کیا زیادہ وٹامن ڈی کووڈ 19 کی شدت کم کرسکتا ہے؟

20 مئ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کیا جسم میں وٹامن ڈی کی صحت مند سطح نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار افراد کو آئی سی یو اور موت سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب جاننے کے لیے متعدد ممالک کے سائنسدانوں کی جانب سے کام کیا جارہا ہے اور کچھ نے دریافت کیا ہے کہ کووڈ 19 کے بہت زیادہ بیمار افراد میں اکثر وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔

اسی طرح جن ممالک میں کووڈ 19 سے اموات کی شرح زیادہ ہے، وہاں وٹامن ڈی کی کمی کے شکار آبادی کم اموات والے ممالک سے زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں وٹامن ڈی کی صحت مند سطح ممکنہ طور پر کووڈ 19 کے مریضوں کو مدافعتی نظام کے اس شدید ردعمل سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے جو جسمانی خلیات پر ہی حملہ آور ہوجاتا ہے۔

ابھی تک ابتدائی تحقیق کو کسی طبی جریدے میں شائع نہیں کیا گیا اور ایسے شواہد کی کمی ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وٹامن ڈی کووڈ 19 سے تحفظ یا اس کی شدت معتدل رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

مگر کلینیکل ٹرائلز ڈاٹ جی او وی میں کم از کم 8 تحقیقی رپورٹس میں کووڈ 19 اور وٹامن ڈی کا جائزہ لیا گیا۔

وٹامن ڈی اور کووڈ 19 کے درمیان اب تک ہونے والی تحقیقی رپورٹس

وٹامن ڈی اس وقت بنتا ہے جب سورج کی روشنی جلد سے ٹکراتی ہے، جس کے متعدد فوائد ہیں جیسے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور مدافعتی نظام بہتر ہوتا ہے۔

برطانیہ میں سائنسدانوں نے کووڈ 19 کے کیسز اور وٹامن ڈی کی اوسط سطح اور اموات کی شرح کی جانچ پڑتال 20 یورپی ممالک میں کی۔

انہوں نے دریافت کیا کہ جن ممالک کی آبادی میں وٹامن ڈی کی کمی زیادہ تھی وہاں کووڈ 19 کے کیسز اور اموات کی شرح بھی زیادہ تھی۔

اسی طرح امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے تخمینہ لگایا کہ وٹامن ڈی کی 17 فیصد کمی کووڈ 19 کے سنگین شدت کا باعث بنتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ وٹامن ڈی اور کووڈ 19 کے سنگین کیسز کے درمیان تعلق موجود ہے۔

لوزیانا اور ٹیکساس کے سانسدانوں کی ایک تحقیق میں کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج 20 مریضوں کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ ان میں سے جن 11 مریضوں کو آئی سی یو میں داخل کیا گیا، وہ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار تھے۔

انڈونیشیا میں 780 کووڈ 19 کے مریضوں کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا گیا کہ جن زیادہ تر مریضوں کی ہلاکتیں ہوئیں، ان میں وٹامن ڈی کی سطح معمول سے کم تھی۔

آئرلینڈ میں بھی سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ جن ممالک میں وٹامن ڈی کی کمی زیادہ ہے وہاں کووڈ 19 سے ہلاکتیں بھی زیادہ ہیں۔

کووڈ 19 سے قبل وٹامن ڈی کے فوائد پر تحقیق

اگرچہ وٹامن ڈی اور کووڈ 19 کے درمیان تعلق پر تحقیق کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے، مگر دیگر تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس سے نظام تنفس کے انفیکشن کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

محققین نے 1918 اور 1919 کے اسپیشنس فلو انفلوائنزا کی وبا کا جائزہ لینے کے بعد دریافت کیا کہ جن مریضوں میں وٹامن ڈی کی سطح صحت مند سطح تھی، ان میں اموات کا امکان بھی کم تھا۔

وٹامن ڈی کی سطح اور مدافعتی نظام کے جان لیوا ردعمل کے درمیان تعلق پر بھی تحقیق ابتدائی مراحل میں ضرور ہے مگر حیران کن نہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی مدافعتی نظام کو دباتا نہیں بلکہ بہتر کرتا ہے، وٹامن ڈی سے مدافعتی خلیات کم ورم کا شکار ہوتے ہیں۔

اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی اور کووڈ 19 کی شدت کو تو دریافت کیا گیا مگر ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس وٹامن ڈی کو دوبارہ معمول کی سطح پر لانا کس حد تک علاج میں مدد دے سکتا ہے۔

اسی طرح یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ جن افراد میں وٹامن ڈی صحت مند سطح پر ہوتا ہے، وہ اس وائرس سے بچ سکتے ہیں۔

ساؤتھ ایسٹرن فلپائن یونیورسٹی کے ایک محقق نے کووڈ 19 کے 212 مریضوں میں وٹامن ڈی کی سطح کی جانچ پڑتال کرکے دریافت کیا کہ اس کی کمی کے شکار افراد کی حالت نازک ہوتی ہے جبکہ زیادہ سطح والے مریضوں میں بیماری کی شدت معتدل ہوتی ہے۔

تحقیقی مقالے میں کہا گیا کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس ممکنہ طور پر کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج میں مدد دے سکتا ہے۔

برطانوی محققین کا کہنا تھا کہ ہم پہلے سے جاتنے ہیں کہ وٹامن ڈی صحت کے لیے مفید ہے مگر ابھی مزید شواہد کا انتظار ہے جو کووڈ 19 اور وٹامن ڈٰ کے درمیان تعلق کو ثابت کرسکیں۔

دوسری جانب ساڑھے 3 لاکھ کے قریب افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں جس میں 449 کووڈ 19 کے مریض بھی شامل تھے، میں وٹامن ڈی کی سطح اور اس بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق دریافت نہیں کیا جاسکا۔

وٹامن ڈی کے افعال

خون کے ایک سادہ ٹیسٹ سے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح کا تعین کیا جاسکتا ہپے۔

مانا جاتا ہے ک ہوٹامن ڈی سے خلیات کی نشوونما بہتر ہوتی ہے جبکہ ورم کم ہوتا ہے جبکہ کچھ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ اس کی مدد سے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کے مسائل کی روک تھام بھی کی جاسکتی ہے، مگر فی الحال نتائج واضح نہیں۔

وٹامن ڈی کو قدرتی طور پر کچھ غذاؤں جیسے دہی، انڈے اور مچھلی سمیت دیگر سے حاصل کیا جاسکتا ہے جبکہ سپلیمنٹس کی شکل میں بھی دستیاب ہوتا ہے۔

مگر وٹامن ڈی کی بہت زیادہ مقدار بھی جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے خون میں کیلشیئم جمع ہونے لگتا ہے جو قے، کمزوری، زیادہ پیشاب اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کا باعث بن سکتا ہے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی جانب سے ایک ٹرائل کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس میں دیکھا جائے گا کہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کا خطرہ یا شدت کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں یا نہیں۔