چین، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن چکا ہے، سفارتکار

اپ ڈیٹ 25 مئ 2020

ای میل

چین اور امریکا کے درمیان کوروبا وائرس کو لے کر لفظی جنگ بھی جاری ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
چین اور امریکا کے درمیان کوروبا وائرس کو لے کر لفظی جنگ بھی جاری ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ جوزف بوریل نے چین اور امریکا کے مابین راستہ بنائے جانے کے معاملے اور یورپ میں بڑھتی ہوئی بحث و مباحثے کے دوران کہا ہے کہ ایشیائی صدی، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن چکی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’دی گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق جرمن سفارتکاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’تجزیہ کار طویل عرصے سے امریکی کے زیر قیادت نظام کے خاتمے اور ایشیائی صدی کی آمد کے بارے میں بات کررہے ہیں، یہ بات اب ہماری نظروں کے سامنے ہورہی ہے‘۔

مزید پڑھیں: چین اور امریکا کے درمیان کورونا وائرس کے حوالے سے لفظی جنگ میں تیزی

جوزف بوریل نے کورونا وائرس کی وبا کو ایک اہم موڑ قرار دیا اور کہا کہ ’دونوں اطراف (امریکا یا چین) میں سے کسی ایک کے انتخاب کرنے کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ 27 ممالک کے یورپی یونین کو ’اپنے مفادات اور اقدار پر عمل کرنا چاہیے اور ایک یا دوسرے کا آلہ کار بننے سے گریز کرنا چاہیے۔

جوزف بوریل نے مزید کہا کہ ہمیں چین کے لیے مزید مضبوط حکمت عملی سمیت دیگر جمہوری ایشیائی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی بھی ضرورت ہے۔

یورپی یونین امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے خلاف تضادم پر مبنی مؤقف کی حمایت کرنے سے گریزاں ہے۔

مزید پڑھیں: کیا واقعی امریکی خاتون کورونا کو چین لے کر گئی تھیں؟

بوریل نے کہا کہ یورپی یونین چین کے معاملے میں محتاط تھا لیکن اب اس کا خاتمہ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس ماہ متعدد یورپی اخباروں میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں چین کے حوالے سے مزید اجتماعی نظم و ضبط پر زور دیا گیا ہے۔

یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات سے متعلق تھنک ٹینک کے ایسوسی ایٹ سینئر پالیسی کے ساتھی اینڈریو سمال نے کہا کہ بیجنگ کچھ عرصہ پہلے تک روس کے یورپی یونین کے شکوک و شبہات کو چھپانے میں کامیاب رہا۔

انہوں نے کہا کہ چین نے 8-2007 میں یورپ کی معاشی بحالی میں قرضوں سے متعلق اہم فیصلے لے کر مدد کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کا چین پر سخت مؤقف تھا لیکن اگر یورپ نے چین کو یکسر طور پر مسترد کر دیا تو اس کے پاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں مرکزی ساتھی بچے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: چین کا اینیمیٹڈ ویڈیو کے ذریعے امریکا کا مذاق

واضح رہے کہ امریکا نے چین اور روس پر کورونا وائرس وبا کے بارے میں غلط بیانیہ پھیلانے کے لیے تعاون بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیجنگ، ماسکو کی بنائی گئی تکنیک کو اپنا رہا ہے۔

خارجی پروپیگنڈا پر نظر رکھنے والے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے گلوبل انگیجمنٹ سینٹر کی کوآرڈینیٹر لیا گیبریل نے کہا تھا کہ ’کورونا وائرس بحران سے پہلے ہی ہم نے پروپیگنڈا کے میدان میں روس اور چین کے درمیان ایک خاص سطح کی ہم آہنگی دیکھی تھی‘۔

واضح رہے کہ امریکا اور چین کے مابین ٹیرف میں اضافے پر کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے مابین صورتحال مزید تشویش ناک ہوگئی جب امریکا نے الزام لگایا کہ دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ چین ہے، اس نے ووہان کی لیبارٹری میں وائرس تیار۔

بیجنگ نے امریکا کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وائرس امریکی فوجی اہلکار چین لے کر آئی اور امریکا، چین کے ساتھ تعلقات کو سرد جنگ کی طرف لے کر جا رہا ہے۔

کورونا وائرس کے معاملے پر چین اور امریکا کے درمیان ایک عرصے سے لفظی جنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب اگر بات کی جائے امریکا میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تو وہاں 16 لاکھ سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی مخالفت کی ہے۔