ٹرمپ کا کورونا سے متاثرہ ریاستوں میں نیشنل گارڈز کی تعیناتی کا حکم

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

امریکا کورونا وائرس سے متاثرہ تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے—فوٹو/رائٹرز
امریکا کورونا وائرس سے متاثرہ تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے—فوٹو/رائٹرز

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے شدید متاثر ہونے والی 3 ریاستوں میں طبی امداد اور دیگر انتظامات میں سول انتظامیہ سے تعاون کے لیے نیشنل گارڈز کے جوانوں کو بھیجنے کا حکم دے دیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق فوجی نیویارک، کیلی فورنیا اور واشنگٹن میں طبی امداد مہیا کریں گے اور میڈیکل اسٹیشنز بھی بنائیں گے۔

خیال رہے کہ امریکا بھی کورونا وائرس سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے جہاں اب تک 35 ہزار 244 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 471 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں:چین، اٹلی کے بعد امریکا کورونا وائرس سے متاثرہ تیسرا بڑا ملک قرار

ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجیوں کی تعیناتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو جنگی صورت حال کا سامنا ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ امریکا کے شہریوں کو یقین ہوجائے کہ ہم ان کے لیے جو کرسکتے ہیں وہ سب کچھ کر رہے ہیں اور بالآخر چھپے ہوئے دشمن کو شکست دیں گے۔

نیشنل گارڈ 4 ہزار بستروں کی گنجائش کے طبی مراکز قائم کریں گے جن میں سے کیلی فورنیا میں 2 ہزار، نیویارک اور واشنگٹن میں ایک، ایک ہزار بستروں کے مراکز ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق نیو یارک سٹی میں ادویات کی کمی کے خدشات پائے جاتے ہیں جبکہ سینیٹ میں قومی سطح پر ریلیف کی کوشش کے حوالے سے ایک بل کو بھی ناکام بنادیا گیا۔

امریکی سینیٹ میں اپوزیشن ڈیموکریٹس کے اراکین ہنگامی بل کی منظوری کے خواہاں تھے جو ایک کھرب 40 ارب ڈالر مالیت کا تھا جس میں ریاستوں اور مقامی حکومتوں کو زیادہ سے زیادہ مالی تعاون کے علاوہ ہسپتالوں کو فنڈز مہیا کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

دوسری طرف ٹرمپ کی حکمران جماعت ری پبلکن کے سینیٹرز مارکیٹس کی امداد کو یقینی بنانے پر زور دے رہے ہیں۔

امریکا، کورونا وائرس کے کیسز کے اعتبار سے اٹلی اور چین کے بعد تیسرا ملک بن گیا ہے تاہم ہلاکتوں کی تعداد ایران اور دیگر ممالک سے کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن، کورونا وائرس سے 15 ہزار اموات

امریکی ٹیلی ویژن چینلز پر طبی ماہرین نے متنبہ کیا کہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ کورونا وائرس کی کم علامات والے افراد اپنی بیماری کے بارے میں رپورٹ نہیں کر رہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق تقریباً 80 فیصد مریض بیرونی مدد کے بغیر صحت یاب ہوئے ہیں لیکن اس وائرس سے بیمار اور بڑی عمر کے افراد کو زیادہ خطرہ ہے۔

دوسری جانب امریکا میں وفاقی حکومت نے ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ لوگوں کو گھر میں رہنے کی ہدایت کریں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں مالی اور انتظامی مدد فراہم کی جائے۔

امریکی حکومت نے نیو یارک، کیلی فورنیا، ایلی نوائے اور اوریگون میں گھروں میں رہنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔

اس فہرست میں اب ریاست مشی گن بھی شامل ہوچکی ہے جہاں ریاستی حکام نے شہریوں کو کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی خریداری کے علاوہ گھروں سے باہر نہ نکلنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

نیشنل گارڈز کے جوان بھی ملک بھر میں کھانے پینے کی اشیا کی تقسیم میں انتظامیہ کی مدد کررہے ہیں

سربراہ نیشنل گارڈ جنرل جوزف لینگائیل کا کہنا تھا کہ صورت حال ایسی ہے جیسے ہر ریاست کو 54 طوفانوں کا سامنا ہے۔

جنرل جوزف کا کہنا تھا کہ 'تمام 50 ریاستیں، 3 خطے اور ڈی سی میں کووڈ-19 نبردآزما ہیں جس کے لیے آج صبح سے نیشل گارڈ کے 7 ہزار 300 جوانوں اور خواتین اہلکاروں نے مدد فراہم کی ہے'۔