ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ معاہدے کیلئے مذاکرات جاری ہیں، جواد ظریف

اپ ڈیٹ 06 جولائ 2020

ای میل

ایرانی وزیر خارجہ  کے مطابق  جب معاہدہ  ہوجائے گا تو قوم کو آگاہ کردیا جائے گا—فائل فوٹو:اے ایف پی
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق جب معاہدہ ہوجائے گا تو قوم کو آگاہ کردیا جائے گا—فائل فوٹو:اے ایف پی

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جس کی شرائط کا اعلان معاہدہ طے ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے ' اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق جواد ظریف نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں بتایا کہ 'اعتماد اور یقین کے ساتھ ہم ایران کے اہم تجارتی شراکت دار، چین کے ساتھ 25 سالہ تزویراتی معاہدے پر مذاکرات کررہے ہیں'۔

خیال رہے کہ ایرانی خام تیل برآمد کنندگان کے لیے چین ایک اہم مارکیٹ بھی ہے تاہم 2018 میں واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد امریکی پابندیوں کے نفاذ سے تیل کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی پابندیوں اور عالمی وبا کے باعث ایران کیلئے مشکل ترین سال ہے، حسن روحانی

گزشتہ ماہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی جانب سے کسی ملک کے ساتھ مذاکرات کی رپورٹس مسترد کرنے کے بعد چین کے ساتھ معاہدہ ایرانی سوشل میڈیا پر ان دنون زیر بحث ہے۔

تاہم جواد ظریف، جن پر 2015 میں جوہری معاہدے کی وجہ سے تنقید کی گئی تھی، نے کہا کہ چین سے معاہدے کے متعلق ' کچھ خفیہ' نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب معاہدہ ہوجائے گا تو قوم کو آگاہ کردیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ جنوری 2016 میں چینی صدر شی جن پنگ کے تہران کے دورے پر اس حوالے سے اعلان کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے بحران نے ایران کے معاشی مسائل میں اضافہ کردیا ہے جو 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری اور دوبارہ پابندیاں نافذ کرنے کے بعد بدتر ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ 22 جون کو ایرانی ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر چلی گئی تھی۔

چند روز قبل ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی تقریر میں حسن روحانی نے کہا تھا کہ 'دشمن کے معاشی دباؤ اور عالمی وبا کے باعث یہ مشکل ترین سال ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں کورونا سے ہلاکتوں میں کمی، تہران کو جزوی طور پر کھول دیا گیا

انہوں نے کہا تھا کہ 2018 میں شروع ہونے والے معاشی دباؤ کو بڑھادیا گیا ہے اور اب ہمارے پیارے ملک پر سخت ترین دباؤ ہے۔

ایران میں اپریل کے وسط سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق نافذ کی گئی پابندیاں بتدریج ہٹانے کے بعد وبا کے کیسز اور اموات میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔