جب قوم پرست مودی کا سامنا قوم پرست ٹرمپ سے ہوا

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2020

ای میل

رافعہ ذکریا وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔
رافعہ ذکریا وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔

بھارت میں ان دنوں گرمیاں کچھ زیادہ خوشگوار نہیں گزر رہی ہیں۔ ایک طرف نیپالیوں نے رسوا کیا ہوا ہے، تو دوسری طرف چینیوں نے اس زمین پر قبضہ کرلیا ہے جسے یہ اپنا علاقہ بتاتے ہیں اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاکھوں بھارتیوں کو ایک ہی جھٹکے میں دیوار سے لگا دیا ہے۔

گزشتہ پیر یعنی 22 جون کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے صدارتی حکم نامے پر دستخط ثبت کیے جس کے تحت ایچ ون بی (H-1B)، جے (J) اور ایل (L) ویزوں کے اجراء پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

پہلے سے نافذ العمل یہ حکم نامہ سال کے آخر میں منسوخ ہوجائے گا اور اس کے سبب سب سے زیادہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ بھارتی متاثر ہوں گے جو ایچ ون بی (H-1B) ویزا کے تحت امریکا آنے والے غیر ملکیوں کا 70 فیصد حصہ بنتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جو افراد پہلے سے ہی ایچ ون بی (H-1B) ویزا رکھتے ہیں وہ اس حکم نامے سے متاثر نہیں ہوں گے تاہم یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا ایچ ون بی (H-1B) ویزوں میں توسیع کا سلسلہ جاری رہے گا یا نہیں۔

گزشتہ دہائیوں کے دوران گوگل اور مائیکرو سافٹ جیسی امریکی ٹیکنالوجی کمپینیوں نے سیکڑوں اور ہزاروں انجینئروں کو اس شعبے میں ملازمت کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ ان کمپنیوں کے علاوہ سیلیکون ویلی میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہنے والی انفوسز اور ٹاٹا جیسی بھارتی کمپنیاں بھی ان ویزوں کو ماہرانہ صلاحیتوں کے حامل بھارتی ملازمین کو امریکا میں لانے کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔

ہر سال قرعہ اندازی کے ذریعے جاری کیے جانے والے تقریباً 85 ہزار ایچ ون بی (H-1B) ویزوں کے ساتھ ساتھ بھارتی ادارے ہزاروں بھارتیوں کو امریکا لانے کی غرض سے کمپنی کے داخلی تبادلوں کے لیے ایل (L) ویزا کے استعمال پر پہلے ہی مہارت حاصل کرچکے تھے۔

پڑھیے: وادی گلوان تنازع، بھارت کو ایک اور کارگل کا سامنا؟

لیکن اب وہ دن چلے گئے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے افسران کی شکایت تھی کہ یہ کمپنیاں تھرڈ پارٹی اور آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کو استعمال کرتے ہوئے ایسے ملازمین کو نوکریاں دینے میں کامیاب ہورہی ہیں جو امریکی ملازمین سے کم تنخواہ لیتے ہیں لہٰذا امریکی اجرت کو نیچے لانے کی ذمہ دار بھی یہی کمپنیاں ہیں۔

اعداد و شمار کے تجزیے سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹاٹا اور انفوسز جیسے ادارے (ایپل اور ایمازون جیسی کمپنیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ) ہزاروں کی تعداد میں ویزا کی درخواستیں دیتے رہے اور امریکی ملازم عام طور پر جتنی تنخواہ لیتے ہیں، یہ اس کے محض 70 فیصد حصے پر ملازمین کو نوکریاں دے رہے تھے۔

اب چونکہ ملازمین مالکان کے ممنون تھے کہ ظاہر ہے یہی مالکان انہیں امریکی لیبر مارکیٹ تک لانے کی وجہ بنے تھے، اس لیے (دستاویز میں درج اجرت پر رکھے جانے کے باوجود) وہ نہ تو کبھی اس بارے میں کوئی شکایت کرسکتے تھے اور نہ ہی یو ایس سیٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کی توجہ میں یہ بات لاسکتے تھے۔

ان کمپنیوں نے تو بہت پہلے ہی اس الزام کو رد کردیا تھا، مگر اعداد و شمار کا جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کے مؤقف کی تائید کے لیے کافی ہے۔ گزشتہ برس 2 لاکھ 78 ہزار 491 ویزے بھارتیوں، قریب 50 ہزار 408 ویزے چینیوں اور 58 ہزار 303 ویزے دیگر ممالک کے باشندوں کو جاری کیے گئے۔ (اس گنتی میں نئے ایچ ون بی اور توسیع شدہ ویزے بھی شامل ہیں)۔ قصہ مختصر یہ کہ بھارت ماہرانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو دھڑا دھڑ امریکا لانے کے لیے اس ویزا درجہ بندی میں غالب رہا۔

اور پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی، یعنی اس حکم نامے نے بھارت میں ہنگامہ کھڑا کردیا۔ بھارٹی ٹی وی چینلوں پر تجزیہ نگار اس بات پر زور دیتے نظر آئے کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے اور تمام ویزے جلد ہی دوبارہ دستیاب ہوں گے۔

ایک تجزیہ نگار نے یہ بھی ثابت کردیا کہ کس طرح یہ حکم نامہ مودی کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ثابت نہیں کرتا، ایسی پالیسی جس کے ذریعے بھارت کو امریکا کی صف میں کھڑا کرنے کی کوششیں کی گئیں (جو بظاہر ناکام رہیں)۔

ایک دوسرے تجزیہ نگار نے ان کی مشترکہ بڑی ریلیوں اور ٹرمپ کے دورہ بھارت کو فضول قرار دیتے ہوئے خوب مذاق اڑایا۔ ایک تجزیہ نگار نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ایچ ون بی H-1B ویزا کے بھارتی درخواست گزاروں کو آئندہ امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی ناکامی کی امید باندھنی چاہیے کیونکہ اس طرح ویزا پر پابندی شاید خود بخود منسوخ ہوجائے گی۔

مزید پڑھیے: کورونا وائرس اور غربت کی چکی میں پستے بھارتی

پھر ایسے ہی دیگر کئی جھوٹے وعدے گنوائے گئے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ بھارت میں کوئی بھی پابندی کے پیچھے چھپی وجہ کو تسلیم کرنا ہی نہیں چاہتا۔ امریکا میں ملازمتوں کی پیداوار و دیگر ایسے معاملات سے جڑے لفظوں کے پیچھے چھپی حقیقت یہ ہے کہ سفید فام قوم پرست امریکی صدر گندمی رنگ کے بھارتیوں کو اپنے ملک درآمد کرنا ہی نہیں چاہتا۔

اپنی اور سفید فام امریکیوں ایک ہی آریہ نسل سے وابستگی ہونے سے متعلق بھارت کی متعدد خام خیالیوں کے باوجود سفید فام قوم پرست انہیں خالص نہیں سمجھتے اور 'صرف سفید فام امریکا' کی تصویر کے لیے انہیں موزوں تصور نہیں کرتے۔

ٹرمپ نے اس اتوار کو ایک ویڈیو ری ٹوئیٹ کی تھی جس میں ایک شخص کو 'وائیٹ پاور' کا نعرہ لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا (جسے بعدازاں انہوں نے ہٹا دیا تھا)، ان کی دلچسپی اس بات میں نہیں ہے کہ کونسا انجینیئر کیا کرسکتا ہے بلکہ وہ صرف سفید فام قوم پرست ووٹ بینک کو خوش رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

کم از کم بھارتیوں کو تو ایسی آرزوئیں سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے چند ماہ قبل امتیازی شہریت بل کو منظور کیا تھا جس کا مقصد مسلمانوں اور دیگر امتیازی سلوک کے شکار گروہوں کو شہریت کے حق سے محروم رکھنا تھا۔ اگر وہ ایک ایسی ہندو قوم پرست ریاست کا خواب دیکھ سکتے ہیں جہاں اقلیتوں پر ناجائز امتیازی قوانین مسلط کیے جاتے ہیں تو پھر ٹرمپ بھی ان کے ملک کا رخ کرنے والے بھارتیوں پر نظر کیوں نہ رکھیں اور اس نظام کو کیوں نہ ختم کریں جو انہیں یہاں آنے میں مدد کرتا ہے۔

مزید پڑھیے: صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت: خطے میں مفادات کے نئے کھیل کا آغاز

کل کو اگر بائیڈن انتظامیہ وجود میں آتی ہے تو بھی روزگار کی بنیاد پر جاری کیے جانے والے ان ویزوں کی ان کی اصل حالت میں بحالی کے زیادہ امکانات نظر نہیں آتے۔ اس کی وجہ اقتصادی صورتحال ہے۔ جب 4 کروڑ 50 لاکھ امریکی بے روزگار ہوں تو ایسے میں سیکڑوں اور ہزاروں بھارتیوں کو امریکا آنے کی اجازت دینا سیاسی طور پر ایک مقبولِ عام فیصلہ ثابت نہیں ہوگا۔

ڈیموکریٹک پارٹی میں انتہائی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد ایسی امیگریشن اصلاحات چاہتے ہیں جن میں توجہ کا مرکز ہنرمند اور باصلاحیت سے زیادہ غریب تارکینِ وطن کو بنایا جائے۔ مختلف لیبر یونینوں کو بھی باہر سے ملازمین لانے کی روایت سے مسئلے ہیں۔ اس کیٹیگری کی ملازمتوں میں امریکی STEM کے گریجویٹوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ سیاستدان یہ ظاہر کرسکیں کہ بے روزگار کو کم کرنے کے لیے وہ حسبِ توفیق سب کچھ کر رہے ہیں۔

اب حالات مکمل طور پر ابتر بھی نہیں ہیں۔ زیادہ تر بھارتی اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں پہلے ہی ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ اس رجحان کا مطلب یہ ہے کہ ملازمین کے لیے اب امریکا میں موجود ہونا اتنا زیادہ ضروری نہیں ٹھہرے گا۔

یقیناً بھارت سے کام کرنے والوں کو بہت ہی کم تنخواہ دی جائے گی البتہ اگر وہی افراد امریکا میں بیٹھ کر کام کرتے تو اس سے کہیں زیادہ تنخواہیں حاصل کرتے۔ بھارتی اپنے قوم پرست ایجنڈے کو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ جوڑنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اب اسی قوم پرست ایجنڈے نے بھارتیوں کو ایسے غیروں میں شامل کردیا ہے جن کے لیے امریکی سرزمین تنگ ہے۔

ٹرمپ اور مودی کے انتخاب کے بعد پہلی مرتبہ بھارتیوں کو اس قیمت کا اندازہ لگانا پڑجائے گا جو انہوں نے ایک ایسے امریکی صدر کی حمایت کے لیے ادا کی تھی جو انہیں نسلی طور پر ادنیٰ تصور کرتا ہے اور انہیں اس ملک سے پاک رکھنا چاہتا ہے جسے وہ سمجھتے ہیں کہ صرف سفید فام عوام کے لیے بنایا گیا ہے۔


یہ مضمون یکم جولائی 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔