ڈونلڈ ٹرمپ جو بائیڈن کے دفاع میں سامنے آگئے

اپ ڈیٹ 19 نومبر 2019

ای میل

شمالی کوریا کی جو بائیڈن پر تنقید کے جواب میں ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے سیاسی حریف کا دفاع کیا — فائل فوٹو
شمالی کوریا کی جو بائیڈن پر تنقید کے جواب میں ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے سیاسی حریف کا دفاع کیا — فائل فوٹو

2020 کے انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سیاسی حریف جو بائیڈن کے درمیان لفظی جنگ میں اضافے کی امید کی جارہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس کے نامزد امیدوار کے طور پر دیکھے جانے والے جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کا نشانہ رہے ہیں۔

تاہم چند تنقید ایسی بھی ہوتی ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقیدوں سے بھی آگے نکل جاتی ہیں۔

امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے شمالی کوریا کی جانب سے جو بائیڈن پر ایسی ہی ایک تنقید پر جواب دیتے ہوئے اپنے سیاسی حریف کا ہی دفاع کیا۔

مزید پڑھیں: مواخذے کی کارروائی، ٹرمپ کے خلاف ایک اور گواہی ریکارڈ

شمالی کوریا نے جو بائیڈن پر ان کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن پر تنقید کرنے کے جواب میں تنقید کی۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے 'کے سی این اے' کا کہنا تھا کہ 'جو بائیڈن جیسے کتوں کو اگر کھلا چھوڑا جائے تو وہ کئی لوگوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، انہیں ایک ڈنڈے سے مار مار کر ہلاک کردینا چاہیے'۔

امریکی صدر نے ردعمل میں کم جون ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'جناب چیئرمین، جو بائیڈن نیند میں ہوں یا سست ہوں پر وہ کتے نہیں بلکہ وہ اس سے کہیں بہتر ہیں اور صرف میں ہی آپ کو وہاں پہنچا سکتا ہوں جہاں آپ کو ہونا چاہیے، آپ کو فوری کام کرتے ہوئے ڈیل کو مکمل کرنا چاہیے'۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کم جونگ ان سے جلد ملاقات کا عندیہ بھی دیا۔

یہ بات واضح نہیں کہ شمالی کوریا نے جو بائیڈن کے خلاف اس طرح کا بیان کیوں دیا تاہم خیال رہے کہ جو بائیڈن نے ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقاتوں پر کڑی تنقید کی تھی۔

شمالی کوریا کے بیان کے رد عمل میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ 'میں اس طرح کی بے عزتی کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتا ہوں'۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کیخلاف مواخذہ: یوکرین میں امریکی نمائندہ خصوصی مستعفی

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ڈیموکریٹک حریف اور نائب صدر جو بائیڈن کو نقصان پہنچانے کے لیے یوکرین کے صدر سے مدد طلب کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی جس پر ان کے مواخذے کی کارروائی بھی جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر کے مابین گفتگو کی ٹرانسکرپٹ منظر عام پرآنے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عہدے اور اختیار کا غلط استعمال کرنے کے الزامات کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

الزامات کے مطابق ریپبلکن صدر ٹرمپ نے یوکرین کی تقریباً 4 کروڑ ڈالر کی امداد روکی اور یوکرین میں توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرینی حکام پر دباؤ ڈالا۔

ٹرمپ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور مواخذے کی کارروائی کو 'وچ ہنٹ' قرار دیا تھا۔

گزشتہ ماہ بند کمرے میں سماعت کے دوران گواہی دینے والے ولیم ٹیلر نے تازہ سماعت کے دوران کہا کہ وہ اس وقت سے ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی یونین میں امریکی سفیر گورڈن سونڈ لینڈ کے درمیان ٹیلی فونک کال کے بارے میں جانتے ہیں جب سے اسے ان کے عملے کے ایک رکن نے سنا تھا۔

ٹیلر نے بتایا کہ عملے کے رکن نے ٹرمپ کو سونڈ لینڈ سے تحقیقات کے بارے میں پوچھتے ہوئے سنا تھا اور عملے کے اس رکن نے ٹیلی فونک کال کے بعد سونڈ لینڈ سے پوچھا تھا کہ یوکرین کے بارے میں ٹرمپ کیا سوچتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سوال کے جواب میں سونڈ لینڈ نے جواب دیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے زیادہ بائیڈن کے خلاف کارروائی میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کے لیے گیولیانی دباؤ ڈال رہے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مواخذے کی کارروائی کو ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا جا رہا ہے جہاں کروڑوں امریکی ناظرین اس کارروائی کو براہ راست دیکھ سکتے ہیں البتہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے 2020 کے صدارتی انتخاب پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔