'مویشی منڈیوں کے اوقات کار صبح 6 سے شام 7 بجے تک ہوں گے'

ای میل

اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب، وفاقی وزیر داخلہ و دیگر نے بھی شرکت کی—فوٹو: حکومت پاکستان
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب، وفاقی وزیر داخلہ و دیگر نے بھی شرکت کی—فوٹو: حکومت پاکستان

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے چیئرمین اور وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کی مناسبت سے مویشی منڈیاں شہر سے باہر لگائی جائیں گی جبکہ مویشی منڈی کے اوقات کار صبح 6 سے شام 7 بجے تک ہوں گے۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں این سی او سی کا خصوصی اجلاس اسد عمر کی صدر صدارت ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیر (ر) اعجاز شاہ، صوبائی وزیر راجا بشارت، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد و دیگر حکام نے شرکت کی جبکہ صوبائی چیف سیکریٹریز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس میں ملک میں مویشی منڈیوں کے انتظامات اور عیدالاضحیٰ پر اجمتاعی عبادات سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

دوران اجلاس عیدالاضحیٰ کے حوالے سے مویشی منڈیوں اور نماز عید کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ملک بھر میں 700 کے قریب مویشی منڈیاں لگائی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: عیدالاضحیٰ کی نماز کیلئے عیدالفطر والے ایس او پیز ہوں گے، وزیر داخلہ

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس سلسلے میں صحت سے متعلق ضروری ہدایات صوبوں اور انتظامی اداروں کو جاری کردی گئی ہیں۔

اس موقع پر این سی او سی کے چیئرمین اسد عمر نے کہا کہ مویشی منڈیوں کا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) کے تحت اہتمام بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں سے شہر میں جانور فروخت کرنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں، لہٰذا مویشی منڈیاں شہر سے باہر لگائی جائیں گی اور شہر کے اندر ان کی اجازت نہیں ہوگی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ مویشی منڈیوں سے متعلق صحت کے ضابطہ کار اور گائڈ لائنز سب کے ساتھ شیئر ہوں گی، اس سلسلے میں مقامی انتظامی کو عیدالاضحیٰ کے حوالے سے ٹاسک سونپ دیے گئے ہیں۔

چیئرمین این سی او سی کا کہنا تھا کہ مویشی منڈی کے اوقات کار صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک ہوں گے جبکہ خریداروں کی سختی سے اسکریننگ کی جائے گی اور فیس ماسک اور سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مقرر حد سے زیادہ سے لوگوں کو منڈی آنے کی اجازت نہیں ہوگی، منڈیوں کی تعداد کو بڑھایا جائے گا۔

این سی او سی کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عیدالاضحیٰ پر نمازوں کے لیے عیدالفطر کے پلان کی پیروی کی جائے گی۔

این سی او سی کے اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں 30 ایسے شہر ہیں جہاں پر کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ دیکھی گئی۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ملک بھر میں اس وقت 321 مقامات اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت بند ہیں۔

مزید برآں اجلاس کے دوران حکومت پنجاب کے انسداد کورونا کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

اسد عمر نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ صوبے میں کورونا کی روک تھام اور صحت کی سہولتوں کے پنجاب کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا عیدالاضحیٰ پر انفرادی قربانی کو محدود کرنے پر غور

انہوں نے کہا کہ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے سخت مانیٹرنگ پر بھی اتفاق کیا گیا، ساتھ ہی وہ بولے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے ایس او پیز پر سختی سے نظر رکھی جائے گی اور عید الاضحیٰ کے حوالے سے بھی ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔

لاہور میں مویشی منڈیاں شہر سے 5 کلومیٹر دور لگائی جائیں گی، صوبائی محکمہ داخلہ

دوسری جانب پنجاب کے محکمہ داخلہ نے عیدالاضحیٰ پر مویشی منڈیاں لگانے کے حوالے سے گائڈ لائنز جاری کردیں۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے ہدایات پر عملدرآمد کے لیے سیکریٹری بلدیاتی حکومت کو لکھے گئے مراسلے کے مطابق عید قربان سے کم سے کم 15 روز قبل مویشی منڈیاں آپریشنل کر دی جائیں۔

مراسلے میں کہا گیا کہ مویشی منڈیاں شہر سے کم سے کم 5 کلو میٹر باہر لگائی جائیں جبکہ مویشی منڈیوں میں کورونا وائرس کے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ شہر کی حدود میں کسی قسم کے بھی قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت نہ کرنے پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے جبکہ مویشی منڈیوں کا حجم اور رقبہ گزشتہ سال کے مطابق رکھا جائے۔

محکمہ داخلہ کے مراسلے کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منظور شدہ منڈیوں کے علاوہ کسی بھی مویشی منڈی کے قیام کو سختی سے روکا جائے، مزید یہ کہ مویشی منڈیوں میں کانگو وائرس کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق عید الاضحیٰ کی نماز میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اس کے علاوہ عید پر جانوروں کی آلائشیں ٹھکانے لگانے کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دی جائے۔

ادھر لاہور کی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے شہر میں 12 مویشی منڈیاں لگانے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔

یہ منڈیاں شہر سے 5 کلو میٹر کے فاصلے پر لگائی جائیں گی اور ان میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا لازمی ہوگا۔

پشاور میں مویشی منڈیاں لگانے کے حوالے سے ضابطہ اخلاق جاری

علاوہ ازیں صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مویشی منڈیاں لگانے کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کردیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق شہری علاقوں میں مویشی منڈیاں لگانے پر پابندی ہوگی جبکہ میونسپل حدود میں بھی منڈیاں لگانا منع ہوگا۔

مزید پڑھیں: عید الاضحیٰ، مویشی منڈیاں اور حیرت انگیز جانور

اس کے علاوہ رنگ روڈ کے اندر جانوروں کی خرید و فروخت پر بھی پابندی ہوگی جبکہ مویشی منڈیوں کے اندر حفاظتی ماسک کے بغیر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مذکورہ ضابطہ اخلاق کے مطابق 10 سال سے کم اور 50 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو منڈیوں میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جبکہ مویشی منڈی کا کنٹریکٹر محکمہ لوکل گورنمنٹ کے پلان کے مطابق منڈی لگائے گا۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق مویشی منڈی میں حکومتی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا، خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی ہوگی۔