بھارت خطے میں عدم استحکام کیلئے ریاستی دہشتگردی کی پالیسی استعمال کررہا ہے، پاکستان

اپ ڈیٹ جون 04 2020

ای میل

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، بھارت کے الزامات کو مسترد کرتا ہے جن کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، بھارت کے الزامات کو مسترد کرتا ہے جن کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کے مطابق بھارت اپنے پڑوسی ممالک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کررہا ہے۔

اس حوالے سے دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم (ایم ٹی) پاکستان کے مؤقف کی توثیق کرتی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان سے بھارتی تعاون سے چلائی جارہی ہے کو پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق ایم ٹی نے آزادانہ پر اندازہ لگایا کہ بھارت سے غیر ملکی دہشت گرد جنگجو آئی ایس آئی ایل-خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) میں شمولیت کے لیے افغانستان جارہے ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ قراردادیں بھارت سے دہشت گردوں کو افغانستان جانے سے روکنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے دراندازی کے بے بنیاد بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا

ایم ٹی کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ دیکھا گیا کہ گزشتہ برس افغانستان میں برصغیر میں القاعدہ کے رہنما، بھارتی شہری کو بین الاقوامی فورسز کی جانب سے قتل کیا گیا تھا۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ قبل ازیں اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس میں بھارت میں داعش دولت اسلامیہ اور عراق (آئی ایس آئی ایل) کی بڑھتی طاقت اور 2019 میں سری لنکا میں ایسٹر سنڈے پر ہونے والے حملوں کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، بھارت کے الزامات کو مسترد کرتا ہے جن کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے طالبان اور اس سے وابستہ دیگر افراد سے متعلق اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم (ایم ٹی) کی گیارہویں رپورٹ کو پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے غلط انداز میں پیش کرنا افغانستان کے امن، استحکام اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مانیٹرنگ ٹیم (ایم ٹی) کی رپورٹ میں پاکستان میں 'محفوظ ٹھکانوں' کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہے۔

گزشتہ روز کئی بھارتی اداروں نے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے بیان کا حوالہ دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی حالیہ ایم ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ریاستی تعاون سے کالعدم دہشت گرد تنظیمیں اور افراد محفوظ ٹھکانوں میں موجود ہیں اور رپورٹ میں بھارت کے مؤقف کو درست قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ مخصوص حلقوں کی جانب سے ایم ٹی کو افغانستان میں فراہم کی گئی بریفنگز پر مبنی ہے جو طویل عرصے سے افغان امن عمل پر شکوک و شبہات کا اظہار کرچکے ہیں۔

بیان کے مطابق ان شکوک و شبہات کو عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اور اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے ایم ٹی رپورٹ کے مواد کو مسخ کرنا اور اس میں جعلی الزامات سے انکشاف ہوتا ہے کہ بھارت کا ایجنڈا افغان امن عمل کے لیے پیچیدگیاں پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے 'غیرذمہ دارانہ اور جھوٹے' الزامات مسترد کردیے

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان دنیا کو افغانستان کے اندر اور باہر موجود امن عمل کو بگاڑنے والوں کے کردار سے خبردار کرتا رہا ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان، افغانستان میں پاکستان کے خلاف دہشت گردوں تنظیموں کی بھارتی حمایت کی نشاندہی کرتا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے بھارتی دہشت گردی کے سہولت کاروں کی فہرست ان کی شمولیت کے شواہد کے ساتھ فراہم کی ہے، ہمیں امید ہے کہ سلامتی کونسل انہیں جلد دہشت گرد قرار دے گی۔

دفتر خارجہ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام طویل عرصے سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے متاثر ہورہے ہیں خاص طور پر 5 اگست 2019 کو آر ایس ایس سے متاثرہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کی انتہاپسند حکومت کے ظالمانہ اور جبری لاک ڈاؤن کا شکار ہیں۔