پاکستان نے دراندازی کے بے بنیاد بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2020
—فائل فوٹو: ڈان نیوز
—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: پاکستان نے ’دراندازی کی کوششوں‘ کے بے بنیاد بھارتی الزامات اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار ’لانچنگ پیڈز‘ کونشانہ بنانے کے من گھڑت دعوؤں کو سختی سے مسترد کردیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان، بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بے بنیاد دعوے اور اشتعال انگیز بیانات کو بھی مسترد کرتا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ’ہم دشمن پر غالب آچکے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: بھارت: کورونا وائرس کا پھیلاؤ، تبلیغی جماعت کے امیر پر مجرمانہ قتل کا الزام

اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت من گھڑت الزامات کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت ان الزامات کو اپنے کسی ’فالس فلیگ‘ آپریشن کے بہانے کے طورپر استعمال کرنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان مسلسل عالمی برادری کو اس سے متعلق باور اور بھارت پر زور دیتا آیا ہے کہ نئی دہلی ایسی کسی بھی حماقت کے ارتکاب سے گریز رہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل بھارتی جنگی جنون پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا چکا ہے۔

وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ صرف 2020 میں بھارت جنگ بندی کی 882 مرتبہ خلاف ورزی کرچکاہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں ایل او سی پر بے گناہ شہری آبادی کو جان بوجھ کر مسلسل نشانہ بنارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: او آئی سی کی بھارت میں کورونا کے پھیلاؤ کا الزام مسلمانوں پر عائد کرنے کی مذمت

انہوں نے کہا کہ نام نہاد محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کی آڑ میں بھارتی قابض افواج بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں خاص طورپر کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنارہی ہیں جبکہ صرف اپریل کے مہینے میں 29 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں سے 7 رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے آغاز میں شہید کئے گئے۔

اس ضمن میں مزید کہا کہ اس کے علاوہ کشمیری صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور دہشت زدہ کرنے کے واقعات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال مزید پیچیدہ اور مشکل ہوگئی ہے، کشمیریوں کو علاج معالجے، ادویات اور دیگر ضروری اشیا تک رسائی ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے تنازع کے حوالے سے پاکستان کشمیری عوام کی اس وقت تک مکمل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا جب تک انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق خود ارادیت کا ناقابل تنسیخ حق مل نہیں جاتا۔

آئی ایس پی آر کا بھارتی فوجی قیادت کو جواب

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بھی بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر میں دراندازی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں تجویز دی تھی کہ وہ اپنے داخلی مسائل کو درست کریں جو مختلف وجوہات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی فوج کے 15 کور کے کمانڈر کی جانب سے گزشتہ روز برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان پر لگائے گئے دراندازی کے الزامات نا صرف بے بنیاد ہیں بلکہ ان کا مقصد 5 اگست 2019 کو اٹھائے گئے غیر قانونی اقدام جیسے اہم مسئلے سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔

آئی ایس پی آر نے سلسلہ وار ٹوئٹ میں کہا تھا کہ اس کے علاوہ یہ الزامات کہ پاکستان کووڈ 19 متاثرین کے ذریعے مقبوضہ جموں اور کشمیر میں دراندازی کرنا چاہتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کو سرحدی علاقوں کے دورے کی اجازت دی ہے اور ہم شفافیت کے لیے ایسے اقدامات کرتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کی ایل او سی پر بلا اشتعال گولہ باری، پاک فوج کا بھرپور جواب

واضح رہے کہ بھارتی فوج کی 15 کور کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل بی ایس راجو نے 'بی بی سی' سے انٹرویو کے دوران الزام لگایا تھا کہ 'کورونا وائرس کی وجہ سے جن حالات سے پوری دنیا گزر رہی ہے اس میں بھی پاکستان کے رویے میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے اور اس کی طرف سے دراندازی اور کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی جارہی ہے جو شرمناک ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کو اپنے رویے میں بدلاؤ لانے اور زمینی حقائق ماننے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک اپنے اپنے طریقوں سے کورونا کا مقابلہ کر سکیں'۔

خیال رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دراندازی کے الزامات لگائے گئے ہوں اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ بھارتی قیادت کی جانب سے ایسے بے بنیاد الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، تاہم پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کو واضح طور پر مسترد کیا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں