جوبائیڈن کا بھارت سے کشمیریوں کے حقوق بحال کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 29 جون 2020

ای میل

ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کئی اہم امور پر واضح موقف اپنایا— فائل فوٹو: اے اپی
ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کئی اہم امور پر واضح موقف اپنایا— فائل فوٹو: اے اپی

واشنگٹن: امریکا کے صدارتی امیدوار اور سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق بحال کرے اور ساتھ ہی حالیہ آئینی ترمیم پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جس میں خصوصاً مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حال ہی میں اپنی مہماتی ویب سائٹ پر شائع کردہ ایک پالیسی پیپر 'مسلم امریکی برادری کا ایجنڈا' میں جوبائیڈن نے مغربی چین میں 10 لاکھ سے زیادہ ایغور مسلمانوں کی جبری نظربندی اور میانمار کے روہنگیا مسلمان کے خلاف امتیازی سلوک کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں کشمیر اور آسام کے مسئلے کو اٹھایا ہے۔

مزید پڑھیں: جو بائیڈن کا منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ کے غلط فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان

نومبر میں صدر منتخب ہونے کی صورت میں جو بائیڈن نے اپنی پالیسیوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ہندوستانی حکومت کو کشمیریوں کے حقوق کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنا چاہئیں، پرامن احتجاج کو روکنا یا انٹرنیٹ بند کرنا یا انٹرنیٹ کو سست کرنا جبکہ اظہار رائے پر پابندیوں سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔

پیپر میں کہا گیا کہ آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر پر عمل درآمد اور اس کے بعد کیے گئے اقدامات اور شہریت ترمیمی قانون کی منظوری جیسے اقدامات سے جو بائیڈن کو مایوسی ہوئی، مقالے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات ملک کی سیکولرازم کی طویل روایت اور پائیدار نسلی اور کثیر مذہبی جمہوری تشخص برقرار رکھنے سے متصادم ہیں۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 2016 کی صدارتی مہم میں مسئلہ کشمیر پر بھی روشنی ڈالی اور جولائی 2019 میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں اس تنازع کو حل کرنے میں مدد کی پیش کش کی۔ تب سے اب تک وہ اپنے اس پیشکش کو دو بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سوئٹزرلینڈ میں انٹرنیشنل فورم پر دہرا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جو بائیڈن پر ہراسانی کے الزامات لگانے والی خاتون ان کی کامیابی کی خواہاں

لیکن جو بائیڈن جو ابھی تک بیشتر آرا و رائے شماری میں ٹرمپ سے کم از کم 10 نکات آگے ہیں، نے اپنے پالیسی مقالے میں اس سمیت مسلمانوں کے دیگر امور کے بارے میں بھی ایک واضح مؤقف اپنایا ہے۔

پیپر میں مزید کہا گیا کہ مسلم اکثریتی اور اہم مسلمان آبادی والے ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس بارے میں ہم مسلمان امریکیوں کے دکھ کو بھی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مغربی چین میں 10 لاکھ سے زیادہ ایغور مسلمانوں کو نظربند کرنے کا کوئی جواز نہیں، صدر کی حیثیت سے جو بائیڈن سنکیانگ میں قید خانے کے کیمپوں کے خلاف بات کریں گے اور اس گھاؤننے جرم میں ملوث عوام اور کمپنیوں کا محاسبہ کریں گے، مزید برآں برما کے روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور مظالم نفرت انگیز ہیں اور اس سے امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: نینسی پلوسی نے جوبائیڈن کی امریکی صدارتی امیدوار کے طور پر توثیق کردی

اس مقالے میں اعلان کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے بہت سارے عقائد کے لوگ سیاسی اور معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ اصولی امریکی سفارتکاری کی واپسی کے حامی ہیں تاکہ وقار، خوشحالی اور امن کی تلاش میں ان کی مدد کی جا سکے۔

وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوباما کے دونوں ادوار میں نائب صدر کے منصب پر فائز رہنے والے جو بائیڈن نے سابقہ ​​انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ کے لیے بنائی گئی حکمت عملی کا بھی دفاع کیا جس کی وجہ سے جولائی 2015 میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر دستخط ہوئے۔

لیکن مئی 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ سرکاری طور پر اس معاہدے سے دستبردار ہوگئی اور اس کے بعد سے ایک ایسی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس میں ایران کو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ وہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اتحاد کے خواہاں ہیں۔

اس پالیسی میں اصلاح کا وعدہ کرتے ہوئے جو بائیڈن کے پالیسی مقالے میں کہا گیا کہ ان تبدیلیوں میں بیرون ملک سعودی عرب کی انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی کھلی چھوٹ کو ختم کیا جائے گا اور یمن میں جنگ کا خاتمہ شامل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ جو بائیڈن کے دفاع میں سامنے آگئے

اگر جو بائیڈن انتظامیہ منتخب ہو جاتی ہے تو ان اہداف کے حصول کے لیے دوستوں اور حریفوں دونوں کے ساتھ انسانی حقوق کے بارے میں سخت بات چیت کرے گی۔

اس مقالے میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کچھ مسلم اکثریتی ممالک کے عوام خصوصاً مہاجرین کی حیثیت سے امریکا آنے سے روکنے کے فیصلے کو بھی مسترد کردیا گیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ نئی انتظامیہ تنازع سے بھاگنے والے پناہ گزینوں کا دوبارہ ہمارے ساحل پر استقبال کرے گی۔

اسرائیل اور فلسطین تنازع کے حساس مسئلے سے خطاب کرتے ہوئے پالیسی مقالے میں کہا گیا کہ بحیثیت صدر بائیڈن اسرائیلیوں اور فلسطینیوں سے یکساں بات کرتے ہوئے امن، آزادی، سلامتی اور خوشحالی کے ساتھ مل کر رہنے کے راستے اور دو ریاستی حل کی تلاش میں مدد کریں گے۔