لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو 17 جون تک شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیا

ای میل

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی —فوٹو: ڈان نیوز
آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی —فوٹو: ڈان نیوز

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی عبوری درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو(نیب) کو انہیں 17 جون تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل شہباز شریف نے عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی جسے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم علی خان نے درخواست آج (3 جون کو) سماعت کے لیے مقرر کردی تھی۔

جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی جانب سے گرفتاری کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور: نیب ٹیم کا شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے رہائش گاہ پر چھاپہ

سماعت کے آغاز پر عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار شہباز شریف کہاں ہیں اس پر ان کے وکیل نے بتایا کہ وہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں اور کینسر کے مریض ہیں۔

عدالت نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو گرفتاری کا خدشہ ہے؟ اس پر وکیل نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے جو جو ریکارڈ مانگا وہ دے دیا پھر بھی نیب گرفتاری کے لیے بے تاب ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ شہباز شریف کے خلاف کیس کس اسٹیج پر ہے جس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کیس اس وقت تحقیقاتی مرحلے پر ہیں۔

بعدازاں عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ قومی احتساب بیورو شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی مخالفت کرتا ہے جس پر نیب کے وکیل فیصل بخاری نےکہا کہ ضمانت کی مخالفت کی جائے گی۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہاکہ شہباز شریف کو 2 جون کو طلب کیا گیا لیکن وارنٹ 28 مئی کے تھے اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ جب وارنٹ پہلے نکلے تو نیب نے 2 جون کو کیوں بلایا۔

جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ جب قومی احتساب بیورو کے پاس گرفتاری کا مواد آیا تب شہباز شریف کے وارنٹ جاری کیے گئے۔

بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کی عبوری درخواست ضمانت منظور کرلی اور 17 جون تک نیب کو شہباز شریف کی گرفتاری سے روک دیا۔

ضمانت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا تھا کہ نیب کا رویہ افسوسناک ہے، جمہوری دور میں غیر جمہوری رویہ اپنایا گیا۔

علاوہ ازیں لاہور ہائی کورٹ سے ریلیف ملنے کے بعد نیب لاہور نے شہباز شریف کو 9 جون کو طلب کرلیا۔

شہباز شریف کو عدالت پہنچنے کی اجازت دینے کی درخواست

قبل ازیں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی اور لاہور ہائی کورٹ بار کے سیکریٹری ہارون دوگل نے شہباز شریف کے ہائیکورٹ پہنچنے سے قبل راستے سے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی تھی۔

درخواست گزار نے کہا تھا کہ عبوری ضمانت کے لیے عدالت پہنچنا شہباز شریف کا قانونی حق ہے، پولیس نے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کردیں ہیں۔

انہوں نے استدعا کی تھی کہ عدالت شہباز شریف کو باحفاظت عدالت پہنچنے کی اجازت دے۔

علاوہ ازیں پاکستان بار کونسل کے رکن اعظم نصیر تارڑ نے بھی اسی ضمن میں درخواست دائر کی تھی۔

پولیس کی تعیناتی قانون کی خلاف ورزی ہے، رانا ثنااللہ

شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت سے قبل پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی، رانا ثنااللہ اور ترجمان مریم اورنگزیب لاہور ہائی کورٹ پہنچے تھے۔

لاہور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان مسلم لیگ(ن) مریم اورنگزیب نے کہا کہ اس وقت عوام دشمن چور حکومت مسلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام دشمن بجٹ قائد عوام کی آواز کو بند کرنے کے لیے ہے، کنٹینر پر ملک بھر کو بند کرنے والے شخص نے پورے ملک کو منجمد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

مریم اورنگزیب نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز کو بند کرنے کے لیے چور عوام دشمن بجٹ بنانا چاہتے ہیں اور ہم یہ ہونے نہیں دیں گے۔

علاوہ ازیں رانا ثنااللہ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گی جو قانون کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پاکستان نے محب الوطن شہری ہیں، وہ ضمانت لینا چاہتے ہیں جو انکا قانون حق ہے۔

ہمیں جیلوں میں بھجوانے والے خود جیلوں میں جائیں گے، شاہد خاقان عباسی

علاوہ ازیں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مل کر 200 ارب روہے کا ڈاکا ڈالا ہے وہ چینی فراڈ کی فکر کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جیلوں میں جانے سے نہیں ڈرتے، ہمیں جیلوں میں بھجوانے والے خود جیلوں میں جائیں گے۔

ان کے بعد رہنما مسلم لیگ(ن) احسن اقبال نے کہا کہ اپوزیشن کو گرفتار کرکے حکومت سمجھتی ہے کہ کام کر رہے ہیں، حکومت بوکھاہٹ کا شکار ہے

انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا، ٹڈی دل اور معشیت بےقابو ہوگئی ہے، حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ آمریت کا دور دیکھ چکے ہیں پرویز مشرف دور میں پیچھے نہیں ہٹے تو اب یہ کیا کر لیں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں قائم ان کی رہائش گاہ پہنچنے والی قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم وہاں سے واپس روانہ ہوگئی تھی۔

نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے کیس میں تفتیش کے لیے طلب کیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے جس کے بعد نیب کی ٹیم پولیس کے ہمراہ ان کے گھر پہنچ گئی تھی۔

قومی احتساب بیورو کی ٹیم شہباز شریف کے گھر میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک موجود رہی جس کے بعد وہ شہباز شریف کی گھر میں عدم موجودگی کے باعث واپس روانہ ہوگئی تھی۔

یاد رہے کہ شہباز شریف 4 مئی کو نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں ان سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس سے متعلق سوالات کیے گئے تھے۔

نیب نے شہباز شریف کے جوابات کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے انہیں 2 جون کو دوبارہ طلب کرلیا تھا۔

لاہور میں شہباز شریف کی نیب میں پیشی کے حوالے سے معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا تھا کہ پیشی کے دوران شہباز شریف نے ایک بار پھر نیب ٹیم کے سوالوں کے مناسب جواب نہیں دیے۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کے جوابات سے نیب غیر مطمئن، 2 جون کو دوبارہ طلب کرلیا

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف احتساب ادارے کے پاس موجود اپنے اثاثوں کی تفصیلات دیکھ کر حیران رہ گئے جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق سوالوں کے جواب دینے سے قاصر رہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے شہباز شریف سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک سوالات کیے تاہم وہ نیب کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر مارچ میں لندن سے وطن واپس آئے تھے جس کے بعد سے نیب نے متعدد مرتبہ طلب کرلیا تھا۔

قبل ازیں 17 اور 22 اپریل کو شہباز شریف نے کورونا وائرس کے باعث صحت کو وجہ بناتے ہوئے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ نیب نے انہیں طبی ہدایات کے مطابق تمام تر احتیاطی تدابیر اپنانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

شہباز شریف نے اپنے وکیل کے توسط سے مطلوبہ دستاویز قومی احتساب بیورو میں جمع کروادیے تھے تاہم نیب نے ان دستاویزات اور شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر سوالات کا جواب دینے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔