جو بائیڈن کا منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ کے غلط فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 30 اپريل 2020

ای میل

جو بائیڈن انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مد مقابل ہوں گے—فوٹو: بلوم برگ
جو بائیڈن انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مد مقابل ہوں گے—فوٹو: بلوم برگ

سابق امریکی نائب صدر اور رواں برس نومبر میں ڈیموکریٹک کے صدارتی امیدوار 77 سالہ جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ امریکی صدر بن جاتے ہیں تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک غلط فیصلے کو برقرار رکھیں گے۔

جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر وہ انتخابات جیت جاتے ہیں تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے والے فیصلے کو اختلافات کے باوجود تسلیم کریں گے اور امریکی سفارت خانے کو دوبارہ منتقل نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے ایک سال بعد ہی عالمی تنقید کے باوجود دسمبر 2017 میں یروشلم (بیت المقدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکا کے اس متنازع فیصلے پر مسلم ممالک سمیت امریکا کے اتحادی و قریبی یورپی ممالک نے بھی تنقید کی تھی، تاہم اس کے باوجود امریکا نے اگلے ہی سال مئی 2018 میں اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کردیا تھا۔

امریکا کی جانب سے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیے جانے کے ایک ہفتے کے اندر ہی دوسرے ممالک نے بھی اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے سفارت خانے تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنا شروع کردیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کے بعد آسٹریلیا نے بھی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرکے اپنے ہی 1995 میں بننے والے قانون یروشلم سفارت خانہ ایکٹ کی خلاف ورزی کی تھی۔

امریکا کے محکمہ خارجہ کے مذکورہ ایکٹ کے مطابق امریکا اس بات کا پابند ہے کہ وہ تل ابیب کو ہی اسرائیل کا دارالحکومت مانے گا اور وہیں پر امریکا کا سفارت خانہ ہوگا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس ایکٹ کو ہی نظر انداز کردیا تھا۔

علاوہ ازیں امریکا نے اقوام متحدہ (یو این) کے عالمی قوانین کے ایکٹ کی خلاف ورزی بھی کی، کیوں کہ اقوام متحدہ نے 1947 میں یروشلم کو عالمی خود مختار شہر قرار دیا تھا، جس کا مطلب کہ مذکورہ شہر کے انتظامات اسرائیل کے پاس نہیں تاہم اس باوجود امریکا نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے ایک نیا تنازع کھڑا کیا۔

اور اب امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے بھی کہا ہے کہ اگر وہ صدر بنتے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کے اسی فیصلے کو تبدیل نہیں کریں گے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی صدارتی امیدوار نے ایک ورچوئل فنڈ ریزنگ تقریب میں خطاب کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اسرائیل میں امریکا کا سفارت خانہ یروشلم میں ہی رہنے دیں گے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذکورہ فیصلے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا مگر اب اگر انہوں نے ایسا کردیا ہے تو وہ دوبارہ غلطی نہیں کریں گے اور سفارت خانے کو وہیں رہنے دیں گے۔

میساچوٹس میں ہونے والی اسی تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے اسی معاملے پر مزید وضاحت کی کہ مذکورہ معاملے کو اسی تناظر میں نہیں ہونا چاہیے تھا، اسے وسیع تناظر اور امن کے پھیلاؤ کے طور پر کیا جانا چاہیے تھا۔

مزید پڑھیں: 'بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینا ناقابل قبول ہے'

جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ مذکورہ فیصلے کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ نے فائدہ اٹھایا تاہم انہوں نے ان کے فائدے کی وضاحت نہیں کی۔

امریکی صدارتی امیدوار کے مطابق اگر وہ صدر منتخب ہوجاتے ہیں اور امریکی سفارت خانے کو ایک بار پھر یروشلم سے تل ابیب منتقل کریں گے تو معاملہ مزید بگڑ جائے گا اور اس سے امن میں بھی خلل پڑے گا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرتے وقت امریکا نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور شرائط کو بھی مکمل نہیں کیا مگر اب وہ ہو چکا تو اسے دوبارہ یروشلم سے دوسری جگہ منتقل کرنا درست نہیں۔

جو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ صدر بن جاتے ہیں تو وہ مشرقی یروشلم میں امریکی قونصلیٹ کھولیں گے تاکہ فلسطین و امریکا کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔