پاکستان نے 'دراندازی' کے بھارتی الزامات کو پھر مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 03 مئ 2020

ای میل

بھارت کی جانب سے تواتر کے ساتھ پاکستان مخالف پروپیگنڈا افسوسناک ہے، عائشہ فاروقی — فائل فوٹو / ریڈیو پاکستان
بھارت کی جانب سے تواتر کے ساتھ پاکستان مخالف پروپیگنڈا افسوسناک ہے، عائشہ فاروقی — فائل فوٹو / ریڈیو پاکستان

پاکستان نے 'دراندازی' کے بھارتی الزامات کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو پیش کش کی ہے کہ وہ بھارتی الزامات کی تفصیلات کے لیے دہلی سے رجوع کرے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے اپنے ایک بیان میں بھارت کی جانب سے دراندازی کے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ 'دراندازی' کے نام نہاد الزامات اور غیر حقیقی 'لانچنگ پیڈز' کو نشانہ بنانے کے بھارتی دعوؤں کو واضح طور پر مسترد کیا ہے، اس کے باوجود بھارت کی جانب سے تواتر کے ساتھ پاکستان مخالف پروپیگنڈا افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے مبینہ الزامات اور پرجوش دعووؤں کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت ان الزامات کو نام نہاد فلیگ آپریشن شروع کرنے اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان، بھارتی جھوٹ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے متعدد مواقع پر غیر جانبدار مبصرین، صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اسلام آباد میں تعینات سفارت کاروں کو کنٹرول لائن کا دورہ کروا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2019 میں بھارتی آرمی چیف کے بے بنیاد الزامات اور دعووؤں کے بعد ہندوستانی سفارت کاروں کو بھی دیگر سفارتکاروں کے ساتھ نام نہاد 'لانچنگ پیڈ'، جسے ہندوستانی توپ خانے نے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، کے دورے کی دعوت دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے دراندازی کے بے بنیاد بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس دعوت کے باوجود بھارتی سفارتکار مبینہ سائٹ کا دورے کے لیے گئے اور نہ ہی بھارتی حکومت نے اپنے دعوے کے مطابق تباہ شدہ سائٹ کے دورے کے لیے کوئی دوسرا رابطہ افسر مقرر کیا۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی حکومت سے مبینہ طور پر نشانہ بنائے گئے اہداف کی تفصیلات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا، مگر اس نے آج تک اس نوع کی کوئی معلومات نہیں دی ہیں۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان کی پالیسی اور نکتہ نظر بڑا واضح ہے، وہ کسی کے خلاف کسی بھی سرگرمی کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے ملٹری مبصر گروپ برائے بھارت ۔ پاکستان کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے سے روک رکھا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے کبھی بھی ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

اقوام متحدہ کو پیشکش

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کو باضابطہ طور پر پیش کش کی ہے کہ وہ مبینہ 'لانچنگ پیڈ' کی معلومات حاصل کرنے کے لیے بھارت سے رجوع کرے اور نئی دہلی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اقوام متحدہ اپنے فوجی مبصرین کے ساتھ شیئر کرے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین پاکستان کے ساتھ بھارت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی تفصیلات شیئر کیے بغیر بھارتی دعوؤں کی توثیق کے لیے کسی بھی علاقے کا دورہ کرنا چاہیں تو پاکستان اس کا خیر مقدم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا عالمی سطح پر کورونا کے وبائی مرض کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ ایسے میں بھارت ذمہ داری کا طرز عمل اختیار کرتے ہوئے زمینی حقائق سے متصادم بیانات اور جارحانہ اقدامات کو ختم کرے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے 'غیرذمہ دارانہ اور جھوٹے' الزامات مسترد کردیے

ترجمان نے امید ظاہر کی کہ بھارت، 2003 کی جنگ بندی کی مفاہمت کی خلاف ورزیوں اور شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے اجتناب کرے گا اور اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے کے لیے بہتر حالات کار فراہم کرے گا جو کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے چند روز قبل بھی ’دراندازی کی کوششوں‘ کے بے بنیاد بھارتی الزامات اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار ’لانچنگ پیڈز‘ کونشانہ بنانے کے من گھڑت دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا تھا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان، بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بے بنیاد دعوے اور اشتعال انگیز بیانات کو بھی مسترد کرتا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ’ہم دشمن پر غالب آچکے ہیں‘۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت من گھڑت الزامات کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران بھی الزام تراشیوں سے باز نہیں آرہا اور آئے روز پاکستان پر کوئی نہ کوئی بے بنیاد الزامات لگاتا رہتا ہے۔

چند ہفتے قبل بھارتی فوج کی 15 کور کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل بی ایس راجو نے 'بی بی سی' سے انٹرویو کے دوران الزام لگایا تھا کہ 'کورونا وائرس کی وجہ سے جن حالات سے پوری دنیا گزر رہی ہے اس میں بھی پاکستان کے رویے میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے اور اس کی طرف سے دراندازی اور کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی جارہی ہے جو شرمناک ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کو اپنے رویے میں بدلاؤ لانے اور زمینی حقائق ماننے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک اپنے اپنے طریقوں سے کورونا کا مقابلہ کر سکیں'۔