کیا بھارت ورلڈ کپ 2019 میں انگلینڈ سے جان بوجھ کر میچ ہارا؟

اپ ڈیٹ جون 06 2020

ای میل

انگلینڈ نے بھارت کو اس میچ میں 31رنز سے شکست دے دی تھی— فائل فوٹو: اے ایف پی
انگلینڈ نے بھارت کو اس میچ میں 31رنز سے شکست دے دی تھی— فائل فوٹو: اے ایف پی

مشہور انگلش آل راؤنڈر بین اسٹوکس نے ورلڈ کپ 2019 میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں بھارت پر جان بوجھ کر ہارنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے میچ جیتنے کی کوئی کوشش نہ کی۔

واضح رہے کہ ورلڈ کپ میں انگلینڈ اور بھارت کے درمیان میچ کھیلا گیا تھا اور اس میچ میں شکست سے بھارت کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ پہلے ہی سیمی فائنل راؤنڈ میں جگہ کے مضبوط امیدوار تھے۔

مزید پڑھیں: بھارت کو ورلڈ کپ میں پہلی شکست، انگلینڈ کی فتح

لیکن انگلینڈ کے لیے یہ میچ جیتنا انتہائی اہم تھا اور میچ ہارنے کی صورت میں وہ ایونٹ سے باہر ہوسکتے تھے اور پاکستان کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات بڑھ جاتے۔

انگلینڈ نے 7وکٹوں کے نقصان پر 337 رنز بنائے تھے لیکن ہدف کے تعاقب میں اچھی پوزیشن ہونے کے باوجود بھارت یہ میچ مشکوک طریقے سے بیٹنگ کرتے ہوئے 31رنز سے ہار گیا۔

اس میچ میں بھارتی بلے بازوں خصوصاً دھونی کی بیٹنگ پر بہت سوالات اٹھائے گئے کیونکہ بھارتی ٹیم اس میچ کو جیت سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’آخری اوورز میں جیت کا کوئی ارادہ نظر کیوں نہیں آیا؟’

اب انگلش آل راؤنڈ بین اسٹوکس نے جلد ہی شائع ہونے والی اپنی کتاب 'آن فائر' میں اس میچ کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے اپنے تجربات بیان کیے اور انہیں کوہلی اور روہت شرما کے ساتھ ساتھ دھونی کی بیٹنگ بھی عجیب معلوم ہوئی۔

انہوں نے لکھا کہ جب مہندرا سنگھ دھونی بیٹنگ کے لیے آئے تو بھارت کو جیت کے لیے 11 اوورز میں 112 رنز درکار تھے لیکن وہ جس طرح کھیلے وہ انتہائی عجیب تھا، چھکے مارنے کے بجائے ان کی دلچسپی سنگل رن لینے میں زیادہ نظر آئی، جب درجنوں گیندیں باقی تھیں، اس وقت بھی بھارت جیت سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھونی اور ان کے پارٹنر کیدار جادھو کی جانب سے یا تو کوشش کی ہی نہیں گئی یا پھر بہت کم کوشش کی گئی، میرے خیال میں جب فتح کی امید ہو تو آپ ہمیشہ پوری کوشش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایک دہائی بعد ثانیہ مرزا نے شعیب ملک سے شادی کرنے کا راز بتادیا

انہوں نے انکشاف کیا کہ انگلینڈ کے ڈریسنگ روم کو محسوس ہوا کہ دھونی نے میچ کو آخر تک لے جانے کی کوشش کی تاکہ ان کا ایونٹ میں رن ریٹ برقرار رہ سکے۔

دھونی نے 31 گیندوں پر 42 رنز بنائے لیکن ان میں سے بھی اکثر رن آخری اوور میں بنائے گئے جب میچ کا نتیجہ یقینی طور پر انگلینڈ کے حق میں جا چکا تھا۔

اسٹوکس نے لکھا کہ ہمارے کیمپ میں یہ تھیوری چل رہی تھی کہ دھونی ہمیشہ سے ہی ایسا کھیلتے ہیں، حتیٰ کہ اگر بھارت ہار بھی جائے تو بھی وہ میچ کو آخر تک لے جانے کے لیے کوشاں تھے تاکہ بھارت کا رن ریٹ اچھا ہی رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے التوا کی خبریں درست نہیں، آئی سی سی

انگلش آل راؤنڈر نے روہت شرما اور کپتان ویرات کوہلی کی بیٹنگ پر بھی سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ روہت شرما اور ویرات کوہلی نے جس طرح بیٹنگ کی وہ تھوڑا حیران کن تھا، مجھے معلوم ہے کہ اس دوران ہمارے باؤلرز نے اچھی باؤلنگ کی لیکن جس طرح انہوں نے بیٹنگ کی وہ انتہائی عجیب تھا۔

واضح رہے کہ میچ میں کوہلی اور شرما نے 27 اوورز میں 138رنز کی شراکت قائم کی تھی اور بڑا اسکور کرنے کے باوجود کسی بھی موقع پر دونوں نے جارحانہ بیٹنگ کی کوشش نہیں کی۔

اسٹوکس نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کوہلی اور روہت شرما کی وجہ سے ان کی ٹیم میچ میں بہت پیچھے رہ گئی، انہوں نے ہماری ٹیم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش تک نہیں کی، اس کے برعکس وہ میچ کو طول دیتے رہے اور ہمارے ہاتھوں میں کھیلتے رہے۔

مزید پڑھیں: جاپانی ٹینس اسٹار ناؤمی اوساکا مہنگی ترین خاتون ایتھلیٹ بن گئی

انہوں نے بھارتی کپتان کی جانب سے گراؤنڈ کی ایک جانب 59میٹر کی باؤنڈری پر کی جانے والی شکایت کو بھی انتہائی عجیب قرار دیا اور کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنی عجیب و غریب شکایت نہیں سنی۔

ان کا کہنا تھا کہ میچ میں دونوں ٹیموں کو بیٹنگ کا موقع ملا، دونوں نے یکساں گیندوں کا سامنا کیا، تو ایسے کیسے ممکن ہے کہ کھیل کے احاطے سے ایک ٹیم کو فائدہ پہنچا اور دوسری ٹیم کو نقصان، میرے خیال میں یہ اب تک کرکٹ میں کی جانے والی سب سے بدترین شکایت تھی۔