'بھارت کورونا اور دفاعی محاذ پر ناکامی سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کیخلاف بیان بازی کررہا ہے'

اپ ڈیٹ 11 جون 2020

ای میل

وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ہندوستان نے کوئی حماقت کی تو منہ توڑ، بھرپور اور فی الفور جواب دیں گے— فائل فوٹو: اے پی
وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ہندوستان نے کوئی حماقت کی تو منہ توڑ، بھرپور اور فی الفور جواب دیں گے— فائل فوٹو: اے پی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی معیشت کورونا سے تباہ ہو چکی ہے، انہیں مقبوضہ کشمیر اور لداخ میں مار پڑ رہی ہے اور ان سب سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت پاکستان کے خلاف جارحانہ بیان بازی کرتا ہے۔

وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان، خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور ہماری توجہ افغانستان پر ہے جہاں ہم افغان امن عمل کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت نے فضائی حملے کی غلطی کی تو منہ توڑ جواب دیں گے، وزیرخارجہ

ان کا کہنا تھا کہ ہم مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا حل چاہتے ہیں اور ہم ہندوستان کے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر ہندوستان یہ سمجھتا ہے کہ ہم ان کی دھمکیوں سے کشمیریوں کی حمایت سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے جو انہیں دل سے نکال دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مؤقف اصولی ہے اور ہم اصولی مؤقف پر قائم ہیں جبکہ بین الاقوامی صورتحال بھی ہمارے مؤقف کی تائید کرتی ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم کی قراردادیں تنازع جموں و کشمیر پر ہمارے اصولی مؤقف کو تقویت دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی ملاقات

وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ اگر ہندوستان نے کوئی حماقت کی تو منہ توڑ، بھرپور اور فی الفور جواب دیں گے۔

انہوں نے اپنے بھارتی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی اور امیت شاہ بتائیں کہ لداخ میں کیا ہورہا ہے اور ہندوستان کا میڈیا کیوں خاموش ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا کا میڈیا کہہ رہا ہے کہ آپ نے اپنا ایریا سرنڈر کردیا، آپ نے متنازع علاقے میں شرارت کی جس پر ردعمل فطری تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم تو اپنا دفاع اللہ کے کرم سے کرلیں گے، آپ لداخ پر جواب دیں؟ کیا آپ کا سرجیکل اسٹرائیک کا رعب صرف پاکستان کی طرف ہے؟

مزید پڑھیں: بھارت کی کسی بھی فوجی مہم جوئی کے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہوں گے، پاک فوج

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھی وزیر خارجہ نے بھارتی وزیر داخلہ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سے قبل بھارتی ریاست اڑیسہ میں اپنے خطاب میں بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے مودی حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے دور میں پاکستان کے اندر جاکر سرجیکل اسٹرائیک کا حکم دیا تھا۔

وزیر خارجہ نے جمعرات کو جاری بیان میں مزید کہا کہ ہندوستان معاشی طور پر پٹ چکا ہے اور یونیورسٹی آف شکاگو، یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے ساتھ ساتھ خود بھارتی معاشی تحقیقی مرکز کی رپورٹ اس امر کا ثبوت ہے اور ان اداروں کی رپورٹس بتارہی ہیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت کا ستیاناس ہوچکا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے 84 فیصد کنبوں کی آمدنی گر گئی ہے اور 11 سال میں بھارت میں اتنی کم شرح نمو نہیں تھی جو کورونا پر غلط حکمت کی وجہ سے ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے سابق سفارتکار کو افغانستان کیلئے نمائندہ خصوصی تعینات کردیا

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی شہریوں کے لیے خوراک اور غذائی قلت کا چیلنج بہت بڑھ چکا ہے، لوگ ڈپریشن کا شکار ہورہے ہیں، گھروں میں تشدد بڑھ گیا ہے اور بھارتی حکومت اس سلسلے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت دھمکیاں دیتا ہے اور پاکستان کے خلاف جارحانہ بیانات دیتا ہے، انہیں جموں وکشمیر اور لداخ میں مار پڑ رہی ہے، معیشت برباد ہو چکی ہے اور اپوزیشن بھارتی حکومت پر الزام لگارہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ بھارتی حکمران پاکستان کو سافٹ ٹارگٹ سمجھتے ہیں لیکن پاکستان سافٹ ٹارگٹ نہیں۔

انہوں نے پڑوسی ملک کے حکام سے سوال کیا کہ نیپال اور بنگلہ دیش آپ سے کیوں نالاں ہے؟ چین سے آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ سری لنکا آپ سے خوش کیوں نہیں؟ خطے کے تمام ممالک بھارت سے نالاں ہیں۔

اس موقع پر وزیر خارج نے بھارتی خارجہ پالیسی کو مزید نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خلیج کے خطے کے مسلمانوں کے جذبات واحساسات بھی بھارت کے بارے میں اچھے نہیں اور بھارتی رویے سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا لاک ڈاؤنز سے دنیا کو احساس ہورہا ہے کہ کشمیری کن حالات میں ہیں، وزیر خارجہ

ان کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی طرف سے مسلسل خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اور یہ ہندوستان کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے تاکہ عوام اور میڈیا کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹائی جا سکے۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے بھی پڑوسی ملک کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت آگ سے کھیلنے کی کوشش نہ کرے اور ان کی کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو ہر سطح اور ہر محاذ پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور موجودہ بھارتی قیادت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ان تمام تر ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا واحد ذریعہ پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی ہے۔

بابر افتخار نے کہا کہ پاک فوج کے ترجمان کی حیثیت سے میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، ہم تیار ہیں، ہم جواب دیں گے اور پوری طاقت سے جواب دیں گے۔