ایران نے فرانسیسی شہری کو 6 سال قید کی سزا سنادی

اپ ڈیٹ مئ 17 2020

ای میل

فیصلے پر فرانس کی حکومت نے احتجاج کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ فوٹو: اے ایف پی
فیصلے پر فرانس کی حکومت نے احتجاج کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ فوٹو: اے ایف پی

دبئی: ایران نے قومی سلامتی کے الزام میں فرانسیسی-ایرانی تعلیمی اداروں سے وابستہ فریبا عادلخوا کو چھ سال قید کی سزا سنا دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیصلے پر فرانس کی حکومت نے احتجاج کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

فریبا عادلخواہ کے وکیل سعید دھقان کا کہنا تھا کہ ’عدالت نے 6 سال قید کی سزا سنائی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تہران کی 15 انقلابی عدالتوں کی شاخ نے انہیں ایران کی قومی سلامتی کے خلاف سازش کرنے پر 5 سال قید کی سزا سنائی جبکہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف پروپیگینڈا کرنے پر مزید ایک سال قید کی سزا بھی سنائی‘۔

مزید پڑھیں: فیصلے پر فرانس کی حکومت نے احتجاج کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

سعید دھقان کا کہنا تھا کہ وہ سزا کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فریبا عادلخواہ کی سزا کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں۔

وزارت نے بیان میں کہا کہ ’یہ سزا کسی سنگین جرم یا حقائق پر مبنی نہیں ہے اور یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایرانی حکام پر زور دے رہے ہیں کہ انہیں فوری رہا کیا جائے‘۔

ایران نے فرانس کی 60 سالہ ماہر بشریات کی رہائی کے سابقہ مطالبات کو مسترد کردیا ہے جو جون 2019 سے زیر حراست ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ یہ مطالبات تہران کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں کہا تھا کہ تہران دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

اس سے قبل ایران نے جون 2019 میں گرفتار ہونے والے 60 سالہ ماہر بشریات کو رہا کرنے کے فرانسیسی حکومت کے گزشتہ مطالبے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مطالبات تہران کے داخلی امور میں مداخلت ہے، تہران دوہری شہریت کو نہیں مانتا۔

مارچ کے مہینے میں سعید دھقان نے بتایا تھا کہ فریبا عادلخواہ کے خلاف جاسوسی کے الزامات ختم کردیے گئے تھے لیکن وہ سیکیورٹی سے متعلق دیگر الزامات کے تحت جیل میں ہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران: امریکا کیلئے جاسوسی کا الزام، 8 افراد کو قید

مارچ میں ہی ایران نے فریبا عادلخواہ کے ساتھ گرفتار ہونے والے ان کے ساتھی فرانسیسی شہری رولینڈ مارچل کو رہا کردیا تھا۔

رولینڈ مارچل کو فرانس کی طرف سے تہران کے خلاف امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا، ایرانی انجینئر جلال روح اللہ نژاد کو رہا کرنے کے بدلے میں ایران نے رہا کیا تھا۔

فرانسیسی عدالت نے مئی 2019 میں ایک ایرانی کمپنی کی جانب سے فوجی مقاصد کے لیے امریکی ٹیکنالوجی کو غیر قانونی طور پر درآمد کرنے کی کوشش کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے روح اللہ نژاد کی امریکا کے حوالے کرنے کی منظوری دی تھی جس کا تعلق امریکی عہدیداروں نے ایران کے پاسداران انقلاب سے بتایا تھا۔

پاسداران انقلاب نے حالیہ برسوں میں درجنوں دوہری شہریت رکھنے والوں کو گرفتار کیا ہے اور ان میں سے زیادہ تر پر جاسوسی کے الزامات عائد کیے ہیں۔