کورونا وائرس: پاکستان میں 41 ہزار سے زائد کیسز، اموات 896 ہوگئیں

ای میل

اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف اقداما ت کیے گئے ہیں—تصویر: اے پی
اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف اقداما ت کیے گئے ہیں—تصویر: اے پی

پاکستان میں کورونا وائرس کے مریض ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اور آج آنے والے نئے متاثرین کے بعد ملک میں مجموعی طور پر مصدقہ کیسز 41 ہزار 300 جبکہ اموات 896 ہوگئی ہیں۔

سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق آج ابھی تک 1571 نئے کیسز کا اضافہ ہوا۔

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس مہلک کورونا وائرس کا اگرچہ پاکستان میں پھیلاؤ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی دیر سے شروع ہوا تاہم اب روز بروز اس کے کیسز میں اضافہ تشویش ناک صورتحال کی طرف معاملات جانے کا اشارہ ہے۔

پاکستان میں 26 فروری 2020 کو پہلا کیس کراچی میں سامنے آیا جبکہ اس وائرس سے ملک میں پہلی موت 18 مارچ کو سامنے آئی۔

وائرس کے ملک میں آنے کے ساتھ ہی مختلف سطح کی بندشیں اور بعد ازاں جزوی لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا جس میں 2 مرتبہ توسیع کے بعد اب مرحلہ وار نرمی کی جارہی ہے۔

اگرچہ فروری اور مارچ کے مہینے میں وائرس کا پھیلاؤ اور اموات کی تعداد کم تھی تاہم جوں جوں ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کیے جانے لگے مثبت کیسز کے آنے کا سلسلہ بھی بڑھ گیا۔

صرف مئی کے ابتدائی 16 روز کے کیسز گزشتہ 2 ماہ کے کیسز سے زیادہ رہے جبکہ اموات کی صورتحال بھی اسی طرح نظر آئی۔

ملک میں پہلے کیس سے 30 اپریل تک ساڑھے 16 ہزار سے زائد لوگ متاثر ہوئے تھے جبکہ اموات 385 تھی۔

تاہم یکم سے 16 اپریل تک 23 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے جبکہ 481 اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔

تاہم یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ کیسز میں اضافہ کی ایک وجہ ٹیسٹنگ میں اضافہ ہونا ہے اور گزشتہ روز قومی کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پاکستان نے وبا کے آغاز سے اب تک اپنی ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں 30 گنا اضافہ ہوا اور اس نے ایک روز میں اب تک کے ریکارڈ 14 ہزار 878 ٹیسٹ کیے۔

علاوہ ازیں آج (17 مئی) کو بھی ملک میں کورونا وبا کے نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ صحتیاب افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

بلوچستان

صوبہ بلوچستان میں کورونا وائرس سے مزید ایک موت ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے۔

بلوچستان حکومت کے مطابق گزشتہ 24گھنٹے کے دوران صوبے میں ایک 60سالہ شخص کی کورونا وائرس سے موت واقع ہوئی جس کے بعد صوبے میں وائرس سے اب تک مرنے والوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے۔

صوبے میں وائرس کے مزید 148 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد اب مجموعی طور پر 2ہزار 692 افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

اب تک رپورٹ ہونےوالے کیسز میں سے 2 ہزار 191 صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ پشین میں 100، قلعہ عبداللہ میں 74 اور جعفرآباد میں 29 افراد وائرس کا شکار ہوئے۔

گزشتہ 24 گھنٹے میں مزید 37 افراد وائرس سے صحتیاب ہوئے جس کے بعد اب تک وائرس سے صحتیاب افراد کی تعداد 454 ہو گئی ہے۔

سندھ

سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 787 نئے کیسز اور 9 اموات کا اضافہ ہوا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 787 نئے کیسز کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 16377 ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 9 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد مجموعی اموات 277 تک پہنچ گئیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے میں اس وقت 114 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 31 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

پنجاب

پنجاب میں بھی کورونا وبا کے مریضوں میں 383 کا اضافہ ہوا جبکہ 7 اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔

ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق صوبے میں کورونا متاثرین کی تعداد ان نئے کیسز کے بعد 14584 ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں مزید 7 اموات بھی ہوئیں جس کے بعد اب تک صوبے میں وبا کے باعث زندگی گنوانے والوں کی تعداد 252 ہوگئی۔

خیبرپختونخوا

ادھر خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید 214 کیسز اور 13 اموات سامنے آگئیں۔

صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے بتایا گیا کہ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 214 متاثرین کا اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 6061 ہوگئی۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ مزید 13 اموات بھی رپورٹ ہوئی اور مجموعی تعداد 318 تک پہنچ گئی۔

اسلام آباد

اسلام آباد میں کورونا وائرس کے مزید 26 متاثرین سامنے آگئے۔

سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ان نئے مریضوں کے بعد متاثرین کی تعداد 921 سے بڑھ کر 947 تک پہنچ گئی ہے۔

گلگت بلتستان

اسی طرح گلگت بلتستان میں بھی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں مزید 9 افراد وائرس سے متاثر ہوئے۔

جس کے بعد وہاں اب تک کورونا وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 518 سے بڑھ کر 527 ہوگئی ہے۔

آزاد کشمیر

مزید برآں اس وائرس سے سب سے کم متاثر علاقے آزاد کشمیر میں بھی کورونا کے نئے مریض آئے۔

آزاد کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی، جس کے ساتھ ہی وہاں مجموعی کیسز کی تعداد 112 ہوگئی۔

صحتیاب افراد

علاوہ ازیں پاکستان میں وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد بھی 11 ہزار سے زائد ہوگئی۔

سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مزید 461 مریض اس مرض سے صحتیاب ہوگئے۔

جس کے ساتھ ہی ملک میں اب تک اس وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 10880 سے بڑھ کر 11341 تک جا پہنچی۔

مجموعی صورتحال

ان تمام کیسز کے بعد اگر مجموعی صورتحال پر غور کریں تو اس وقت 41 ہزار 300 مصدقہ کیسز میں سے 896 وفات جبکہ 11341 شفا پاچکے ہیں تو اس طرح ملک میں فعال کیسز کی تعداد 29 ہزار 63 ہے۔

سندھ میں اس وقت کیسز 16 ہزار 377 ہیں جبکہ پنجاب میں یہ تعداد 14 ہزار 584 ہوچکی ہے۔

خیبرپختونخوا میں اس وبا نے 6 ہزار 61 لوگوں کو متاثر کیا ہے تو وہی بلوچستان میں یہ تعداد 2 ہزار 692 ہے۔

اسلام آباد میں اب تک کورونا سے 947 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں 527 اور آزاد کشمیر میں 112 لوگوں میں اس وبا کی تشخیص ہوچکی ہے۔

اموات کی صورتحال کچھ اس طرح ہے۔

  • **خیبرپختونخوا: 318 **

  • سندھ: 277

  • پنجاب: 252

  • بلوچستان: 37

  • اسلام آباد: 07

  • گلگت بلتستان: 04

  • آزاد کشمیر: 01


پاکستان میں کورونا وائرس

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا اور 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔

تاہم اس کے بعد مذکورہ وائرس نے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کردیے اور اب تک 39 ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

ملک میں کورونا وائرس کے پہلے کیس سے لے کر اب تک کیا صورتحال رہی اور کس روز کتنے کیسز سامنے آئے؟ مکمل تفصیل جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان میں اموات

ملک میں 18 مارچ کو کورونا وائرس سے پہلی موت خیبرپختونخوا میں ہوئی جس کے بعد 31 مارچ تک مجموعی اموات 26 تک پہنچیں۔

تاہم یکم اپریل سے لے کر 30 اپریل تک مزید 359 اموات ریکارڈ کی گئیں، بعد ازاں مئی میں ملک میں اموات کی تعداد 800 سے تجاوز کرگئی جو کورونا وائرس سے متعلق تشویشناک صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔

ملک میں ہونے والی پہلی موت سے لے کر اب تک کس روز کتنی اموات ہوئیں؟ مکمل تفصیل جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔