحد پار سے فائرنگ میں 11 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

افغان فورسز کی جانب سے صوبہ کنٹر کے ضلع نارائی سے مارٹر گولے اور بھاری مشین گن سے چترال کے گاؤں آروندو کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا افغان حکومت کی درخواست پر اہم سرحدی گزرگاہیں کھولنے کا فیصلہ

اس واقعے سے چند روز قبل ہی مغربی سرحد کے قریب شمالی وزیرستان میں اسپن وام کے علاقے اباخیل میں گشت پر مامور سیکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں بلتستان کے رہائشی 23 سالہ سپاہی اختر حسین نے جام شہادت نوش کیا جبکہ جوابی کارروائی کے نتیجے میں دو شرپسند مارے گئے تھے۔

یہ بھی واضح رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں شمالی وزیرِستان میں پاک-افغان سرحد پر اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں پر افغانستان کے سرحدی علاقے سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 6 جوان شہید ہوگئے تھے۔