لاہور میں 'ڈکیتی' کے دوران لڑکی کا 'ریپ'

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

پولیس  کے مطابق  سی سی پی او لاہور کی ہدایت پر واقعے کی انکوائری جاری ہے —فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
پولیس کے مطابق سی سی پی او لاہور کی ہدایت پر واقعے کی انکوائری جاری ہے —فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

لاہور کے علاقے گجر پورہ میں ڈاکوؤں نے مبینہ ڈکیتی کے دوران کلینک پر کمپاؤنڈر کے طور پر کام کرنے والی 19 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا۔

اس حوالے سے لاہور پولیس نے بتایا کہ سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید کی ہدایت پر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) انکوائری کررہے ہیں۔

پولیس کے مطابق ایس پی، سی آئی اے نے ٹیم کے ہمراہ جائے وقوع کا معائنہ بھی کیا اور کہا کہ ملزمان جلد پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔

لاہور کے گجرپورہ تھانے میں اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کی مدعیت میں درج ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) میں شکایت کنندہ ڈاکٹر محمد انور نے کہا کہ وہ میو ہسپتال میں ایکسرے ٹیکنیشن وارڈ میں ملازمت کرتے ہیں اور سگیاں گاؤں بسم اللہ کلینک کے نام سے پارٹ ٹائم میں اپنا کلینک چلاتے ہیں جس کے اوقات کار شام 6 سے 10 بجے تک ہیں۔

مزید پڑھیں: 12 سالہ لڑکی کو ریپ کے بعد 80 فٹ گہرے کنویں میں پھینک دیا

ایف آئی آر میں شکایت کنندہ نے کہا کہ کلینک پر ان کی 18 یا 19 سالہ ہمسائی بھی کام کرتی ہے جسے وہ اپنے ساتھ کلینک لے کر جاتے اور ساتھ ہی واپس آتے ہیں لیکن یکم جولائی کو جب رات 10 بج کر 20 منٹ پر وہ اپنا کلینک بند کرکے واپس گھر آنے لگے تو سگیاں گاؤں سے تھوڑا آگے کی جانب کرول مکئی کی فصل کے قریب پہنچنے پر کھیت کے دونوں اطراف سے 4 مسلح افراد نے انہیں گھیر لیا۔

شکایت کنندہ نے کہا کہ ڈاکؤوں نے گن پوائنٹ ان کا شناختی کارڈ، موبائل اور پرس چھین لیا اور ان کے ساتھ موجود لڑکی کا پرس بھی چھین لیا جس میں گھر کی چابیاں، 2 عدد سونے کی بالیاں اور 10 ہزار روپے موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سیہون: چیمبر میں لڑکی کا 'ریپ' کرنے والا جوڈیشل مجسٹریٹ معطل

ایف آئی آر کے مطابق 2 ڈاکوؤں نے شکایت کنندہ پر اسلحہ تان کر انہیں روکے رکھا جبکہ 2 ڈاکوؤں نے لڑکی کو ریپ کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکو، لڑکی کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی موٹر سائیکل کی چابی چھین کر فرار ہوگئے۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس شعیب دستگیر نے دوران ڈکیتی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔

انہوں نے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں سندھ ہائی کورٹ نے سیہون میں تعینات جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے مبینہ طور پر شکایت گزار خاتون کا ریپ کرنے پر انہیں معطل کردیا تھا۔

نومبر 2019 میں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے مزدور کی کم عمر بیٹی کو مبینہ طور پر ریپ کر کے 80 فٹ گہرے کنویں میں پھینکنے کے الزام میں ایک نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل راولپنڈی میں ایک 18 سالہ چچا نے اپنی بھتیجی کو ریپ کا نشانہ بنا نے کے بعد گلا گھونٹ کر اس کا قتل کردیا تھا جبکہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

ادھر کرم ایجنسی کے گاؤں پیوار میں اسکول جانے والی 5 سالہ بچی کی لاش تالاب سے ملی تھی، بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ بچی کو قتل کرنے سے قبل ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس سے قبل کراچی کے علاقے ملیر میں پولیس نے 7 سالہ بچی کو دھمکی دے کر جھاڑیوں میں لے جاکر ریپ کا نشانہ بنانے کے الزام میں 16 سالہ لڑکے کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ملک میں کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے ریپ اور بعدازاں قتل کیے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 12 بچے جنسی استحصال کا نشانہ بنتے ہیں۔