طیارہ حادثہ: لواحقین شناخت کے بغیر ہی لاشیں لے جارہے ہیں، فیصل ایدھی

اپ ڈیٹ مئ 26 2020

ای میل

دوسری جانب حکومت سندھ نے مذکورہ معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے —فوٹو: فیس بک پیج
دوسری جانب حکومت سندھ نے مذکورہ معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے —فوٹو: فیس بک پیج

سماجی کارکن مرحوم عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے اور ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے مسافر طیارے کے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین شناخت کے بغیر ہی لاشیں زبرستی اپنے ساتھ لے جارہے ہیں۔

فیصل ایدھی نے ’بی بی سی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لواحقین کے پاس کوئی قانون دستاویزات بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہلاک شدگان کے ورثا نے ہنگامہ آرائی کی اور شناخت کے بغیر 36 لاشیں اپنے ہمراہ لے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثہ: تفتیشی ٹیم میں ایئرفورس عملے کی اکثریت پر پائلٹس کو تحفظات

دوسری جانب حکومت سندھ نے مذکورہ معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

اس ضمن میں بی بی سی نے واضح کیا کہ وہ تاحال آزاد ذرائع سے فیصل ایدھی کے مؤقف کی تصدیق نہیں کرسکے۔

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے ایدھی سینٹر سے لاشوں کو زبردستی ساتھ لے جانے سے متعلق واقعے پر کہا کہ فیصل ایدھی نے صوبائی حکومت سے رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت فیصل ایدھی سے رابطہ کرے گی اور ان کو درکار سیکیورٹی فراہم کریں گے‘۔

اس سے قبل حکومت سندھ نے کہا تھا کہ پی آئی اے طیارہ حادثے میں مرنے والے تمام افراد مسافر تھے جن میں سے 19 کی شناخت ہو گئی ہے اور بقیہ کی شناخت ڈی این اے سے کی جائے گی جس کے نتائج آنے میں 21 دن لگیں گے۔

صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے کہا تھا کہ بقیہ لاشوں کو سرد خانے میں رکھ دیا گیا ہے اور ان کے ڈی این اے سیمپل لے لیے گئے ہیں جس کے نتائج آنے میں 21 دن لگیں گے جبکہ لواحقین میں سے 47 نے اپنے ڈی این اے دے دیے ہیں جبکہ بقیہ رشتے داروں سے بھی رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزیدپڑھیں: عید کے موقع پر طیارہ حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین اشک بار

انہوں نے مزید کہا تھا کہ سب کے ڈی این اے نمونے لیے گئے ہیں اور یہ نمونے کراچی یونیورسٹی میں حکومت سندھ کی لیبارٹری میں بھیجے گئے ہیں جبکہ 47 لواحقین نے بھی نمونے جمع کرائے ہیں تاکہ وہ انہیں ملا کر دیکھ سکیں اور تصدیق کر سکیں۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کا طیارہ اے 320-214 میں 99 افراد سوار تھے اور دوبارہ لینڈ کرنے کی کوشش کے دوران طیارہ تباہ ہو گیا تھا جبکہ طیارے میں سوار 97 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ دو افراد معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔

لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ پی کے 8303 کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترنے سے کچھ منٹ قبل ہی تکنیکی خرابی کے باعث قریبی آبادی میں گر گر تباہ ہوا۔

اگرچہ مذکورہ حادثے سے قبل بھی کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں کے قریب فضائی حادثات رونما ہوچکے ہیں، تاہم بد قسمتی سے 22 مئی کی سہ پہر ہونے والا حادثہ اب تک کا کراچی میں ہونے والا بڑا اور بدترین حادثہ سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ،97 افراد جاں بحق

ملکی تاریخ کا سب سے بدترین فضائی حادثہ ایک دہائی قبل جولائی 2010 میں دارالحکومت اسلام آباد کے قریب مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں طیارے کے گرنے سے پیش آیا تھا۔