پی آئی اے کے پائلٹ، فلائٹ اٹینڈنٹ میں کورونا وائرس کی تصدیق

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2020
پائلٹ کو قرنطینہ مرکز لے جایا گیا جبکہ فلائیٹ اٹینڈنٹ کو ایک ہوٹل میں آئی سولیشن میں رکھا گیا ہے - اے ایف پی:فائل فوٹو
پائلٹ کو قرنطینہ مرکز لے جایا گیا جبکہ فلائیٹ اٹینڈنٹ کو ایک ہوٹل میں آئی سولیشن میں رکھا گیا ہے - اے ایف پی:فائل فوٹو

راولپنڈی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے پائلٹ اور فلائیٹ اٹینڈنٹ کا اسلام آباد کے ہوٹل کے قرنطینہ مرکز میں کورونا وائرس کی ٹیسٹ مثبت آگیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پائلٹ کو قرنطینہ مرکز لے جایا گیا جبکہ فلائیٹ اٹینڈنٹ کو ایک ہوٹل میں آئی سولیشن میں رکھا گیا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے عملے کے 14 ارکان کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 5 میں کورونا وائرس مثبت آیا جبکہ دیگر 9 میں تصدیق نہیں ہوسکی جس کے بعد انہیں واپس گھر بھیج دیا گیا۔

مزید پڑھیں: 17 لاکھ گھرانوں میں ساڑھے 22 ارب روپے تقسیم کیے جاچکے، ڈاکٹر ثانیہ نشتر

انہوں نے کہا کہ پائلٹ اور فلائیٹ اٹینڈنٹ جو ایک روز قبل ہی کینیڈا سے آئے تھے، کو بالترتیب اسلام آباد میں قرنطینہ مرکز اور آئی سولیشن میں بھیج دیا گیا ہے۔

جہاز کے عملے کے دونوں اراکین 2 اپریل کو چلنے والی کراچی سے ٹورنٹو کی خصوصی پرواز میں موجود تھے جو 8 اپریل کو اسلام آباد واپس آئی تھی۔

ان دونوں کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں دیگر عملے کے اراکین کے ہمراہ قرنطینہ مرکز لے جایا گیا جہاں دونوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 20 مارچ کو کورونا وائرس کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے عملے کے اراکین کو 22 روز بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’کووِڈ 19 کے سوا دیگر امراض سے مرنےوالوں کی میتیں وطن واپس لائیں گے‘

پاکستان ایئرلائنز پائلٹ ایسوسی ایشن (پالپا) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دعویٰ کیا کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے پائلٹ کو پولیس ایسے لے کر گئی جیسے کسی جرم میں گرفتار کرکے لے جارہی ہو۔

تاہم پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ معیاری کام کرنے کے طریقہ کار (ایس او پی) کے مطابق جب کسی عملے کے رکن میں علامات سامنے آتی ہیں اور اسے قرنطینہ منتقل کرنے کی یا آئی سولیشن میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تو ایک ایمبولینس بھیجی جاتی ہے جس کے ساتھ پولیس بھی موجود ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں کورونا کا شکار ہونے والے ایک اور عملے کے رکن کے ساتھ بھی ایس او پی ہی اپنایا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں