اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو شوگر کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد سے روک دیا

اپ ڈیٹ 11 جون 2020

ای میل

شوگر ملز مالکان کی جانب سے 70 روپے فی کلو چینی فروخت کرنے پر رضامندی کے بعد عدالت نے مشروط حکم امتناع جاری کردیا۔ فائل فوٹو:ڈان
شوگر ملز مالکان کی جانب سے 70 روپے فی کلو چینی فروخت کرنے پر رضامندی کے بعد عدالت نے مشروط حکم امتناع جاری کردیا۔ فائل فوٹو:ڈان

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت کو شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عمل کرنے سے روک دیا ، جس میں صنعتوں کو عوامی پیسے کا غلط استعمال اور کارٹلائزیشن کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا۔

عدالت میں چینی کی صنعت کے نمائندوں کی جانب سے اسے 70 روپے فی کلو پر فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد عدالت نے 10 دن کے لیے چینی رپورٹ پر عمل درآمد پر مشروط حکم امتناع جاری کردیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے یہ احکامات آج جمعرات کو انکوائری کمیشن کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر خان ترین، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کے اہلخانہ سمیت پوری شوگر انڈسٹری کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کے دوران دیے۔

درخواست گزاروں نے دعوٰی کیا کہ تحقیقاتی رپورٹ ’آئین کے مینڈیٹ اور 2017 کے ایکٹ کے تحت تشکیل دیئے جانے والے فیڈرل کمیشن آف انکوائری کی حدود سے تجاوز کرتی ہے کیونکہ یہ صوبوں کے خصوصی قانون سازی اور ایگزیکٹو ڈومین کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے‘۔

مزید پڑھیں: سلمان شہباز چینی اسکینڈل کے مرکزی کردار ہیں، شبلی فراز

شوگر ملز کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری کمیشن نے اپنی 324 صفحات کی رپورٹ میں بہت زیادہ وجوہات بیان کیں ہیں، کمیشن کے مطابق شوگر بہت زیادہ موجود تھی لیکن ماحول ایسا بنایا گیا کہ شوگر کم ہے اور اس کا بحران پیدا ہوگا۔

انہوں نے ایگزیکٹو اتھارٹی کے اختیارات کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے۔

چیف جسٹس نے اس بحران کے حوالے سے کمیشن کے نتائج کے بارے میں دریافت کیا اور مل مالکان سے سوال کیا کہ کمیشن نے کیا بتایا کہ شارٹ فال کیوں ہوئی، جتنی آپ کی پیداوار ہے اس میں سے عوام کو کتنا فروخت کیا جاتا ہے؟۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’چینی عام آدمی کی ضرورت ہے حکومت کو بھی اس حوالے سے ہی اقدامات اٹھانے چاہئیں، کمیشن نے عام آدمی کی سہولت کے لیے کوئی نتائج نہیں دیے، جس مقصد کے لیے کمیشن بنا تھا وہ پورا ہی نہیں ہوا، کمیشن کو عام آدمی کو چینی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کچھ کرنا تھا لیکن نہیں کیا گیا‘۔

جج نے مزید کہا کہ ’یہ عدالت عام طور پر ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی لیکن چینی ہر عام آدمی کی ضرورت ہے، حکومت کوکا کولا پر سبسڈی دے رہی ہے مگر عوام کو بنیادی حقوق کیوں فراہم نہیں کررہی ہے؟‘۔

عدالت کو صنعتوں کے وکیل کے ذریعے بتایا گیا کہ نومبر 2018 میں چینی کی قیمت فی کلو 53 روپے تھی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صرف دو سال کے عرصے میں یہ 85 روپے ہوگئی ہے تاہم اس پر وکیل نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا اگر اگلی سماعت تک مل مالکان اس کو 70 روپے فی کلو فروخت کرنے پر راضی ہوجائیں تو عدالت حکم امتناع جاری کرے گی جس پر ان کے وکیل نے اتفاق کیا۔

بعد ازاں جج نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر سے یہ بھی پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت عدالت کے اس اختیار کی مخالفت کرے گی جس پر انہوں نے نفی میں جواب دیا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی بحران رپورٹ: 'جہانگیر ترین، مونس الہٰی،شہباز شریف فیملی کی ملز نے ہیر پھیر کی'

عدالت نے وفاقی حکومت سمیت درخواست میں نامزد تمام جواب دہندگان کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو کیس کی سماعت 10 دن کے بعد طے کرنے کی ہدایت کردی۔

شوگر کمیشن کی رپورٹ

واضح رہے کہ حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ 21 مئی کو سامنے لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، دو کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اکاؤنٹنگ کی مد میں فراڈ ہوا ہے اور گنے کی خریداری میں انڈر رپورٹنگ کی جارہی ہے، پاکستان میں جتنا گنا پیدا ہوتا ہے اور جتنی چینی پیدا ہوتی ہے اور جتنی فروخت ہوتی ہے اس میں 25 سے 30 فیصد کا فرق آرہا ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا تھا انکوائری کمیشن کو مل مالکان کی جانب سے 2، 2 کھاتے رکھنے کے شواہد ملے ہیں، ایک کھاتہ سرکاری اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، ایف بی آر کو دکھایا جاتا ہے اور دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع موجود ہوتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ انکوائری کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں شوگر ملز ایک کارٹیل کے طور پر کام کررہی ہیں اور کارٹیلائزیشن کو روکنے والا ریگولیٹر ادارہ مسابقتی کمیشن پاکستان اس کو روک نہیں پارہا، 2009 میں مسابقتی کمیشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق رپورٹ کیا تھا جس کے خلاف تمام ملز مالکان میدان میں آگئے تھے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شوگر ملز کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے 6 بڑے گروہ جو پاکستان کی چینی کی 51 فیصد پیداوار کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کے پیداواری حجم کی بنیاد پر آڈٹ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: حکومت چینی بحران کی فرانزک رپورٹ عوام کے سامنے لے آئی

شہزاد اکبر نے کہا کہ سب سے بڑا گروپ جے ڈی ڈبلیو ہے جن کا چینی کی پیداوار میں 20 فیصد کے قریب حصہ، آر وائے کے کا 12فیصد، المعیذ گروپ کا 6.8 فیصد، تاندیا والا کا 5 فیصد، شریف گروپ کا 4.5 فیصد اور اومنی گروپ کا 1.6 فیصد حصہ ہے۔

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ جے ڈی ڈبلیو شوگر مل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما جہانگیر ترین کے 21 فیصد حصص ہیں، علی خان ترین کے 13 فیصد، احمد محمود صاحب کے 26 فیصد شیئرز ہیں اور یہ واحد کمپنی ہے جس میں 24 فیصد شیئر عوام کا ہے، انہوں نے کہا کہ جے ڈی ڈبلیو نے 2 کھاتے رکھے تھے، اوور انوائسنگ اور انڈر رپورٹنگ بھی پائی گئی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جے ڈی ڈبلیو نے کرشنگ یونٹس میں اضافہ کیا، بگاس اور مولیسس کی فروخت کو انڈر انوائس کیا جس کی وجہ سے پیداواری لاگت میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں کارپوریٹ فراڈ بھی سامنے آیا اور جے ڈی ڈبلیو کی جانب سےفارورڈ سیلز، بے نامی فروخت اور سٹہ کے شواہد سامنے آئے ہیں۔