10 جون تک بیرون ملک سے 20 ہزار پاکستانیوں کو لائیں گے، معید یوسف

اپ ڈیٹ جون 03 2020

ای میل

—فائل/فوٹو:ڈان نیوز
—فائل/فوٹو:ڈان نیوز

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈویژن اور اسٹریٹجک پالیسی پلاننگ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد 10 جون تک بیرون ملک پھنسے ہوئے 20 ہزار پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی تجویز کے مطابق ہم ٹیسٹ کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ہر ہفتے مسافروں کی تعداد میں مزید اضافہ کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ '10 جون تک بیرون ملک پھنسے 20 ہزار پاکستانیوں کی واپسی کا منصوبہ ہے جو گزشتہ مرحلے کے 10 ہزار سے زیادہ ہے'۔

مزید پڑھیں:یکم جون سے 10جون تک 20 ہزار پاکستانی واپس لائیں گے، معید یوسف

انہوں نے کہا کہ 'آج سے اس کا آغاز کیا جارہا ہے، مسافروں کے پہنچتے ہی ٹیسٹ کیے جائیں گے اور ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کیے بغیر آئسولیشن کے لیے گھر بھیج دیا جائے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'انہیں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے جوڑا جائے گا اور صوبائی حکومتیں مسافروں اور عوام کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کےلیے جائزہ لے پائیں گی'۔

معید یوسف نے پروازوں کا نیا شیڈول جاری کرتے ہوئے کہا کہ'مزید اچھی خبر یہ ہے کہ اس پالیسی کو مزید فعال بنانے کے لیے ہم مسافروں کے ڈیٹا کا جائزہ لیں گے'۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر معید یوسف نے 30 مئی کو معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اس وقت لگ بھگ ایک ہزار پاکستانی روزانہ واپس آرہے ہیں اور یکم جون سے 10 جون تک لگ بھگ 20 ہزار لوگ واپس آئیں گے یعنی روزانہ دو ہزار لوگ آئیں گے جو ہماری گزشتہ پالیسی کا دوگنا ہے'۔

معید یوسف نے کہا تھا کہ 'ہمارا اصل مسئلہ خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی واپسی ہے، یکم جون سے 10 جون کے دوران متحدہ عرب امارات سے 8 ہزار، 4 ہزار سعودی عرب سے واپس لائیں گے کیونکہ ان دو ممالک سے بہت زیادہ دباؤ آرہا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:بیرون ملک سے آئے پاکستانیوں کیلئے 48 گھنٹے قرنطینہ کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا تھا کہ 'بہت جلد ہم ایک نئی پالیسی لا رہے ہیں جس کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کے لیے خوش خبری ہے کہ واپس لانے کی تعداد بڑھا رہے ہیں اور جو مسائل ہیں وہ بھی جلد ختم ہوجائیں گے، اس حوالے سے تفصیلات چند روز میں جاری کریں گے'۔

مشیر قومی سلامتی امور نے کہا تھا کہ سمندر پار پاکستانی جو واپس آنا چاہتے ہیں ان میں سے دنیا کے 55 ممالک سے 33 ہزار پاکستانیوں کو واپس لاچکے ہیں۔

اس سے قبل 11 مئی کو پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم پوری کوشش کرکے ایک نئی پالیسی لائے ہیں جس کے تحت لوگ مکمل حفاظت کے بعد گھر جاسکیں گے، ہم نے اعداد و شمار اور بین الاقوامی طریقوں کے مطابق مذکورہ فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اب تک دنیا بھر کے مختلف ممالک سے 20 ہزار پاکستانیوں کو واپس لایا جاچکا ہے، بیرون ملک پھنسے ایک لاکھ 10 ہزار پاکستانی وطن واپسی کے خواہش مند ہیں اور اس تعداد میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ ہم 11 مئی سے 21 مئی تک ہم 10 ہزار 710 پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کا ارادہ رکھتے ہیں جنہیں 22 ممالک سے لایا جائے گا۔