کراچی میں بارش، کرنٹ لگنے سے حادثات کا خدشہ

اپ ڈیٹ 06 جولائ 2020

ای میل

2019 میں کراچی میں بارشوں کے دو سلسلے میں 19 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ فائل فوٹو:رائٹرز
2019 میں کراچی میں بارشوں کے دو سلسلے میں 19 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ فائل فوٹو:رائٹرز

کراچی: بارشوں کو دنیا کے ہر حصے میں خوشی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور کراچی میں بھی یہ خوشیاں لے کر آتی ہے لیکن طویل عرصے سے نظرانداز ہونے والے میٹروپولیٹن شہر میں یہاں تک کہ بوندا باندی بھی تیزی سے بگڑتے ہوئے انفرااسٹرکچر، بغیر منصوبہ بندی کے علاقوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور شہری اداروں اور مقامی اداروں کی نااہلی کی بدولت اموات اور ہلاکتوں کا باعث بن سکتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق طویل عرصے سے بارشوں کے دوران ہر سال قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہی ہیں تاہم صرف گزشتہ سال ہی معاملات کی نگرانی کرنے والے لوگوں نے ایک تحقیقات کا آغاز کیا تھا جس سے پتا چلا تھا کہ کے الیکٹرک کے علاوہ کوئی اور نہیں جس کی لاپروائی کے نتیجے میں کچھ افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ 2019 میں کراچی میں بارشوں کے دو سلسلوں کے دوران مختلف حادثات میں 19 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: کے-الیکٹرک، کراچی میں بارشوں کے دوران 35 میں سے 19 ہلاکتوں کی ذمہ دار قرار

کراچی میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے وہیں بجلی کی ترسیل کے خراب انفرا اسٹرکچر نے بھی کراچی والوں کو خوف زدہ کردیا ہے جو پہلے ہی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متاثر ہیں۔

شہر میں 10 فیصد بجلی کے کھمبوں پر کام باقی

کیا بجلی کے خراب انفرا اسٹرکچر اور سپلائی کے خراب نظام کی وجہ سے اس مون سون میں کراچی میں کرنٹ لگنے سے کوئی اموات نہیں ہوگی؟ یہاں تک کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) بھی اس اہم سوال کے جواب میں زیادہ پر اعتماد دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

ملک کے بجلی کے نگران ادارے کے ترجمان ساجد اکرم نے کہا کہ 'ہماری نگرانی کرنے والی ٹیم باقاعدگی سے سائٹس کا دورہ کرتی ہے اور تمام آپریشنل سسٹم پر نظر رکھتی ہے'۔

ان سے نیپرا کی جانب سے تلاش کیے گئے کے الیکٹرک کے سسٹم میں ان تمام فالٹ لائنز اور لوپ ہولز کی حیثیت کے بارے میں پوچھا گیا تھا جس کی وجہ سے جولائی اور اگست 2019 میں بارش کے صرف دو سلسلے میں کراچی میں 19 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

جس پر ان کا کہنا تھا کہ 'جب ہم نے گزشتہ سال تحقیقات کیں اور سسٹم میں خامیاں پائی گئیں تو کے ای سے ان تمام امور کو دور کرنے کا کہا گیا'۔

انہوں نے بتایا کہ 'کمپنی کی تعمیلی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بجلی کے کھمبوں کا تقریبا 90 فیصد کام مکمل کرلیا ہے اور باقی 10 فیصد 31 جولائی تک ہو جائے گا لہذا کوئی اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ کیا ہوگا لیکن ظاہر ہے کہ اگر کوئی غلطی ہوئی تو ایک بار پھر نیپرا متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کرے گا'۔

نیپرا نے گزشتہ سال کے الیکٹرک کو باضابطہ طور پر کراچی میں بجلی سے ہونے والی 19 ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: گڑھے میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 3 کم سن بھائی جاں بحق

تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کے ای کو نہ صرف بارش کے دوران بجلی سے ہونے والی 19 ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا بلکہ ایک طویل مدت کے لیے بجلی کے بریک ڈاؤن کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

2014 سے اب تک 73 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں

2014 اور 2019 کے درمیان بارش سے متعلقہ واقعات میں 70 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

شہری انتظامیہ، صوبائی حکومت اور کے الیکٹرک کے خلاف شدید تنقید کے باوجود بہت سارے لوگ اس حقیقت سے لاعلم ہیں کہ پچھلے سال کی بارشوں میں ہونے والی 19 ہلاکتیں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا کیونکہ ہر سال مون سون میں شہر کی ناقص بجلی اور سیوریج کا نظام تباہی مچاتا ہے اور درجنوں اموات کا سبب بنتا ہے۔

ہسپتالوں کے ذریعہ مرتب کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 2014 سے صرف ایک سال، 2018 میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی کیونکہ اس سال شہر میں بارش نہیں ہوئی تھی۔

چھ سالہ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں بارش سے متعلقہ واقعات میں 73 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔