سیہون: چیمبر میں لڑکی کا 'ریپ' کرنے والا جوڈیشل مجسٹریٹ معطل

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2020

ای میل

سندھ ہوئی کورٹ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی — فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
سندھ ہوئی کورٹ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی — فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

سندھ ہائی کورٹ نے سیہون میں تعینات جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے مبینہ طور پر شکایت گزار خاتون کا ریپ کرنے پر انہیں معطل کردیا۔

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جوڈیشل مجسٹریٹ کو معطل کر کے فوری طور پر ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی۔

ذرائع کے مطابق گھر چھوڑ کر پسند کی شادی کے خواہشمند جوڑے کو پولیس نے 13 جنوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارت: ریپ کا شکار لڑکی کو عدالت جاتے ہوئے جلادیا گیا

انہوں نے بتایا کہ سیہون پولیس میں شکایت درج کرانے والی لڑکی کو مجسٹریٹ نے اپنے چیمبر میں بلا کر وہاں موجود تمام اسٹاف اور خواتین پولیس اہلکاروں کو جانے کا کہا اور پھر لڑکی کا ریپ کیا۔

ذرائع کے مطابق لڑکی کو طبی جانچ کے لیے سیہون میں سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لایا گیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں جامشورو کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے معاملے کی ابتدائی تحقیقات کیں اور اس بارے میں ہائی کورٹ کو رپورٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: 22 سالہ لڑکی کا ریپ کے بعد قتل، لاش جلادی گئی

اس سلسلے میں تفصیلات جاننے کے لیے جامشورو کے ایس ایس پی امجد شیخ سے رابطہ کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ہفتے کی شام تک معاملے کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی۔


یہ خبر 19جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔