’کووِڈ 19 کے سوا دیگر امراض سے مرنے والوں کی میتیں وطن واپس لائیں گے‘

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2020

ای میل

مختلف ممالک میں پھنسے تقریباً 2 ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جاچکا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
مختلف ممالک میں پھنسے تقریباً 2 ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جاچکا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

راولپنڈی: وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت بیرونِ ملک انتقال کرجانے والے ان پاکستانیوں کی میتیں خصوصی پرواز کے ذریعے وطن واپس لائے گی جن کی موت کورونا وائرس کے بجائے کسی اور مرض کی وجہ سے ہوئی ہو۔

اس حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ’ہم بیرونِ ملک سے ان پاکستانی شہریوں کی میتیں لانے کو تیار ہیں جن کا انتقال کووِڈ 19 کے بجائے کسی اور بیماری سے ہوا ہو‘۔

سمندر پار وہ پاکستانی جن کی ملازمتیں ختم ہوگئیں ہیں اور اب وہ وطن واپس آنا چاہتے ہیں سے متعلق غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت متحدہ عرب امارات یا خلیجی ممالک سے ان پاکستانیوں کو ملک میں واپس لانے کے لیے ایک پالیسی تیار کررہی ہے جنہیں نوکریوں اور مستقل یا عارضی طور پر نکال دیا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک پھنسے 4 ہزار پاکستانیوں کو 19 اپریل تک وطن واپس لانے کا اعلان

وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ جب صورتحال معمول پر آئے گی تو حکومت کی اولین ترجیح ان شہریوں کو واپس بھیجنا ہوگی جن کی نوکریاں عارضی طور پر ختم ہوئی ہیں کیوں کہ بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی حکومت کے لیے زرِ مبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں جو سالانہ 21 سے 25 ارب ڈالر ملک میں بھیجتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک دنیا کے مختلف ممالک میں پھنسے تقریباً 2 ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جاچکا ہے۔

اس سلسلے میں حکومت نے دنیا کے مختلف حصوں میں پھنسے شہریوں کی وطن واپسی کے انتظامات کرنے کے لیے ان کو 4 کیٹیگریز میں تقسیم کردیا ہے۔

،مزید پڑھیں: ’کووِڈ 19 کے سوا دیگر امراض سے مرنےوالوں کی میتیں وطن واپس لائیں گے‘

وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث انتقال کرنے والے مریضوں یا مشتبہ افراد کی میتوں تدفین کے لیے ہدایات جاری کردی گئی تھیں۔

ان ہدایات کے مطابق کورونا وائرس سے مرنے والے مریضوں کی تدفین یا آخری رسومات کا انتظام متعلقہ سرکاری حکام اہلِ خانہ کے حقوق، عوام کے وائرس سے متاثر ہونے کے خطرے اور موت کی وجہ کی تحقیقات کی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کریں گے۔


یہ خبر 13 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔