جاپانی ٹینس اسٹار ناؤمی اوساکا مہنگی ترین خاتون ایتھلیٹ بن گئی

اپ ڈیٹ جون 03 2020

ای میل

ناؤمی نے 2018 میں پہلی مرتبہ یو ایس اوپن جیتا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
ناؤمی نے 2018 میں پہلی مرتبہ یو ایس اوپن جیتا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

جاپان کی 22 سالہ ٹینس اسٹار ناؤمی اوساکا نے گزشتہ برس 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کما کر تاریخ میں مہنگی ترین خاتون ایتھلیٹ کا اعزاز حاصل کرلیا۔

فوربز کی رپورٹ کے مطابق ناؤمی اوساکا نے امریکا کی تجربہ کار ٹینس کھلاڑی سرینا ولیمز کو اس اعزاز سے محروم کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سرینا ولیمز نے جب 1999 میں پہلا گرینڈ سلیم جیتا تھا تو ناؤمی اوساکا محض ایک سال کی تھیں تاہم 19 برس بعد انہوں نے سرینا ولیمز کو یو ایس اوپن کے فائنل میں شکست دے کر اپنا پہلا گرینڈ سلیم جیتا تھا۔

مزید پڑھیں:ناؤمی اوساکا گرینڈ سلیم فائنل میں پہنچنے والی پہلی جاپانی کھلاڑی

ناؤمی اوساکا نے اب سال میں سب زیادہ کما کر سرینا ولیمز کو مالی میدان میں بھی شکست دے دی ہے۔

جاپانی اسٹار نے گزشتہ ایک برس کے دوران انعامی رقم اور دیگر مد میں 3 کروڑ 74 لاکھ ڈالر کمایا جو سرینا کے مقابلے میں 14 لاکھ ڈالر زیادہ ہے جبکہ تاریخ میں کسی بھی خاتون ایتھلیٹ کی جانب سے ایک سال میں سب سے زیادہ کمانے کا ریکارڈ بھی ہے۔

روس کی ماریا شراپوا نے 2015 میں 2 کروڑ 97 لاکھ ڈالر کما کر ریکارڈ بنایا تھا۔

دنیا بھر میں مہنگے ترین ایتھلیٹس کی فہرست میں ناؤمی اوساکا 29 ویں نمبر پر ہیں جبکہ سرینا ولیمز کی 33ویں پوزیشن ہے۔

مہنگے ترین ایتھلیٹس کی فہرست کے ابتدائی 100 ناموں میں 2016 کے بعد دو خواتین شامل ہوئی ہیں۔

فوربز کی رپورٹ کے مطابق 2020 کے مہنگے ترین ایتھلیٹس کی فہرست ایک ہفتے کے اندر جاری کردی جائے گی۔

یو ایس سی کے مارشل اسکول آف بزنس کے پروفیسر ڈیوڈ کارٹر کا کہنا تھا کہ 'ٹینس کی کم معلومات رکھنے والے افراد کے لیے ناؤمی اوساکا ایک عظیم پس منظر کے ساتھ ایک نیا چہرہ ہے'۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سرینا ولیمز مسلسل 4 برسوں تک مہنگی ترین خاتون ایتھلیٹ کا اعزاز اپنے نام کر رہی تھیں۔

ناؤمی اوساکا نے 2018 میں یو ایس اوپن اور 2019 میں آسٹریلین اوپن جیت کر ٹینس کے کورٹ میں اپنی دھاک بٹھادی تھی جبکہ اس کے علاوہ دیگر کئی اہم ٹورنامنٹس میں بھی وہ پراعتماد انداز میں کارکردگی دکھا کر کامیابیاں سمیٹ چکی ہیں۔

جاپان میں پیدا ہونے والی ناؤمی کے والد امریکی ملک ہیٹی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ان کی والدہ جاپانی ہیں اور وہ 3 سال کی عمر میں اہل خانہ کے ساتھ امریکا منتقل ہوئی تھیں۔