کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش، 6 افراد جاں بحق، بیشتر علاقوں سے بجلی غائب

اپ ڈیٹ 06 جولائ 2020

ای میل

کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کے بعد بجلی بھی غائب ہو گئی — فوٹو: اےایف پی
کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کے بعد بجلی بھی غائب ہو گئی — فوٹو: اےایف پی

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں مون سون کی پہلی بارش ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے خاتون اور بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ شہر کے اکثر علاقوں کی بجلی غائب ہو گئی۔

خیال رہے کہ سندھ کے دیگر علاقوں میں گزشتہ 2 روز سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری تھا اور آج (6 جولائی)کی سہ پہر سے کراچی میں بھی بارش کا آغاز ہوگیا۔

مزید پڑھیں: ملک میں مزید 801 افراد کورونا وائرس کا شکار، اموات 4 ہزار 762 ہوگئیں

کراچی میں لانڈھی، کورنگی، ملیر، گلشن اقبال، گارڈن، آئی آئی چندریگر روڈ، صدر، اولڈ سٹی ایریا، شاہراہ فیصل، لیاری گلستان جوہر سمیت کئی علاقوں میں تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ ہلکی اور تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔

— فوٹو: ٹوئٹر
— فوٹو: ٹوئٹر

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کا سسٹم کراچی میں داخل ہوا ہے جو شہر کے جنوب مشرقی علاقے میں موجود ہے۔

حادثات میں 6 افراد جاں بحق

پولیس، ریسکیو ذرائع اور ہسپتال کے حکام کے مطابق بارش کے نتیجے میں کمسن بچوں اور خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق ملیر کی شمسی سوسائٹی میں گھر کی دیوار گرنے سے ایک 3 سالہ بچی ایشا منور جاں بحق ہو گئی۔

ادھر ایک دوسرے واقعے میں بھی 60 سالہ خاتون گھر کی دیوار گرنے سے جاں بحق ہوگئیں۔

عباسی شہید ہسپتال کے ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر محمد سلیم نے کہا کہ لیاقت آباد کے انگارا گوٹھ میں 60 سالہ خاتون تاجن رزاق گھر کی دیوار گرنے سے جاں بحق ہو گئیں۔

علاوہ ازیں پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق موسلا دھار بارش کے باعث ابراہیم حیدری میں ایک مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں مکان کے رہائشی دو افراد بابر حسین اور خادم حسین جاں بحق ہوگئے۔

علاقہ مکین کمال شاہ نے ڈان کو بتایا کہ علاقے میں ایمبولنس کی سہولت دستیاب نہیں تھی جبکہ علاقے میں کوئی طبی سہولت بھی میسر نہ ہونے کی وجہ سے لاشوں کو رکشے پر ابراہیم حیدری سے سندھ گورنمنٹ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق بارش کے دوران ابراہیم حیدری کے ہی علاقے میں ایک اور مکان کی دیوار گر گئی جس کی زد میں آکر 4 بچے شدید زخمی ہوگئے تھے جنہیں فوری طور پر علاج کے لیے انڈس ہسپتال منتقل کیا گیا۔

تاہم انڈس ہسپتال کی جانب سے انہیں این آئی سی ایچ ریفر کیا گیا جہاں دوران علاج 9 سالہ عمر دین، 7 سالہ ہانیہ نعمان جاں بحق ہوگئے جبکہ 2 ماہ کے معاویہ اور 3 ماہ کی الوشا ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

دوسری جانب شہر میں بارش شروع ہونے کے ساتھ ہی مختلف علاقوں میں بجلی بھی غائب ہوگئی۔

صدر میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں سب سے زیادہ بارش صدر میں 43 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ پی اے ایف بیس فیصل میں 26 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اس کے علاوہ ناظم آباد میں 22 ملی میٹر، اولڈ ایئرپورٹ پر 10 ملی میٹر، پی اے ایف مسرور میں 12 ملی میٹر، جناح ٹرمینل پر 8.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کلفٹن میں 6 ملی میٹر، لانڈھی میں 3.1 ملی میٹر، سرجانی میں 1.2 ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ پر 10.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات نے منگل کے روز صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں مطلع ابر آلود رہنے کے علاوہ کراچی، ٹھٹھہ، بدین، میر پور خاص، اسلام کوٹ ، تھر پارکر، نگر پارکر، حیدرآباد، سانگھٹر، خیرپور، شہید بینظیر آباد، جامشورو اور مٹھی میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔

علاوہ ازیں اس دوران سندھ کے زیریں علاقوں میں موسلادھار بارش کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔

اس سے قبل محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز نے کہا تھا کہ بارشوں کا سسسٹم اس وقت جنوب میں ٹھٹہ اور بدین میں موجود ہے اور انوہں نے ساتھ ہی کراچی میں شام کے وقت آندھی کے بعد گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بارشوں کے پیش گوئی، کرنٹ لگنے سے حادثات کا خدشہ

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں محکمہ موسمیات نے کراچی میں پیر سے بارش کی پیش گوئی کی تھی۔

ڈائریکٹر میٹ کراچی سردار سرفراز نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مون سون کے پہلے اسپیل میں 2 روز تک بارش کا امکان ہے جو بدھ (8 جولائی) کی صبح تک جاری رہے گی اور اس دوران شہر کا درجہ حرارت 39 ڈگری تک جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2 روز کے دوران کراچی میں 30سے 40 ملی میٹر تک بارش کا امکان ہے البتہ شہر میں 50 ملی میٹر بارش ہونے کی صورت میں سیلابی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل بھی محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی تھی کہ سندھ میں مون سون بارشوں کا سسٹم مضبوط ہو گا۔

دوسری جانب کراچی میں بارش کی پیش گوئی کے بعد کرنٹ لگنے سے لوگوں کی جان جانے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی سمیت سندھ بھر میں 6 جولائی سے بارش کی پیش گوئی

کراچی میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے جہاں سیلابی صورتحال پیدا ہونے (اربن فلڈنگ ) کا خدشہ ہے وہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ستائے کراچی کے عوام بارش کی پہلی بوند کے ساتھ بجلی غائب ہونے سے پریشان ہیں۔

علاوہ ازیں کے الیکٹرک کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ آج سے کراچی اور گرد و نواح میں موسلا دھار بارش اور تیز ہوائیں چلنے کے امکانات ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اس دوران بچوں کو گھروں میں رکھیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل یقینی بنائیں۔

اس سے قبل 4 جون کو کراچی میں شدید آندھی اور طوفان کی وجہ سے گرد و غبار کے باعث نصف سے زیادہ شہر کی بجلی غائب ہو گئی تھی جبکہ مختلف حادثات میں 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے تھے۔

شہر کے چند علاقوں میں آندھی کے ساتھ ساتھ بوندا باندی بھی ہوئی جبکہ آندھی چلنے کے نتیجے میں مختلف مقامات پر بڑے بڑے بورڈ، کھمبے اور درخت زمین بوس ہو گئے جبکہ کچھ جگہ بجلی کے تار بھی گر گئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 2019 میں کراچی میں بارشوں کے 2 سلسلوں میں 19 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

بارشوں میں 2014 سے اب تک 73 افراد جاں بحق

خیال رہے کہ 2014 اور 2019 کے درمیان بارش سے متعلقہ واقعات میں 70 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

شہری انتظامیہ، صوبائی حکومت اور کے الیکٹرک کے خلاف شدید تنقید کے باوجود بہت سارے لوگ اس حقیقت سے لاعلم ہیں کہ پچھلے سال کی بارشوں میں ہونے والی 19 ہلاکتیں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا کیونکہ ہر سال مون سون میں شہر کی ناقص بجلی اور سیوریج کا نظام تباہی مچاتا ہے اور درجنوں اموات کا سبب بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کے-الیکٹرک، کراچی میں بارشوں کے دوران 35 میں سے 19 ہلاکتوں کی ذمہ دار قرار

ہسپتالوں کے ذریعہ مرتب کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2014 سے صرف ایک سال 2018 میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی کیونکہ اس سال شہر میں بارش نہیں ہوئی تھی۔

6سالہ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں بارش سے متعلقہ واقعات میں 73 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔