تحریک انصاف کا حکومت سندھ کے خلاف نیب میں جانے کا اعلان

اپ ڈیٹ 12 جولائ 2020

ای میل

فردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں — فوٹو: اسکرین شاٹ
فردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں — فوٹو: اسکرین شاٹ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سندھ حکومت کے خلاف نیب میں شکایت جمع کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ میں جو بھی کام ہوتا ہے اس میں 52فیصد رشوت جاتی ہے۔

کراچی میں حلیم عادل شیخ اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ جب سے حکومت سندھ کو حلیم عادل شیخ نے ایکسپوز کرنا شروع کیا ہے، اس وقت سے حکومت سندھ ان کی دشمن بنی ہوئی ہے، آج کے دور میں ان کے پاس کوئی عذیر بلوچ نہیں ہے ورنہ ان کا تیا پانچہ ہو چکا ہوتا اور اگر آج کوئی عذیر بلوچ مل جائے تو یہ شہید کرائے جا چکے ہوتے، یہاں نہ ہوتے۔

مزید پڑھیں: نیب سے پی ٹی آئی کے کسی رہنما کے خلاف کارروائی کی امید نہیں، سعید غنی

ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی رضوان نے سعید غنی کے بھائی کے خلاف منشیات کی فروخت کے الزامات عائد کیے، امتیاز شیخ پر بھی لگے تھے، اس کو بھی بھول جاتا ہے میڈیا اور پھر ہمیں شکایت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر نے اعلان کیا ہے کہ کوئی کرپشن کرے گا تو وہ پارٹی میں نہیں رہے گا اور اگر کوئی ملک میں کرپشن کرے گا تو وہ بھی نہیں رہے گا اور اس کا ثبوت تو کل ہی دیا ہے کہ ایک آڈیو ریکارڈ آنے پر خیبر پختونخوا میں ایکشن ہو گیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت سندھ میں جو بھی کام ہوتا ہے اس میں 52فیصد رشوت جاتی ہے، اس پر بھی میڈیا کو توجہ دینا چاہیے کہ ایک بل کو پراسیس ہونے میں کونسا محکمہ کتنا فیصد حصہ لیتا ہے۔

فردوس شمیم نے کہا کہ میں پوری سندھ حکومت کے خلاف نیب میں ایک شکایت داخل کراونے جا رہا ہوں کہ انہوں نے سندھ کو برباد کیا، انہوں نے پیسے لوٹے اور اب دیکھنا ہے نیب سندھ کیا ایکشن لے گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ آج بھی اسٹیل ملز چلانے کے لیے تیار ہے، سعید غنی

ان کا کہنا تھا کہ ہم بطور پاکستان تحریک انصاف اس تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے اور خود کو جوڈیشل انکوائری کے لیے پیش کر رہے ہیں البتہ ہم میڈیا ٹرائل کی مذمت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم میڈیا سے اسی معیار کی توقع رکھتے ہیں کہ جب کسی کے خلاف کوئی شکایت ہو گی تو وہ اس کو اتنی ہی کوریج دیں گے جتنی کل حلیم عادل شیخ کو دی گئی۔

اس موقع پر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کل شکایت کی بنیاد پر نیب کا نوٹس نکلا اور ساتھ میں منی لانڈرنگ اور چائنا کٹنگ کے الزامات بتائے جا رہے ہیں حالانکہ نیب کے نوٹیفکیشن میں کہیں بھی منی لانڈرنگ کا ذکر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس زمین کا ذکر ہو رہا ہے، وہ 1991 میں 4 ایکڑ زمین میں نے اپنے نام سے لی، اس پر قرض لے کر پولٹری فارم لگا کر قرض واپس ادا کیا اور اس کی ایک ایک دستاویز موجود ہے۔

مزید پڑھیں: لیاری آپریشن کے بعد پیپلز پارٹی نے عذیر بلوچ کو 5 کروڑ روپے نقد دیے، حبیب جان بلوچ

انہوں نے کہا کہ کراچی کے مضافات میں ہزاروں ایکڑ زمین لیز پر دی جاتی تھی، یہ 80 کی دہائی میں آغاز میں ہوا تھا جس کے تحت پولٹری فارم، ڈیری فارم، زرعی فارم کھولے جاتے تھے، ہم سب سرکاری فیس دینے کو تیار ہیں لیکن 2008 کے بعد ان کے دور میں ٹپی سے بھتہ شروع ہوا جو سرکاری قیمت سے تین گنا زیادہ ہوتا تھا۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہزاروں ایکڑ زمین دی گئی ہے لیکن اس کے اندر ایک تعلقے میں سیکڑوں لوگوں نے ہوٹل، فارم ہاؤس بنائے ہوئے ہیں، اس میں پیٹرول پمپ، ایک ہزار ایکڑ پر سیمنٹ فیکٹری بنی ہوئی ہے لیکن ان میں سے کسی کے خلاف اینٹی کرپشن نے رپورٹ نہیں بنائی اور اس سب کی موجودگی کے باوجود حلیم عادل کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھے نشانہ بنانے کی وجہ یہ ہے کہ جنوری 2018 میں ہم نے اومنی گروپ کے خلاف ریلی نکالی تھی اور 20 جنوری کو اینٹی کرپشن میرے پیچھے لگ گیا اور اس کے بعد 19جنوری 2019 تک اینٹی کرپشن میرے پیچھے پڑا رہا، اینٹی کرپشن نے میرے خلاف بہت بڑا پلندہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف اینٹی کرپشن کو استعمال کیا گیا، اینٹی کرپشن سے رپورٹ میرے خلاف تیار کرائی گئی اور اس رپورٹ کو سب میں تقسیم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عذیر بلوچ سے پی ٹی آئی سمیت ہر سیاسی جماعت کا رابطہ تھا، سعید غنی

تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ ہمارا دامن صاف ہے اور ہم نے اسی لیے آج اپنے آپ کو میڈیا کے سامنے پیش کیا ہے اور جب بھی نیب بلائے گا تو ہم ضرور پیش ہوں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا تھا اور نیب کی جانب سے حلیم عادل شیخ کے خلاف انکوائری سے متعلق ڈپٹی کمشنر ملیر کو خط لکھ دیا گیا تھا۔

نیب نے 253 ایکڑ سرکاری زمین کی غیر قانونی فروخت سے متعلق ریکارڈ طلب کرتے ہوئے خط کے ذریعے حلیم عادل شیخ کے فارم ہاؤسز سمیت دیگر دستاویزات بھی طلب کر لی تھیں۔